عدلیہ کا اختیار محدود کیا تو آمر آئین کا حلیہ بگاڑ دیگا : جسٹس افتخار

29 جولائی 2010
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + آن لائن + جی این آئی) عدالت عظمیٰ نے اٹھارہویں ترمیم کی چند شقوں کے خلاف درخواستوں کی سماعت آج تک ملتوی کرتے ہوئے ایک بار پھر وفاق سے آئینی اصلاحاتی کمیٹی کے تمام اجلاسوں کی کارروائی اور کمیٹی میں پیش ہونے والی 980 تجاویز کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے اور اٹارنی جنرل کی سرزنش کرتے ہوئے عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ تمام عوامی دستاویزاتی ریکارڈ ہے آپ کو تو اسے بارروم میں بھی رکھنا چاہئے تھا لیکن ابھی تک وفاق نے آئینی کمیٹی میں پیش ہونے والے ریکارڈ کو عدالت میں جمع نہیں کرایا۔ جی این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا اگر عدلیہ کا اختیار محدود کیا تو کل پھر کوئی آمر آ کر آئین کا حلیہ بگاڑے گا اور عدالت خاموش تماشائی بنی رہے گی جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا عدلیہ نہیں چاہتی کہ نازک معاملات کے فیصلے سڑکوں پر ہوں۔ نمائندوں نوائے وقت / آن لائن کے مطابق دوران سماعت چیف جسٹس نے قرار دیا کہ رات کے اندھیرے میں ایک آمر سب کچھ مفلوج کرتے ہوئے پورے ملک پر قبضہ کر لیتا ہے اور عدالت اس کی توثیق کر دیتی ہے ماضی میں ہمارے ملک میں بہت کچھ ہوتا رہا ہے اور عدالتیں فوجی حکمرانوں کی توثیق کرتی رہی ہیں ملک میں مخصوص حالات ہیں اس لئے ہم نے اکتیس جولائی کے فیصلے میں گذشتہ عدالتی فیصلوں کو ختم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں پارلیمانی نظام حکومت مضبوط ہو اور ہم نے اس نظام کو مضبوط بنانا ہے اور موجودہ پارلیمنٹ نے بھی تمام اختیارات وزیراعظم کو واپس کر دیئے ہیں جبکہ مارشل لاءمیں پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام نافذ کر دیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا مارشل لا لگانے والوں نے ہمیشہ پہلا حملہ آئین کے بنیادی ڈھانچے پر کیا اور پارلیمانی نظام کو صدارتی میں تبدیل کر دیا۔ عدالتی نظرثانی کے اختیار کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا عوام کی خواہش نظرانداز ہو تو فیصلے سڑکوں پر ہوتے ہیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا یہ دلیل درست نہیں کہ پارلیمنٹ کوئی غلطی نہیں کر سکتی۔ حکومتی وکیل وسیم سجاد نے بدھ کو بھی اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا ججوں کی تقرری ایک بھاری ذمہ داری ہے اس لئے جوڈیشل کمشن کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے سربراہ خود چیف جسٹس ہوں گے جبکہ اس میں دو سینئر ترین اور ایک ریٹائر جج ہو گا۔ اس طرح ججوں کی تقرری صحیح طریقے سے ہو گی اور اہل ججوں کا تقرر ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں مگر ان کی نمائندہ پارلیمنٹ ہے جو قانون سازی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا آئینی اصلاحاتی کمیٹی کو عوامی مینڈیٹ حاصل تھا اور اسے عوامی رائے کا بھی علم تھا۔ آرٹیکل 2A میں بھی ترمیم ہو سکتی ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا قرارداد مقاصد کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جب تک پارلیمنٹ اسے خارج نہیں کرتی یہ آئین کے ساتھ شامل رہے گی۔ جسٹس شاکر اللہ جان نے کہا قرارداد مقاصد پر مبنی آرٹیکل 2A دیپاچے میں شامل رہے گی۔ وسیم سجاد نے کہا بنیادی ڈھانچے سمیت آئین کے ہر حصے میں ترمیم ہو سکتی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا عدالتی نظرثانی کے اختیارات محدود ہوئے تو پھر کوئی بھی آمر آئین کا حلیہ بگاڑتے ہوئے مارشل لا لگا لے گا اور عدالتیں خاموش رہیں گی۔ وسیم سجاد نے کہا پارلیمنٹ کی غلطی کا ازالہ صرف عوام ہی کر سکتے ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا اس صورت میں ہنگامہ آرائی اور انقلاب کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ وسیم سجاد نے کہا غلط ترمیم پر عوام پارلیمنٹ کے ارکان کو آئندہ انتخابات میں تبدیل کر دیں گے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا اس صورت میں فیصلے سڑکوں پر ہوتے ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا پارلیمنٹ کو پہلے اس بات کا تعین کرنا چاہئے تھا کہ وہ کن امور کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا قانون بناتے وقت اس بات کو مدنظر رکھا جاتا ہے غلطی کی گنجائش نہ رہے۔ آئین میں آرٹیکل 8 شامل کر کے پارلیمنٹ کو بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی سے روکا گیا۔ پارلیمنٹ سے غلطی کا احتمال نہ ہوتا تو یہ آرٹیکل نہ رکھا جاتا۔ وسیم سجاد نے کہا دوتہائی کی شرط غلط ترمیم کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا مخصوص حالات میں قانون کا ارتقا ہوتا ہے اور اسے مزید بہتر بنایا جاتا ہے۔ جسٹس ناصر الملک نے فاضل وکیل سے کہا آپ ایسی کوئی مثال پیش کریں کہ عدالت نظرثانی نہیں کر سکتی۔ وسیم سجاد کے دلائل جاری تھے‘ وقت ختم ہونے پر سماعت آج تک کے لئے ملتوی کر دی۔ اس سے قبل سینئر وکیل احمد رضا قصوری نے عدالت کی توجہ طیارہ حادثے کی جانب دلاتے ہوئے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آج ایک بجے سماعت ملتوی کر دیں گے اور ایسا ہی کیا گیا۔ عدالت نے پارلیمانی کمیٹی کو موصول 980 تجاویز دوبارہ طلب کر لی ہیں۔ عدالت نے تاحال تجاویز نہ دینے پر اٹارنی جنرل پر برہمی کا بھی اظہار کیا۔