خیبرپختونخوا، پنجاب اوربلوچستان کی، جہاں بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث سینکڑوں بستیاں ، قصبے اور فصلیں تباہ ہوچکی ہیں ۔

29 جولائی 2010 (15:05)
پنجاب کے جنوبی ضلع راجن پورمیں کوہ سلیمان سے آنیوالے  سیلابی ریلے سے ایک سوسے زائد بستیاں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں جب کہ آج یہ سیلابی ریلہ چک شہید میں داخل ہوگیا جس سے مزید درجنوں مکانات منہدم ہوگئے ۔  کھلے آسمان تلے پڑے متاثرین کی مشکلات مزید بڑھ گئیں جبکہ بارش کے باعث کئی علاقوں میں امدادی سرگرمیاں معطل ہیں ۔ ادھر اٹک کی تحصیل جنڈ میں شدید بارشوں کے باعث متعدد قصبے اورنشیبی علاقے زیرآب ہیں جبکہ سیلابی ریلے میں چارافراد بہہ گئے جن میں سے تین  کی لاشوں کو نکال لیا گیا ۔ چکوال کے علاقے تلہ گنگ میں بارش کے  باعث پہاڑی تودہ گرنے سے خوشاب تلہ گنگ روڈ پرہر قسم کی ٹریفک بند ہوگئی ۔ ادھرجھنگ شہراورگردونواح میں دوسرے روز بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے ، کئی نشیبی علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ تریموں میں بائیس سالہ نوجوان قمرنواز ڈوب گیا ۔ میانوالی اوراس کی تحصیل عیسٰی خیل میں سیلاب اوربارشوں کے  باعث نظام زندگی درہم برہم ہے ۔ عیسٰی خیل میں پنجاب کو خیربختونخوا سے ملانے والی  قومی شاہراہ گذشتہ روز سے بند ہے جس سے  کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہے ۔  دریائے کرم میں سیلاب کی وجہ سے پچاس افراد  پانی میں پھنس گئے جنہیں نکالنے کے لیے  آرمی کا ہیلی کاپٹر طلب کرلیا گیا ۔ کندیاں میں موسلادھار بارش سے مکان کی چھت گرنے سے آٹھ افراد ملبے تلے دب کرشدید زخمی ہوگئے ۔ ادھر بہاولپور کی تحصیل حاصلپورمیں سیلابی ریلے میں دوبچیاں ڈوب کرجاں بحق ہوگئیں ۔  پنجاب کی طرح بلوچستان میں بھی سیلاب اوربارشوں سے دریاؤں اورندی نالوں میں طغیانی اوراونچے درجے کا سیلاب ہے ۔ بولان میں ڈیم کا بند ٹوٹنے سے پندرہ دیہات زیرآب آگئے ۔ بیس سے زائد گھرمنہدم ہونے سے دس افراد شدید زخمی ہوئے ۔ ژوب میں بارشوں سے  سینکڑوں مکانات تباہ ہوگئے جبکہ کئی جگہ سے قومی شاہراہ بند ہے ۔ لورالائی میں بھی سیلاب سے متعدد گھر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ سبی میں بھاگ کے قریب جلال خان ڈیم ٹوٹنے سے پانچ دیہات جبکہ کھچی میں لیٹ بند کا پشتہ ٹوٹنے سے تین علاقے زیرآب آگئے ۔ سلطان کوٹ میں سیلابی پانی دوبارہ متاثرہ علاقوں میں داخل ہوگیا ۔ ادھرکوہلو، بارکھان ، نصیرآباد، جعفرآباد سمیت گردونواح میں سیلاب نے تباہی مچائی ہوئی ہے ۔ کئی افراد لاپتہ جبکہ سینکڑوں دیہات اوربستیاں ملیا میٹ ہوچکی ہیں ۔