کراچی سے اسلام آباد آنیوالا ائربلیو کا طیارہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ‘ 152 مسافر جاں بحق

29 جولائی 2010
اسلام آباد + لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے + وقائع نگار خصوصی + خصوصی نامہ نگار + خبر نگار + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) نجی فضائی کمپنی ایئربلیو کا مسافر طیارہ وفاقی دارالحکومت میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں سوار تمام 152 افراد جاںبحق ہو گئے۔ فضائی حادثہ بدھ کو صبح کے وقت 9 بجکر 42 منٹ پر پیش آیا۔ طیارہ ہری پور کی جانب سے شاہ فیصل مسجد کے مدمقابل مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر بکھر گیا اور ہر طرف جہاز کا ملبہ اور انسانی اعضاءبکھر گئے۔ ریسکیو 1122 سمیت امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ ہوئیں لیکن پہاڑی مشکل اور پیدل راستہ ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آرمی کے پانچ ہیلی کاپٹروں نے فوری طور پر امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ حادثہ کی تحقیقات کرنے کے لئے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایئرکموڈور خواجہ مجید امجد کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم بنا دی گئی ہے جو اس فضائی حادثہ کی انکوائری کرے گی۔ بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایئر بلیو پرواز کو لینڈنگ کرنا تھی لیکن وہ اس سے کچھ دیر قبل حادثہ کا شکار ہوگیا۔ طیارے میں سوار مسافروں کے عزیز و اقارب ان کو لینے کے لئے ایئرپورٹ پر موجود تھے لیکن اس حادثہ کی اطلاع کے ساتھ ہی بےنظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سوگوار ہو گیا اور اس طیارہ میں سوار عملہ اور مسافروں کے عزیز و اقارب آہوں اور سسکیوں کے ساتھ ایئرپورٹ پہنچنا شروع ہو گئے۔ بےنظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسلام آباد میں لوگ دھاڑیں مار کر روتے رہے جبکہ ایئر بلیو ایئر لائن کے دفتر میں بھی عملہ اس حادثہ پر زارو قطار روتا رہا۔ بدھ کو صبح 9 بجکر کر 42 منٹ کے قریب ایئر بلیو کا طیارے EO-202 کراچی سے 152 افراد کو لے کر اسلام آباد پہنچا‘ یہ طیارہ اسلام آباد ایئرپورٹ میں لینڈنگ کا سگنل ملنے پر مارگلہ کے پہاڑوں سے پوزیشن لیتے ہوئے ہری پور کی جانب سے اسلام آباد کی حدود میں مارگلہ کے پہاڑ سے ٹکرا گیا جس کے ساتھ ہی ہر طرف دھوئیں کے بادل پھیل گئے اور طیارہ کا ملبہ اور انسانی اعضاءدور دور تک بکھر گئے۔ اس حادثہ کے وقت وفاقی دارالحکومت کی فضاءمیں گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ یہ حادثہ فنی خرابی کا نتیجہ ہے یا اچانک حادثہ اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اس المناک فضائی سانحہ کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور اس حادثہ میں جاں بحق افراد کی نعشیں اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے لئے ایمولینس گاڑیوں کی بہت بڑی تعداد فیصل مسجد اور دامن کوہ کے علاقوں میں پہنچا دی گئیں۔ ایک خاتون نے اپنے موبائل سے ٹیلی فون کر کے اسلام آباد پولیس کو مدد کے لئے پکارا۔ ایئر بلیو کا طیارہ مارگلہ کے پہاڑ کے اس حصے سے ٹکرایا جو دامن کوہ جانے والی سڑک کے بالکل سامنے فیصل مسجد کے مدمقابل ہے جہاں گہری گھاٹیاں ہیں اور امدادی ٹیموں کو جائے حادثہ تک پہنچنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کنٹرول ٹاور اسلام آباد ایئرپورٹ پر اس طیارے کی لینڈنگ کا سگنل دیا گیا تھا جس کے لئے طیارہ کو لینڈنگ کرنے کی اجازت کے بعد یہ حادثہ رونما ہو گیا۔ پورا وفاقی دارالحکومت کی فضا اس سانحہ پر سوگوار ہے ۔ اسلام آباد کے شہری جائے وقوعہ پر پہنچنا شروع ہو گئے۔ مارگلہ کے پہاڑ کی آبادیوں اور سیدپور سے بھی لوگ بڑی تعداد میں امدادی کارروائیوں میں مدد کے لئے پہنچے۔ پولیس نے اس حادثہ کے بعد مارگلہ روڈ سے دامن کوہ جانے والے تمام راستے بند کر دیئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 8 بچے، 14 خواتین اور ایک ہی خاندان کے 9 افراد شامل ہیں۔ آخری اطلاعات تک ملبے سے 115 نعشیں نکال لی گئی تھیں۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ حادثہ موسم کی خرابی کے باعث پیش آیا۔ طیارے میں عملے کے 6 ارکان‘ یوتھ پارلیمنٹ کے وزیراعظم اور 6 ارکان بھی سوار تھے۔ وزارت داخلہ نے کرائسس مینجمنٹ سیل میں رابطہ آفس قائم کر دیا ہے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں پیدل جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کی امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر بھیجی گئیں۔ پاک فوج کے تین ہیلی کاپٹروں نے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا ریسکیو کارروائیوں کے لئے پاک فضائیہ سے بھی امداد طلب کی گئی۔ پاک فضائیہ کے ترجمان کے مطابق آگ بجھانے کے لئے فائر ایئر کریش ٹینڈر بھجوائے گئے۔ دو کمانڈوز‘ 2 پی اے ایف پولیس اور 3 میڈیکل ٹیموں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ طیارے کا پائلٹ پرویز اقبال چودھری اور فرسٹ آفیسر مجتہدین چغتائی تھے۔ ایئر ہوسٹسز میں ام حبیبہ‘ حنا عثمانی‘ شازیہ رزاق اور ناہید بھٹی شامل تھیں۔ اسلام آباد میں وقفے وقفے سے بارش اور خراب موسم کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا رہا۔ اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی‘ عملے کو الرٹ کر دیا گیا۔ ایئرپورٹ پر انتظار کرنے والے مسافروں کے لواحقین حادثے کی بری خبر سنتے ہی دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ اسلا م آباد ایئرپورٹ پر کہرام مچ گیا‘ قیامت صغریٰ کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ ایئر بلیو کے ترجمان کے مطابق طیارے میں 139 بالغ مسافر اور 7 بچے تھے۔ امریکی سفارتخانہ کے مطابق طیارے میں 2 امریکی شہری بھی سوار تھے۔ مسلم لیگ (ن) سندھ کے رہنما غنی سریانی بھی حادثہ میں جاںبحق ہوئے۔ شاہ پور چاکر سے نامہ نگار کے مابق ایئر بلیو حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں قریبی قصبے جھول کا رہائشی 28 سالہ پریم چند بھی شامل ہے جس کا تعلق ایک مقامی این جی او سے ہے اور اسی سلسلے میں اسلام آباد جا رہا تھا۔ پریم چند کے متعلق پتہ چلا ہے کہ وہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا اور خاندان کا واحد کفیل ہے۔ راولپنڈی سے نوائے وقت رپورٹ کے مطابق حادثے میں جاںبحق ہونے والوں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) ضلع اٹک کے امیر‘ مدرسہ سراج العلوم اور جامع مسجد جنڈ کے خطیب مولانا نواب الحسن شامل ہیں۔ ان کی میت کی شناخت اور تلاش کے لئے جے یو آئی (ف) کے صوبائی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قاری عتیق الرحمن دیگر ساتھیوں کے ساتھ پمز اسلام آباد میں پہنچ گئے ہیں۔ 50 سالہ مولانا نواب الحسن نے سوگوار لواحقین میں بیوہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ وہ گذشتہ 20 سال سے جنڈ میں خطابت اور درس و تدریس کے فرائض ادا کر رہے تھے۔ وہ گذشتہ ہفتے اپنے اعزہ و اقارب سے ملاقات کے لئے کراچی گئے تھے۔ پرسوں ان کی فون پر ڈاکٹر عتیق الرحمن سے بات ہوئی تو کراچی سے واپسی پر جے یو آئی ضلع اٹک کا اجلاس بلانے کا ذکر کیا مگر موت نے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہونے دی۔ سی ڈی اے نے نعشوں کے لئے 200 بیگز اور تابوتوں کا اہتمام کیا ہے۔ پاکستان مےں قائم علامتی قانون ساز ادارے (ےوتھ پارلمےنٹ) کے وزےر اعظم سمےت چھ پارلمےنٹرےن جاںبحق ہونے والوں کا تعلق سندھ سے تھا اور وہ بدھ کے روز ےوتھ پارلےمنٹیرےنز کے الوداعی اجلاس مےں شرکت کے لےے کراچی سے اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ ائےر بلیو کی پرواز کے ذرےعے کراچی سے اسلام آباد آنے والے ےوتھ پارلےمنٹ کے وزےر اعظم حسن جاوےد خان، سےدہ رباب زہرہ نقوی، پرےم چند، سےد ارسلان احمد، اوےس بن لائق اور بلال جامی ان بدقسمت افراد مےں شامل ہےں جو ےوتھ پارلےمنٹرےنز کے 5 روزہ الوداعی سےشن مےں شرکت کے لئے اسلام آباد آ رہے تھے جبکہ دو پارلےمنٹرےن شماسر علوی اور خضر پروےز وقت پر نہ پہنچنے پر جہاز مےں سفر نہےں کر سکے تھے۔ حسن جاوےد کا تعلق حےدر آباد سے تھا اور وہ پےشے کے اعتبار سے بےنکر تھے‘ کراچی مےں اےک غےر ملکی بنک کے شعبہ آر پی بی مےں کلےدی عہدے پر خدمات سرانجام دے رہے تھے حسن جاوےد کی عمر چھبےس سال تھی انہوں نے انوسمنٹ اور فنانس مےں کوےن مےری ےونےورسٹی (لندن) سے ماسٹر ڈگری حاصل کی لند ن قےام کے دوران وہ ےونےورسٹی آف سکواش لےگ میں بھی کھےلتے رہے ہےں وہ رائل بےنک آف سکاٹ لےنڈ کراچی ٹےم کے ہےڈ بھی تھے انہےں سماجی تنظےم کی جانب سے پاکستان مےں نوجوانوں کے علامتی قانون ساز ادارے (ےوتھ پارلےمنٹ) کے وزےر اعظم کی حثےت سے منتخب کےا گےا تھا حادثے کا شکار ہونے والی بےس سالہ سےدہ رباب زہرہ نقوی ےوتھ پارلےمنٹ کی وزےر تھےں انہوں نے جی سی ای سے او لےول جبکہ حال ہی مےں لندن سکول آف اکنا مکس سے بی اےس سی کی ڈگری حاصل کی وہ طالب علمی کے دور سے اہم پوزےشنز پر فائز رہےں۔ تےسرے ےوتھ پارلےمنٹرےن اوےس بن لائق کا تعلق بھی سندھ کے شہر کراچی سے تھا بائےس سالہ اوےس نے جی سی ای او اےنڈ اے لےول کےاتھا بعدازاں بزنس کی تعلےم کے لئے انہوں نے آئی بی اے کراچی کو جائن کےا اور آئی بی اے سے بےچلر ڈگری حاصل کی۔ وہ اےک پےپر مل مالک کے صاحبزادے تھے اوےس نے تعلےمی مقاصد کے لئے بھارت، اےران، زمبابوے اور عرب امارات کے تعلےمی دورے بھی کئے۔ ےوتھ پارلےمنٹ کے واحد اقلےتی رکن پرےم چند کا تعلق سندھ کے شہر سانگھڑ سے تھا پرےم اپنے والدےن کا اکلوتا بےٹا تھا جس کی دو سال قبل شادی ہوئی تھی چھبےس سالہ پرےم چند کراچی ےونےورسٹی سے اےم اے سوشل ورک کے طالب علم اور سماجی کارکن تھے اور ےوتھ پارلےمنٹ کے اقلےتی وزےر کی حثےت سے پاکستان مےں نوجوانوں کے لئے تعلےم، صحت اور بنےادی حقوق کے لےے اصلاحات کے حوالے سے کام کرنے مےں دلچسپی رکھتے تھے۔ ےوتھ کے رکن بائےس سالہ سےد ارسلان احمد نے ٹےکسٹائل کے شعبے مےں بےچلر ڈگری حاصل کر رکھی تھی سندھ کے حلقہ 05 ےوپی سے منتخب ہوئے تھے۔ تےس سالہ نوجوان بلال جامی کا تعلق بھی کراچی سے تھا اور وہ جامعہ کراچی کے اےم اے شعبہ ماس کمےونےکےشن کے سال دوئم کے طالب علم تھے اور بہترےن نوجوان مقرر تھے جنہوں نے کراچی سطح پر تقرےری مقابلوں مےں اولےن پوزےشن حاصل کر رکھی تھی۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں طیارے کے حادثے میں انسانی جانوں کے نقصانات پر ملک بھر میں آج یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ ملک بھر میں تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی ملتوی کر دیا گیا ہے‘ وزیراعظم نے وفاقی وزرا کے ہمراہ جائے حادثہ کا فضائی جائزہ لیا اور امدادی کاموں کو دیکھا انہوں نے ہدایت کی ہے کہ امدادی کاموں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو سانحہ کا سبب معلوم کرنے کے لئے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کرنے کی ہدایت بھی کی۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف، سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ، خیبر پی کے کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کے علاوہ وفاقی وزرا چودھری احمد مختار، قمر زمان کائرہ، رحمن ملک بھی ان کے ساتھ تھے۔ بدھ کو وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم یوسف گیلانی کی صدارت میں ہوا جس میں کابینہ نے ایئر بلیو کے طیارے کے حادثہ پر آج یوم سوگ منانے کا اعلان کیا۔ اجلاس کے آغاز میں حادثے میں جاںبحق ہونے والوں کے لئے دعائے مغفرت کی گئی‘ بعدازاں اجلاس ملتوی کر دیا گیا جبکہ طیارے کے حادثے پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے صدر آصف زرداری‘ وزیراعظم یوسف گیلانی‘ مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں نوازشریف‘ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف‘ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا‘ سینٹ کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک‘ ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی‘ ڈپٹی چیئرمین سینٹ جان محمد جمالی‘ شاہ محمود قریشی‘ قمر زمان کائرہ‘ صمصام بخاری‘ وسیم سجاد‘ گورنر خیبر پی کے اویس احمد غنی‘ (ق) لیگ کے رہنما چودھری شجاعت حسین‘ مشاہد حسین‘ پرویز الٰہی‘ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن‘ راجہ ظفر الحق‘ احسن اقبال‘ اقبال جھگڑا‘ صدیق الفاروق‘ قاضی حسین احمد‘ لیاقت بلوچ‘ فرید پراچہ‘ مولانا فضل الرحمن‘ عبدالغفور حیدری‘ حافظ محمد سعید‘ پرویز مشرف‘ علامہ طاہر القادری‘ ہمایوں اختر خان‘ سردار آصف احمد علی‘ مخدوم شہاب الدین‘ ثمینہ خالد گھرکی‘ فردوس عاشق اعوان‘ میر ہزار خان بجارانی‘ شہباز بھٹی اور دیگر نے حادثہ میں جاںبحق ہونے والوں کے خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور الگ الگ تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ حادثہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر پوری قوم غمزدہ ہے اور جاںبحق ہونے والے مسافروں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ جاںبحق ہونے والوں کو جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔تنطیم المدارس کے علامہ راغب نعیمی‘ وفاق المدارس کے قائدین مولانا سلیم اللہ‘ قاری حنیف جالندھری اور دیگر نے بھی اظہار تعزیت کیا ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے حادثہ کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ انہیں فوری طور پر انکوائری کی ابتدائی رپورٹ پیش کی جائے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حادثے کی ذمہ داری کسی پر ڈالنا قبل از وقت ہو گا۔ میاں نوازشریف نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ غم کی گھڑی میں مسلم لیگ (ن) لواحقین کے ساتھ ہے۔ علاوہ ازیں بدھ کو وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق جاںبحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیلئے قومی سوگ کے موقع پر پرچم سرنگوں رہے گا۔ وفاقی دارالحکومت میں ایوان صدر، پارلیمنٹ ہاﺅس، وزیراعظم سیکرٹریٹ، وزیراعظم ہاﺅس سمیت تمام عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ پہاڑیوں سے طیارہ ٹکرائے جانے کے واقعہ کے بعد امدادی ٹیمیں تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر سے جائے وقوعہ پر پہنچیں جبکہ جدید آلات و تربیت کی عدم فراہمی کے باعث امدادی ٹیمیں کوئی خاطر خواہ امدادی کام نہ کرسکیں ۔ذرائع کے مطابق مارگلہ کی پہاڑیوں سے نجی ایئر لائن کے طیارے کے ٹکرائے جانے کے بعد ریسکیو اور دیگر امدادی ادارے مارگلہ کی پہاڑیوں پر روانہ تو ہو گئے تاہم انہیں جائے وقوعہ تک پہنچنے کیلئے ایک گھنٹہ لگ گیا اور جائے وقوعہ پر پہنچنے والے افراد کے پاس نہ تو کوئی جدید آلات اور نہ ہی ایسی تربیت تھی جس پر وہ فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر سکیں اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جا سکے۔
کوٹری + اسلام آباد (نامہ نگار + وقائع نگار خصوصی + وقت نیوز + مانیٹرنگ ڈیسک) مارگلہ کی پہاڑی سے ٹکرانے والے ائر بلیو کے طیارے کے حادثے میں کوٹری سے تعلق رکھنے والا بدقسمت خاندان لقمہ اجل بن گیا۔ حادثے میں پاکستان پیپلز پارٹی حیدر آباد ڈویژن لیڈیز ونگ کی صدر حنا دستگیر کی چھوٹی بہن مونا ڈومکی‘ ان کے شوہر عامر ڈومکی اور دو بچیاں افشاں‘ مہلج ڈومکی جاں بحق ہو گئے۔ کوٹری میں مقیم پیپلز پارٹی کی رہنما حنا دستگیر کے مطابق ان کی بہن اپنے بچوں کے ساتھ آﺅٹنگ کیلئے کراچی سے اسلام آباد جا رہی تھیں کہ حادثہ پیش آ گیا جس میں ان کی بہن‘ بہنوئی اور بھانجیاں جاں بحق ہو گئیں ان کی میتیں خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی سے جیکب آباد لائی جائیں گی جہاں ان کی تدفین کی جائے گی۔ کوٹری میں مذکورہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پی پی پی کی رہنما حنا دستگیر کے گھر کہرام مچ گیا اہل خانہ اپنے پیاروں کی یاد میں دھاڑےں مار مار کر رونے لگے۔ حادثے کے باعث بڑی تعداد میں لوگ کوٹری میں ان کی رہائشگاہ پر جمع ہو گئے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والی مونا ڈومکی پی آئی اے میں فضائی میزبان بھی رہ چکی ہیں اور کوٹری کے ممتاز سینئر ایڈووکیٹ غلام دستگیر کی صاحبزادی تھیں مشہور ٹی وی فنکار ارسلان دستگیر ان کے بھائی تھے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں سوات کا نوجوان عباس رضا بھی شامل ہے جو نیشنل بنک آف پاکستان میں ملازمت ملنے پر جوائننگ رپورٹ دینے گیا تھا۔ ہلال احمد نے بتایا کہ ان کے بھائی نے کراچی میں ایم بی اے میں نمایاں پوزیشن حاصل کی تھی جس پر انہیں نیشنل بنک میں ملازمت ملی تھی۔ بدقسمت طیارے میں کراچی گلشن اقبال کا رہائشی نوبیاہتا جوڑا سوار تھا۔ اویس احمد خان اور روبینہ خان کی شادی 23 جولائی کو ہوئی تھی وہ بدھ کی صبح ہنی مون منانے کے لئے اسلام آباد جانے کی غرض سے طیارے میں سوار ہوئے تھے۔ حادثے کی اطلاع ملنے پر اویس احمد خان کے خسر‘ خواتین رشتے دار کراچی ائر پورٹ پر شدت غم سے نڈھال تھے اور دھاڑیں مار کر رو رہے تھے۔ حادثہ میں ایبٹ آباد کے ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق ہو گئے۔ یہ لوگ کراچی سے ایبٹ آباد کے گاﺅں راہی میں اپنے عزیز کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے آ رہے تھے لیکن خود لقمہ اجل بن گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں گیبت خان‘ غفار خان‘ یٰسین‘ عرفان‘ سلطان منظور‘ گلزار بی بی‘ انور بی بی شامل ہیں۔ مسلم لیگ( نواز) سندھ کے میڈیا کوآرڈینیٹر عبدالغنی سریانی طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ مرحوم مسلم لیگ کے کارکنوں میں نہایت مقبول تھے۔ مرحوم کے لواحقین میں بیوہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل تھے۔ مرحوم کشمور ، کندھ کوٹ مسلم لیگ(ن) کے ڈسٹرکٹ صدر او ر خدمت کمیٹی کے سابق چیئرمین بھی تھے ان کا تعلق مسلم لیگ(ن) سے گہرا اور پرانا تھا وہ میاں محمد نوازشریف کے پرانے اور معتمد ساتھی تھے۔ آرگنائزنگ کمیٹی سندھ کے رکن اور میڈیا سیل کے انچارج تھے۔ آل پاکستان ٹینکرز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین حاجی افضل مسعود سمیت پانچ عہدیدار‘ بے نظیر بھٹو میڈیا یونیورسٹی منصوبہ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر فاروق خان بھی جاں بحق ہو گئے ہیں اس کے علاوہ کیبل آپریٹرز آف پاکستان سندھ سلیم اختر بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔
اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے مارگلہ کی پہاڑیوں میں طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے 115 مسافروں کی نعشیں نکال لی گئی ہیں مزید کی تلاش کا کام آج بھی جاری رکھا جائے گا۔ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کا بلیک باکس ابھی تک نہیں ملا اس لئے طیارے کے حادثے کی وجوہات کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ محض قیاس آرائی ہے۔ چند میتوں کی شناخت ہو گئی ہے لیکن بیشتر کی حالت اچھی نہیں۔ جاں بحق ہونے والوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرکے میتوں کے ورثا کے حوالے کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے فی کس امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حادثے کے 25,20 منٹ میں تمام حکومتی ادارے، رضاکار جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ ان کی اولین ترجیح ہی تھی کہ کوئی شخص زندہ بچ گیا ہے تو اس کی جان بچائی جائے۔ حادثہ کے دشوار گزار علاقہ میں نصف گھنٹہ کے اندر حکومتی ٹیموں نے امدادی کام شروع کر دیا۔ جب وزیراعظم کو اس حادثے کی اطلاع ملی تو انہوں نے وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی کر دیا۔ شام تک ہیلی کاپٹرز نے 40 سے زائد پروازیں کرکے امدادی کام میں حصہ لیا۔ سرکاری اداروں اور رضاکاروں نے امدادی کام میں بھرپور حصہ لیا۔ 115 نعشیں پمز ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ پورے علاقے کو پولیس نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ میتوں کی شناخت مشکل ہے۔ ان کی حالت اچھی نہیں۔ 12 لاشوں کو لواحقین نے شناخت کر لیا ہے۔ یہ لاشیں ان کے حوالے کر دی جائیں گی۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے صبروتحمل کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا ہم ہر متاثرہ خاندان کے ایک قریبی رشتہ دار کو آبپارہ میں کمیونٹی سنٹر میں رجسٹر کرانے کیلئے کہا جائے گا تاکہ ان میتوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد اس بات کا تعین کیا جا سکے گا کہ یہ کس کی میت ہے! اس کام پر ایک ہفتہ لگ جائیگا۔ متاثرہ خاندان کے ایک قریبی شخص کا نام دیا جائے تاکہ یہ عمل شروع کیا جا سکے گا۔ وزارت داخلہ میں کرائسس مینجمنٹ سیل بھی اس کام میں مدد کرے گا۔ اس سانحہ کی وجوہات معلوم کرنے کیلئے وزیراعظم نے کمیٹی قائم کر دی ہے۔ تحقیقات کے نتیجہ میں جو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اسے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ انہوں نے امدادی کاموں میں حصہ لینے والے افراد کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ جائے حادثہ پر جانے کی کوشش نہ کریں۔ حکومت جائے حادثہ پر تلاشی کے عمل کو جلد مکمل کرنا چاہتی ہے۔ پمز ہسپتال میں بیت المال نے کیمپ قائم کر دیا ہے۔ آج ہسپتال سے میتیں محفوظ مقامات پر منتقل کر دی جائیں گی۔ جب طیارے کے حادثے کی تحقیقات ہونگی تو تمام پہلووں کا جائزہ لیا جائے گا جب تک بلیک باکس نہیں ملے گا، اس وقت اس بارے میں تحقیقات کے سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں ہو گی۔ میڈیا پر ہونے والے تشدد کے واقعہ پر افسوس ہے۔ جائے حادثہ کو پولیس نے گھیرے میں لے رکھا ہے وہاں سے میتوں کو نکالا جا رہا ہے وہاں پولیس اور امدادی کارکن موجود ہونے سے جنگلی جانوروں کو باہر نکلنے سے روکا جا سکے گا۔