A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

اسلام آباد اور کراچی ایئرپورٹ پر رقت آمیز مناظر

29 جولائی 2010
اسلام آباد + کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک + سجاد ترین سے + نمائندہ خصوصی + سٹاف رپورٹر + ایجنسیاں) بد قسمت طیارے میں سوار افراد کے رشتہ دار خبر سنتے ہی اسلام آباد ائر پورٹ پر اکٹھے ہوگئے اور اپنے پیاروں کو یاد کرکے روتے رہے۔ ائر پورٹ پر طیارہ گرنے کی خبر آتے ہی سوگوار ماحول طاری ہوگیا اورہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔ اسلام آباد اور کراچی ائرپورٹ پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے اور لواحقین شدت غم سے روتے رہے اور حادثے کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اسلام آباد اور کراچی ائر پورٹس پر فضا انتہائی سوگوار رہی۔ نجی ٹی وی کے مطابق 22 نعشیں ورثاءکے حوالے کر دی گئیں جبکہ جن نعشوں کی شناخت نہیں ہوئی ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد واپس کیا جائےگا۔ عینی شاہدین کے مطابق طیارہ نچلی پرواز کرتے ہوئے پہاڑی سے ٹکرا گیا۔ وفاقی دارالحکومت میں بعد تمام دن فضاءسوگوار رہی اسلام آباد کے بےنظیر بھٹو انٹرنیشنل ائرپورٹ پر اپنے پیاروں کو لینے کے لئے آنے والے حادثہ کی خبر سن کر غمزدہ ہو گئے شہر کے تمام ہسپتالوں کے باہر لوگ نوح خوانی کرتے ہوئے نظر آئے۔ المناک حادثے نے مختلف سوالات کو بھی جنم دیا ہے کہ آخر یہ جہاز نو فلائی زون ائریا میں کیسے داخل ہوا اور 18 منٹ راڈار سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد جہاز کے اندر کیا کچھ ہوا یہ تو بلیک باکس سے ہی معلوم ہو سکے گا لیکن وفاقی دارالحکومت کے حلقے اس بات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ جہاز دہشت گردی کی نذر تو نہیں ہو گیا اس پہلو پر وزارت داخلہ کے لوگ بھی غور کر رہے ہیں۔ حادثہ کے بعد سب سے پہلے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو وزیر داخلہ رحمان ملک نے اطلاع دی۔ کراچی ایئرپورٹ پر بھی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے جہاں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین صبح سے شام تک اسلام آباد جانے کے انتظار میں بیٹھے رہے جو کہ غم سے نڈھال تھے اور ان کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی ۔ جاں بحق ہونے والوں کے ورثا کو ایئر بلیو نے بدھ کی شام 4 بجے اسلام آباد جانے کا اعلان کیا تھا لیکن طیارہ رات کو روانہ نہیں ہوسکا۔ امدادی طیارے کی روانگی میں تاخیر پر مسافروں کے لواحقین او ر ایئر بلیو کے عملے میں تلخ کلامی ہوئی ۔ ایئر بلیو نے پہلے شام 4 بجے امدادی پروازیں چلانے کا اعلان کیا تھا لیکن بعدمیں کہا گیا کہ عام پرواز سے لے جایا جائے گا اور جب تمام مسافر آجائیں گے تو طیارہ روانہ ہوگا۔ طیارے کی روانگی میں تاخیر پر مسافروں کے لواحقین نے احتجاج کیا اور کہا کہ ایئر بلیو ہمارے دکھوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ مسافروں کے لواحقین نے کہا کہ ہم 3 بجے پہنچ گئے تھے اور اسلام آباد جانے کے لئے صبح 10 بجے سے انتظار میں کھڑے ہیں۔ طیارے کے حادثے کے بعد جاں بحق ہونے والے مسافروں کے لواحقین اور ایئربلیو کے افسران کے درمیان دن بھر مکالمے ہوتے رہے۔ عینی شاہد نجمی منور نے بتایا کہ طیارہ نچلی پرواز کرتے ہوئے پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔ اخبار پڑھ رہا تھا طیارے کے گرتے ہی زوردار آواز سنائی دی اور فضاءمیں دھواں پھیل گیا عینی شاہد ساجد نے کہا کہ جس وقت جہاز مارگلہ پر گرا وہاں بہت شدید بارش تھی۔ طیارہ مارگلہ پہاڑیوں پر جاکر ایک دم بائیں طرف مڑنے لگا اور تباہ ہو گیا۔