ایکسٹینشن اور جمہوریت

29 جولائی 2010
مجھے یقین ہے شب برات کے موقع پر سب سے زیادہ دعائیں اہل وطن نے اپنے آرمی چیف کیلئے کی ہوں گی کہ دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے جتنی صلاحیتوں کے مالک وہ ہیں، کوئی اور ہوتا تو ظاہر ہے انہیں ایکسٹینشن دینے کی اشد ضرورت کیوں محسوس کی جاتی؟ اہل وطن کو یہ پہلے ہی تو خبر تھی کہ وہ ایک پروفیشنل جرنیل ہیں اور جمہوریت کےلئے ان کی قربانیاں بھی قابل قدر ہیں۔ آرمی چیف بننے کے بعد انہوں نے اپنی توجہ بظاہر فوجی معاملات تک ہی محدود رکھی جبکہ ان سے قبل”سیاسی جرنیل“ موقع کی تلاش میں رہتے تھے کب سیاسی حکمران غلطی کریں اور وہ ”میرے عزیز ہم وطنو“ یا ”مجھے دھکا کس نے دیا تھا“ کا نعرہ مستانہ بلند کر کے تخت و تاج پر قبضہ کر لیں گزشتہ دو اڑھائی برسوں میں سیاسی حکمرانوں نے فوج کو کئی مواقع فراہم کئے پر فوج اپنے اصل کام میں جتی رہی تو اس کا کریڈٹ یقیناً جنرل کیانی کو جاتا ہے وہ سرکار کی طرف سے زبردستی بخشی جانے والی تین سالہ ایکسٹینشن قبول نہ کرتے تو ان کا یہ کریڈٹ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا بھی جاتا اور اگر انہوں نے ایکسٹینشن ملک و قوم کے ساتھ محبت میں قبول کی ہے تو پھر اگلے تین برسوں میں اس محبت کو انہیں پہلے سے بڑھ کر ثابت کرنا ہو گا۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ یہ صرف پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ جرنیل سیاسی حکمرانوں کو آزادی سے کام کرنے کا موقع فراہم کریں اور خود کو سیاسی معاملات سے الگ تھلگ رکھیں تو اسے ان کا ”کریڈٹ“ بنا دیا جاتا ہے جبکہ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ایسا کرنا ان کے فرائض کا حصہ ہوتا ہے۔
کل عدلیہ کو قابو کرنے کےلئے در در کی خاک چھاننے یا اڑانے والے محترم وفاقی وزیر کسی چینل پر فر ما رہے تھے”جمہوریت اب ہمیشہ قائم رہے گی“ اللہ کرے ایسا ہی ہو مگر ہم اس جمہوریت کے قائم و دائم رہنے کی دعا کر سکتے ہیں جس میں کسی وزیراعظم کو کسی آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کی اشد ضرورت محسوس نہ ہوا کرے۔ ہم ایسی جمہوریت کے بھی قائل نہیں جس میں وزیراعظم کسی سینئر کو نظر انداز کر کے جونیئر جرنیل کو اوپر لانے کی روایت قائم کرے اور پھر اپنی ہی قائم کردہ روایت پر خون کے آنسو بہاتا ہوا دکھائی دے۔ وہ جمہوریت کس کام کی جس کے قائم رہنے کا کریڈٹ سیاسی حکمران جرنیلوں کو دیں؟ جب ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ ملک و قوم کے مفادات سے بالاتر ہو کر کیا جائے گا تو پھر کسی کو کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟ سو محترم وزیراعظم کا آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کے فوراً بعد دیئے جانے والا یہ بیان سمجھ سے بالاتر نہیں کہ اب 2013ءتک کسی کو کوئی خطرہ نہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے اب ہم جیسی اور جتنی چاہیں ”انھی“ڈالیں ہمیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ ویسے اس بیان سے دونوں ”پارٹیوں“ کا وقار مجروح ہوا ہے ایک ہاتھ سے دینے والوں کا بھی، دوسرے ہاتھ سے لینے والوں کا بھی۔ سمجھ نہیں آتی سیاسی حکمران ضرورت سے زیادہ عقلمند بننے کی کوششیں کیوں کرتے ہیں؟ فرض کر لیں یہ ”کارنامہ“ ذاتی یا حکومتی مفاد میں انہوں نے کر ہی لیا تھا تو اس کا چرچا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ممکن ہے دوسرے ہاتھ سے لینے والوں نے اس کا نوٹس بھی لیا ہو۔ یہ ظاہر ہے خوشی میں لیا جانے والا کوئی بھی نوٹس محض خانہ پری ہی ہوتا ہے۔ محترم وزیراعظم نے آرمی چیف کو ایکسٹینشن دیتے ہوئے ان کی ”خدمات“ کا تذکرہ کر کے اپنی طر ف سے اپنی ”رعایا“ کو یہ باور اب ہم اپنے وزیراعظم سے توقع کرتے ہیں کہ اپنی ”انصاف پسندی“ کا دائرہ وہ ”بے وردی ماتحتوں“ تک بھی وسیع کر دیں گے۔ جنہوں نے ”سیاسی دہشت گردی“ سے نمٹنے کےلئے تاریخ میں یاد رہ جانے والا کردار ادا کیا۔ اس انداز میں کہ سوائے عزت کے سب کچھ داﺅ پر لگا دیا۔ ویسے جنرل کیانی کو ایکسٹینشن دینے کے بعد محترم وزیراعظم خاصے ”ریلیکس“ دکھائی دیتے ہیں۔ اتنے کہ گزشتہ روز ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے فرفر انگریزی بولی اور زیادہ غلطیاں بھی نہیں کیں۔ ان کےلئے یہ بھی یقیناً خوشی کا مقام ہو گا۔ انہوں نے ایسے جرنیل کو ایکسٹینشن دی جس سے دوست دشمن سبھی خوش ہیں۔ ایک طرف جنرل مشرف نے انہیں مبارکباد دی ہے تو دوسری طرف جنرل مشرف کے سیاسی عدالتی و قلمی دشمن بھی اس ایکسٹینشن پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔ یاد رہے یہ وہی جنرل مشرف ہے جسے یو این او نے اپنی رپورٹ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا ذمہ دارٹھہرایا ہے۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے جو کچھ گزشتہ دو اڑھائی برسوں میں ہوا اور جو ہو رہا ہے۔ سب اس ایجنڈے کا حصہ ہے جو پاکستان کو کمزور کرنے کےلئے اس کے دشمنوں نے کچھ ”پاکستانیوں“ہی کے تعاون اور مدد سے تیار کیا ہے۔ یہ پاکستان قائم رہنے کےلئے بنا ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا اس کے اندرونی و بیرونی دشمن فوجی ہوں، سیاسی ہوں، صحافتی یا عدالتی اس کا کچھ بگاڑ سکے نہ بگاڑ سکیں گے (انشاءاللہ) بہر حال ہم اپنے محترم وزیراعظم کو دو بار مبارکباد پیش کرتے ہیں ایک اس بات پر کہ انہوں نے جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی اور دوسری اس بات کی کہ اب وہ اپنی مدت ملازمت پور ی کر سکیں گے امید ہے طاقتوروں کو ایکسٹینشن اور کمزوروں کو ٹینشن دینے کا صدارتی یا وزیراعظمی سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...