برسلز: طیارہ حادثہ پر یورپی یونین اور کمشن کا اظہار افسوس

29 جولائی 2010 (18:47)
برسلز (نامہ نگار) پاکستان میں نجی ائرلائن کے حادثے میں 152 افراد کے جاں بحق ہونے پر یورپی یونین و یورپی کمیشن کے حکام نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ بیلج پارلیمنٹ کے ترجمان نے بھی ہلاک شدگان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے علیحدہ علیحدہ بیانات میں حکومت پاکستان سے کہا کہ وہ ان عوامل کو دیکھیں جس وجہ سے اتنا بڑا حادثہ ہوا اور اتنے لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ ایسے حادثات کی روک تھام کی اشد ضرورت ہے تاکہ معصوم عوام کی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔ یورپی یونین و بیلج پارلیمنٹ نے وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی سے بھی دلی تعزیت کی۔ دریں اثناءطیارے کے حادثے کی خبر جب یورپ میں پہنچی تو ہر پاکستانی و کشمیری نے دلی افسوس کا اظہار کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی یورپ کے سرپرست اعلیٰ ملک امان اللہ، محمد ارشد بیگ، تحریک انصاف کے کوآرڈینیٹر شیخ ماجد، یورپ کی کاروباری شخصیت محمد اکبر گوہر، مسلم کانفرنس یورپ کے سرپرست سفیر امن سردار جاوید سرور، بزنس فورم کے چیئرمین غلام حیدر لون، مسلم کانفرنس بیلجیئم کے صدر مرزا مقصود جرال، راجہ سلیمان، باﺅ محمود، مسلم کانفرنس یورپ کے کنوینر راجہ تصور حیات، پی پی پی آزاد کشمیر کے کوآرڈینیٹر یورپ چودھری ظفر احمد، جموں و کشمیر پیلز پارٹی یورپ کے کنوینر خان جبار خان، پاکستان پریس کلب کے صدر عظیم ڈار، چیئرمین محمد اقبال، ملک شاہین، خواجہ ظفر، ملک قمر، احتشام محمود، وقار ملک، محمد یوسف، کلیم احمد اور محمد مقصود نے اپنے اپنے پیغامات میں گہرے دکھ کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس حادثے میں ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دیں اور عوام کو ان عوامل سے آگاہ کریں جس وجہ سے فضائی حادثہ ہوا۔ انہوں نے اپیل کی کہ وہ لواحقین کی فوری مالی مدد کریں اور حادثات پر قابو پانے کیلئے آئندہ ٹھوس حکمت عملی اپنائیں۔ پاکستان میں طیارے کے حادثے میں ہلاک شدگان کی مدد اور تعزیت کرنیوالوں کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی یورپ کے سرپرست ملک امان اللہ نے بے نظیر ہاﺅس و زرداری ہاﺅس میں کیمپ قائم کردیا ہے جسے ہیلپ سنٹر کا نام دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلپ سنٹر کے ذریعے جہاں ہلاک ہونیوالوں کیلئے تعزیت کی جائیگی وہاں جو افراد ان کی مدد کرنا چاہیں ان کی مدد بھی کرسکتے ہیں۔ بے نظیر ہاﺅس و زرداری ہاﺅس کا یہی مقصد ہے تاکہ عوام الناس کی دادرسی کی جائے۔ یورپی ممالک و پاکستان کے درمیان روابط کو مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلپ سنٹرز بیلجیئم کے تمام شہروں کے ساتھ ساتھ یورپ میں بھی کھولیں گے۔