خطرات کا سامنا

29 جولائی 2010
احمد ریاض شیخ..........
اعلی امریکی عہدیداروں نے پاکستان کا طوفانی دورہ کیا ہے اور اب خطرات کی گھٹائیں ہیں کہ پاکستان کے افق پر امڈ تی چلی آ رہی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے نرم الفاظ میں انتہائی درشت باتیں کی ہیں۔ رچرڈ ہالبروک پس منظر میں کام دکھا رہے ہیں اور امریکی افواج کے کمانڈر جنرل مولن نے تو بے نقط سنائی ہیں۔ پاکستان کو جو پیغام دیا گیا ہے وہ لاﺅ ڈا ینڈ کلیئرہے۔ ایک تو یہ کہ اگر کوئی نیا ممبئی سانحہ ہوا تو بھارت کی طرف سے پاکستان کو جارحیت کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ دوسرے پاکستان کو خبردار کیا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر پاکستان کی جغرافیائی حدود میں ہیں۔ تیسرے لشکر طیبہ کے بارے میں نئی بات کی گئی ہے کہ اس سے یورپ کو خطرہ لاحق ہے۔ پاکستان سے کہا گیا ہے کہ لشکر طیبہ کو لگام دی جائے۔ آئی ایس آئی سے اشتراک کا رکو سراہنے کے باوجود یہ گلہ کیا گیا ہے کہ اس کی بعض سرگرمیاں سمجھ سے بالاتر ہیں۔چین کے ساتھ سول نیو کلیئر ری ایکٹرز کے معاہدے پر بھی اعتراضات کی بوچھاڑ کی گئی ہے۔ ایٹمی عدم پھیلاﺅ کے مسئلے پر بھی ڈاکٹر قدیر خان کے مسئلے کو ایک بار پھر اچھالا گیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکہ یہ سلوک اس ملک سے روا رکھ رہا ہے جو دہشت گردی کی جنگ میں امریکیوں سے بھی زیادہ قربانیاں دے رہا ہے۔ پہلے تو محض ”ڈو مور“ تک بات محدود تھی لیکن اب تو پاکستان کو شدید بوکھلاہٹ کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ اسے یہ پتہ ہی نہ چل سکے کہ امریکہ دراصل چاہتا کیاہے۔
پارلیمنٹ نے بالکل شروع میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے دہشت گردی سے نبٹنے کا اختیار مسلح افواج کو سونپ دیا تھا ۔اب اگر آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ان کے عہدے پر تین سال کی توسیع دی گئی ہے تو اس کا مقصد بھی یہ ظاہر کرنا ہے کہ حکومت اور فوج میں مکمل ہم آہنگی ہے اور دونوں فریق باہمی اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ توسیع کا یہ فیصلہ زیادہ تر سراہا گیا ہے تاہم اب فوج سے عوام کی توقعات میں بھی یقیناً اضافہ ہو گیا ہے اور یہ آس پیدا ہوئی ہے کہ جنرل کیانی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت سے کام لیتے ہوئے قوم کو جلد از جلد امن کی نوید سنائیں گے۔
میں ان سطور میں ہمیشہ قومی مفاہمت پر زور دیتا رہا ہوں۔ آج بھی میری سوچ یہی ہے کہ ہمارے مسائل کا حل کسی ”جادوگر“ کے پاس نہیں ہے بلکہ ہماری اجتماعی سوچ ہی معجزہ دکھا سکتی ہے اور ہم مل بیٹھ کر، سر جوڑ کر ہی اپنے مسائل کا کوئی قابل عمل اور متفقہ حل تلاش کر سکتے ہیں۔ ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ میں نے یہ بات محاورے کے اعتبار سے نہیں کی بلکہ میں حالات کی سنگینی کو محسوس کر رہا ہوں اور ہماری قومی قیادت کو بھی باہمی اختلافات ، آپس کی رنجشوں، دلی کدورتوں، ذہنی کجی اور ماضی کی انتقامی پالیسی سے بالاتر ہو کر ”اتحاد ،تنظیم اور ایمان“ کی میزان پر پورا اترنا ہو گا۔ جب ہمارا حریف بالکل یکسو ہے، اس میں کامل اتحاد ہے، توہمیں بھی اس کے مقابل یکسوئی سے کام لینا ہو گا، ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھنا ہو گا۔
امریکہ کیلئے یہ الزام لگانا آسان ہے کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر پاکستان میں ہیں لیکن انتہائی سپر طاقت جدید ترین انٹیلی جنس آلات سے لیس ہے، وہ زمین پر رینگنے والی چیونٹی کی کی نقل وحرکت کو بھی مانیٹر کر سکتی ہے اور اگر 2002ءکے بعد سے اسے اسامہ بن لادن کے حدود اربعہ کے بارے میں کوئی علم ہے تو وہ اپنے شواہد سامنے کیوں نہیں لاتا۔ محض ایک افسانوی کردار کی آڑ میں پاکستان پر دباﺅ کیوں بڑھا رہا ہے۔ اسی طرح ہماری آئی ایس آئی کو بھی ہمیشہ شک وشبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ یہ اعتراف کرتا ہے کہ اسے اب تک وار آن ٹیرر میں جس قدر بھی کامیابی ملی ہے، اس کی وجہ آئی ایس آئی کا تعاون ہے۔ یہاں پاکستانی قوم یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ امریکہ دراصل بھارت کی زبان بول رہا ہے اور جب وہ آئی ایس آئی اور لشکرطیبہ کا نام ایک سانس میں لیتا ہے تو پاکستانیوں کے سامنے بھارتی الزامات کی ایک طویل تاریخ اپنے اوراق کھول دیتی ہے۔ بھارت کوکشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور قرارداد کے مطابق حل کر د ینا چاہئے، اور اسے اپنے کھڑے کئے گئے مصائب کیلئے پاکستان اور پاکستانی اداروں کو مورد الزام نہیںٹھہرانا چاہئے۔
امریکہ اور بھارت کے اس مشترکہ محاذ کے سامنے ہمیں اتحاد کا ثبوت دینا ہو گا۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میں عوام کی منتخب کردہ حکومتیں کام کر رہی ہیں لیکن دیانت داری سے بات کی جائے تو ان حکومتوں کو بعض اندرونی طاقتوں نے چلنے ہی نہیں دیا اور آئے روز نئی قیامت برپا رکھی جاتی ہے۔ اب تک حکومت اپنی نصف مدت مکمل کر چکی ہے لیکن اس عرصے میں اسے اتحادی گروپوں کی منت سماجت میں الجھائے رکھا گیا ہے اور ایک لمحہ کیلئے ٹک کر کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا جس کا پورا پورا فائدہ قوم اور ملک کے مشترکہ دشمن اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں نادانستہ طور پر ان دشمنوں کا آلہ کار بننے سے بچنا چاہئے اور ان کے مقابلے میں ایک پاکستانی قوم بن کر دکھانا چاہئے۔ قومی جرگہ بلانے میں مزید وقت ضائع نہ کیا جائے۔( کالم نگار ایف آئی اے میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز رہے)