کالج آف فزیشن اینڈ سرجن پاکستان میں تقریب

29 جولائی 2010
کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی کونسل کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اللہ چودھری اور سی پی ایس پی ریجنل سنٹر لاہور کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر چودھری خالد مسعود گوندل نے 27 جولائی 2010ءکو اپنے کالج واقع مسلم ٹاون لاہور کے کانفرنس روم میں اپنے کالج کی ایک تعارفی تقریب کا اہتمام کیا اور نہایت تفصیل کے ساتھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی شخصیات کو اس کالج کی تاریخ اور کارگزاری سے آگاہ کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر ظفر اللہ چودھری، سیالکوٹ کے ”کاہلوں جٹ“ ہیں اور گزشتہ تقریباً ”نصف صدی سے لاہور میں زندہ دلانِ لاہور کو بطور ڈاکٹر بہترین صلاحیتوں کے استعمال سے صحت مند و تندرست و توانا رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لہٰذا لاہور کے صحافتی حلقوں میں بھی ان کا بڑا احترام ہے، وہی عالم پروفیسر ڈاکٹر چودھری خالد مسعود گوندل کا ہے، وہ اس کالج کے ریجنل ڈائریکٹر کے طور پر اپنی محنت سے کالج آف فریشنز اینڈ سرجنز پاکستان کو دنیا کا ایک بہترین ادارہ بنا دینے کے لئے شبانہ روز کوشاں ہیں چنانچہ انہوں نے آج دو بجے ظفر اللہ چودھری کی صدارت میں ملٹی میڈیا کی مدد سے صحافیوں کو نصف گھنٹے میں بڑی برق زبانی سے کالج کی کارکردگی سے متعارف کراتے ہوئے بتایا کہ ”کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے اور حقیقت تو وہ ہے کہ براعظم ایشیا بھر میں ایسا کوئی دوسرا ادارہ موجود نہیں ہے۔ (جنرل ایوب خان نے جب مارشل لاءلگایا تو ) لیفٹیننٹ جنرل واجد علی برکی نے جو ڈبلیو اے برکی کے طور پر مشہور تھے (اور ایوب خان کی مارشل لاءکابینہ میں وزیر صحت تھے) 1962ءمیں وہ ادارہ قائم کیا چنانچہ اس وقت اس کالج کے تیار کردہ اٹھارہ ہزار سے بھی زیادہ ماہرین، ملک بھر کے سول اور آرمی ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ ادارہ پاکستان کا واحد ایسا ادارہ ہے جو 58 مختلف شعبوں میں فیلو شپ کے امتحانات کروا رہا ہے، پاکستان کے اندر اس کے 13 اور پاکستان سے باہر 3 سنٹرز ہیں جبکہ ہیڈ کوارٹر کراچی میں ہے، اس وقت 13 ہزار سے زائد ڈاکٹرز پاکستان کے اندر اور 140 دیگر ممالک میں دو ہزار دو سو سپروائزر کی زیر نگرانی دنیا کے 92 ایسے اداروں میں تربیت کے مراحل طے کر رہے ہیں جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہیں۔ اس کالج کی بنیاد، برطانیہ کے رائل کالجز کی طرز پر رکھی گئی ہے چنانچہ امتحانات، پیشہ ورانہ تربیت اور قابلیت کے تمام اصولوں اور قواعد و ضوابط کو برطانیہ، آئرلینڈ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے رائل کالجز کے سانچے میں ڈھالا گیا ہے تاکہ کارکردگی کے اعتبار سے یہ کالج، رائل کالجز سے کسی طرح بھی کم تر نہ رہے تاہم امتحانی نصاب اور تربیتی کورس کو ترتیب دیتے ہوئے قومی اور پاکستان کی نصابی ضروریات کو پوری طرح ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ کالج آف فزیشن اینڈ سرجن جن ڈاکٹرز کی ٹریننگ کر رہا ہے وہ پوری دنیا میں انتہائی معیاری طور پر علاج معالجے کے تقاضوں پر پورا اترنے کی صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں البتہ ان حقائق کے ساتھ علاج کی جدید ترین سہولتوں اور ڈائیا گنوسٹک سہولتوں کا حاصل ہوتے رہنا بھی ایک شرط ہے، مگر کالج کی طرف سے ٹریننگ کے میدان میں کوئی کوتاہی نہیں کی جا رہی، کچھ نوجوان ڈاکٹرز کنگ فہد میڈیکل سٹی ریاض میں تربیت حاصل کر رہے ہیں جبکہ کچھ ملائیشیا میں بھی ٹریننگ حاصل کریں گے۔ پروفیسر خالد مسعود گوندل نے اپنی تقریر کی تکمیل کے بعد پروفیسر ڈاکٹر ظفر اللہ چودھری کو روسٹرم پر مدعو کیا اور صحافیوں کو بھی دعوت دی کہ اگر وہ کوئی تشنگی محسوس کرتے تھے تو وہ کونسل کے صدر سے سوالات کر لیتے چنانچہ ظفر اللہ چودھری نے پہلے تو میڈیا والوں کا دلی شکریہ ادا کیا اور نہایت تحمل اور تدبر سے متبسم رہ کر صحافیوں کے تیکھے اور نوکیلے سوالوں کو اپنے جوابات کے سانچے میں ڈھالا اور فرمایا کہ ہم اگلے سال اپنے کالج کی گولڈن جوبلی منائیں گے۔