ڈیموں پر سیاست

29 جولائی 2010
پاکستان دو ٹکڑے کر دیا گیا، کشمیر کا مسئلہ لاینحل ہے، پانی کا تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے ، ہم نے سب کچھ کالا باغ ڈیم کی طرح سیاسی جنس بنا دیا اور بھول گئے کہ کچھ ہاتھ سے گیا بھی کہ نہیں، کیسی عجیب منطق ہے کہ ہم اپنے نقصان کےلئے کیسی کیسی قربانیاں دیتے ہیں، قوم کے مفاد پر افراد کے مفاد کو غالب کر کے اسے سیاست کا نام دے دیا ہے اور سیاست ایسی کہ جیسے ملکی مفاد کی پرواہ نہیں، کالا باغ ڈیم کا پروگرام1953 میں پیش کیا گیا، اس کی فزیبیلیٹی رپورٹ پر کام شروع ہوا مگر اس کی تعمیر کو مختلف ادوار حکومت میں موخر کیا جاتا رہا، تاآنکہ ایوب خان نے اپنے دور حکومت میں منگلا اور تربیلا ڈیم کی تعمیر کا حکم دے دیا۔ ان پر اس زمانے میں شور مچا مگر ان کے بن جانے سے صوبہ سندھ کا پانی بڑھ گیا۔ ضیاءالحق کے دور حکومت میں پھر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کےلئے آواز اٹھائی گئی مگر اس وقت کالا باغ ڈیم کو سیاست پر قربان کر دیا گیا اور یہ عظیم آبی منصوبہ ترک کر دیا گیا، اگر اس ڈیم پر بروقت کام شروع کر دیا جاتا تو ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ آج ہم لوڈ شیڈنگ کے نام سے بھی واقف نہ ہوتے اور نہ ہی کمی آب کا شکار ہوتے، مزید یہ کہ صوبہ سندھ کا پانی بھی بڑھ جاتا اور پورے ملک کی زراعت کو بھی بہت فائدہ پہنچتا مگر افسوس کہ کالا باغ ڈیم کو کنوئیں میں پھینک دیا گیا اور اب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم سیاست کی نذر ہو گیا، بھاشا ڈیم کو نہیں ہونے دیا اور چاروں صوبوں کی رضامندی حاصل کر لی جیسا کہ گیلانی صاحب نے کہا ہے اب امید واثق ہے کہ بھاشا ڈیم بنانے کے اعلان کے بعد اس کی تعمیر فی الفور شروع کر دی جائے گی۔ دریائے نیل کتنے ہی ملکوں سے گزرتا ہے، ہر ملک اپنے حصے کا پانی سلیقے طریقے سے حاصل کر لیتا ہے کبھی کوئی تنازعہ کھڑا نہیں ہوا لیکن کس قدر ستم ہے کہ ہمارے ہاں ایک ہی ملک ہے، ایک ہی قوم ہے، جس کا خدا، رسول اور قرآن بھی ایک ہے۔ اس کے باوجود بھی ایک دریا پر اختلافات کی بھرمار ہے۔ افسوسناک حیرانی تو اس بات پر ہے کہ ملک کے ہر صوبے کے عوام کالا باغ ڈیم پر متفق اور خوش تھے اور اب غنیمت سمجھ رہے ہیں کہ وزیراعظم نے بھاشا ڈیم کا اعلان کر دیا ہے اور انہوں نے یہ بھی یقین دلا دیا ہے کہ اسے سیاست کی نذر نہیں کیا جائے گا۔ بھارت اب تک 62 ڈیم بنا چکا ہے لیکن کسی علاقے سے بھی ان کے خلاف سیاسی آواز نہیں اٹھی۔ گیلانی صاحب نے تو اپنے حصے کا اعلان کر دیا ہے اب صدر زرداری بھی اپنے حصے کا اعلان کر کے کالا باغ ڈیم کے منصوبے کو کنوئیں سے نکال کر اس پر بھی کام شروع کرائیں اور سیاسی اختلافات کو دور کریں، بھاشا ڈیم بن بھی جائے تب بھی کالا باغ ڈیم کی اہمیت و ضرورت ختم نہ ہو گی اور وقت گویا منتظر ہے اس سورما کا جو کالا باغ ڈیم پر نام نہاد سیاست بازی کا خاتمہ کر کے اس کی بنیادیں کھڑی کر دے، اس وقت مانا کہ ملک کے حالات دگرگوں ہیں، امریکہ یہاں اپنا خیمہ گاڑھے بیٹھا ہے، ہم اس کے ساتھ مل کر اس کی تراشیدہ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے طالبان ہمیں بھی غیر مسلموں کا حلیف جان کر خود کش حملوں کا نشانہ بنا رہے ہےں اور اس آڑ میں را، موساد سی آئی اے، بلیک واٹر بھی مقدور بھر حملے کر رہے ہیں۔ تاہم مقام شکر ہے کہ ادارے قائم ہیں، جمہوری حکومت قائم ہے اور کاروبار وطن بہر حال چل رہا ہے۔ اس لئے ہمیں چال کے معیار کے بجائے چال کے موجود ہونے پر صاد کرنا چاہئے، حکمرانوں اور سیاستدانوں کو اب خدا کے قہر اور آخرت کو یاد کرنا چاہئے، بھاشا ڈیم کا اعلان فقط اعلان نہ ہو اس پر عملدرآمد بھی ہونا چاہئے اور بھاشا ڈیم اگر مکمل ہو گیا تو اس ملک میں بھی ڈیم بنانے کی رسم چل پڑے گی اور بہت ممکن ہے کہ آصف علی زرداری کالا باغ ڈیم بنانے کا بھی دھماکہ کر دیں۔ لگتا ہے کہ وہ پاکستان کےلئے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دینا چاہتے ہیں۔ اس لئے کالا باغ ڈیم بنانے سے بڑا کونسا کارنامہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے ملک کے سیاستدان بھی خوف خدا کریں اور بھارت سے سبق حاصل کر کے کم از کم ڈیموں پر سیاست نہ کریں تاکہ یہاں بجلی اور پانی کا بحران ختم ہو، جب اس ملک کے سترہ کروڑ عوام کو اعتراض نہیں تو یہ چند سیاسی دکاندار کیوں اپنی عوام کو اتنی بڑی سہولت سے محروم کرنا چاہتے ہیں بلکہ اگلے الیکشنوں میں ووٹروں کو شرط ہی یہ رکھ دینی چاہئے کہ جو پارٹی کالا باغ ڈیم تعمیر کرے گی وہ اسی کو ووٹ دیں گے، عوام کو بھی چاہئے کہ وہ شمس الملک کی سرکردگی میں کالا باغ ڈیم مہم شروع کر دیں۔ اگر امن آشا مہم چلائی جا سکتی ہے تو کالا باغ ڈیم مہم کیوں نہیں چل سکتی۔