جی ایس ٹی کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل‘ صوبے متنازعہ امور بات چیت حل کرنے پر متفق

29 جولائی 2010
اسلام آباد (ایجنسیاں) وزیراعظم یوسف گیلانی سے بدھ کے روز وزیراعلی پنجاب شہباز شریف ‘ وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ اور وزیراعلی خیبر پی کے امیر حیدر ہوتی نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ مارکیٹ میں فوڈ آئٹمز بالخصوص اشیائے ضروریہ کی قیمتوں مں استحکام کیلئے مانیٹرنگ کمیٹیوں کو فعال اور متحرک کیا جائے‘ امن وامان کے حوالے سے خصوصی اقدامات کئے جائےں ۔ وزیر اعظم نے صوبوں کو این ایف سی ایواڈ کے اضافی وسائل ملنے پر عوام کی فلاح بہود کے لئے مزید اقدامات کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں خاطر خواہ کامیاب ہوئی ہے جبکہ مائیکرو اکنامک استحکام نے ملکی معیشت کو ترقی کی جانب گامزن کردیا ہے تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اضافی وسائل حاصل کرنے کے لیے نئے ذرائع تلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے‘ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے پہلے دو سالوں میں اقتصادی ترقی کے بڑے اہداف حاصل کرلئے ہیں زر مبادلہ کے ذخائر قابل اعتماد حد تک پہنچ چکے ہیں جن میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ وزرائے اعلیٰ نے آمدنی کے اضافی ذرائع پیدا کرنے کے لیے وفاق کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔ آئی این پی کے مطابق وزیراعظم نے مزید کہا حکومت کی مفاہمت کی پالیسی کامیابی سے چل رہی ہے۔ تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کئے جاتے ہیں اور وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا موجود ہے۔ دریں اثنا وزےراعظم نے وزارت پٹرولےم وقدرتی وسائل کو ہداےات جاری کی ہےں کہ عام آدمی کی مشکلات کم کرنے کےلئے گےس کی طلب ورسد مےں موجود فرق کو کم کےا جائے جبکہ توانائی کی ضرورےات بالخصوص پاور سےکٹر کو گےس کی فراہمی کےلئے بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ ےہ ہداےات انہوں نے وفاقی وزےر نوےد قمر کو جاری کےں۔
اسلام آباد (آن لائن + اے پی پی) چاروں صوبوں نے جی ایس ٹی کی اصولی اصلاحات سمیت وفاق اور صوبوں کے مابین تمام حل طلب معاملات بات چیت کے ذریعے باہمی تعاون و متفقہ لائحہ عمل کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کر لیا جبکہ وزیراعظم نے جی ایس ٹی کی وصولی طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لئے وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی جس میں فنانس سیکرٹری اور چاروں صوبوں کے ماہرین بھی شامل ہوں گے یہ کمیٹی جی ایس ٹی ریفارمز کے حوالے سے اپنی رپورٹ پندرہ دن میں تیار کر کے وزیراعظم کو دے گی۔ اس بات کا فیصلہ بدھ کے روز وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ‘ وزرائے خزانہ اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے تمام صوبائی حکومتوں سے درخواست کی کہ موجودہ اقتصادی صورتحال میں وفاقی حکومت کے اختیار کردہ کفایت شعاری اقدامات کو اختیار کیا جائے۔ ان اقدامات میں تنخواہوں کے علاوہ تمام اخراجات کو منجمد کرنا ایسے منصوبے جن پر 70 فیصد کام ہو چکا ہے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنا اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت رقوم کی تقسیم اور اخراجات میں سخت مالیاتی نظم و ضبط قائم کرنا شامل ہے۔