جاں بحق مسافروںکے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ یہ سفر آخری ہوگا

29 جولائی 2010
کراچی( تنویر بیگ کرائم رپورٹر )اسلام آباد میںطیارے کے حادثے میں جاںبحق ہونے والے مسافروں میں سے کسی کو وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ کراچی سے اسلام آباد تک کا سفر ان کی زندگی کا آخری سفر ہوگا ۔ کراچی ایئرپورٹ پر ایئر بلو کی پرواز سے اسلام آباد روانگی سے قبل بیشتر مسافر انتہائی خوش و خرم تھے سوا ئے ان چند ایک کے جو اپنے عزیزوں کے جنازوں میںشرکت کے لئے جا رہے تھے۔ بدقسمت طیارے کے ان مسافروں میں گلشن اقبال کا وہ نو بیاتہا جوڑا نمایاں تھا جس کی صرف چاروز قبل 23 جولائی کو شادی ہوئی تھی اور جو ہنی مون منانے کے لئے اسلام آباد جا رہا تھا محمد اویس خان اور ان کی نئی نویلی دولہن روبینہ خاں نے روانگی سے چند گھنٹے قبل ہی رات دو بجے اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں سے الوداعی ملاقات کی تھی ان کے علاو ہ یوتھ پارلیمنٹ کے چھ ارکان بھی روانگی کے وقت انتہائی خوش نظر آ رہے تھے ان میں یوتھ پارلیمنٹ کے وزیراعظم حسن جاوید خان وزیر اطلاعات سید رباب زہرہ نقوی اور اسپورٹس منسٹر پریم چند کے علاوہ ارسلان احمد ‘بلال جامی اور اویس میمن عتیق شامل ہیں بدھ کی صبح ارسلان احمد کو ان کے والد اور والدہ ایئرپورٹ چھوڑنے آئے تھے اور اس الوداعی ملاقات میں ان کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ چند گھنٹے کے اندر ان کا لخت جگر انہیں داغ مفارقت دے جا ئیں گے کچھ ایسی ہی کیفیت تین بہنوں کے اکلوتے بھائی پریم چند کو کراچی ایئرپورٹ پر رخصت کر نے والوں کی ہے۔ جن کی آنکھو سے سانحے کے بعد سے مسلسل آنسوﺅں کی جھڑی لگی ہوئی ہے۔