عیسیٰ خان تم نے ہماری لاج رکھ لی

29 جولائی 2010
زاہد حسن چغتائی۔۔۔
جس معاشرے میں ڈبل شاہ اور اس جیسے کئی ٹرپل شاہ اربوں روپے روٹی میں پیاز کی طرح رکھ کر کھا گئے ہوں‘ وہاں گلگت کا ایک پاکستانی عیسیٰ خان فائیو سٹار ہوٹل میں امانت و دیانت کی ایک ایسی مثال قائم کرتا ہے کہ قرون اولیٰ کا مسلمان بھی جنت کے دریچوں میں کھڑا جھومتا نظر آتا ہے۔ الہیٰ ایسی چنگاری بھی اپنی خاکستر میں تھی۔ قائداعظمؒ اور اقبالؒ کی روح کو حقیقی ابدی سکون پہنچانے والا یہ پاکستانی سترہ کروڑ ہم وطنوں کے لئے امید و رجائیت کا استعارہ بن گیا ہے۔ عیسیٰ خان اپنے ہوٹل میں ایک جاپانی سیاح کی گمشدہ پچاس ہزار نو سو امریکی ڈالرز کی خطیر رقم‘ اسے پوری امانت داری سے واپس کر کے یہ ثابت کر دیتا ہے کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔ اور یہ بھی کہ بحیثیت ایک پاکستانی اور مسلمان اس کردار کی کونپلیں اس کے والدین کی تربیت اور اسلامی تعلیمات کے سرسبز درخت سے ہی پھوٹی ہیں۔ اسی لئے اقبالؒ نے کہا تھا:
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
عیسیٰ خان کو اس کی دیانت داری کا صلہ تو رب ذوالجلال کی طرف سے ملے گا تاہم معاشرے نے اس کار خیر پر عیسیٰ خان کی تحسین ضرور کی ہے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے سرکاری خزانے سے 15 لاکھ روپے عیسیٰ خان کو ادا کرکے اچھا کام کیا تاہم رکن پنجاب اسمبلی محترمہ زوبیہ رباب ملک کی طرف سے اپنے ذاتی اکاﺅنٹ سے عیسیٰ خان کو ایک لاکھ روپے کی ادائیگی ایک قابل تحسین کام ہے۔ زوبیہ رباب ملک کا نیک عمل جہاں عیسیٰ خان کی دیانت داری کے لئے خراج تحسین ہے وہیں ان جیسے لوگوں میں غریب پروری اور نیک کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا جذبہ پیدا ہو گا
عیسیٰ خان اس قدر سادہ مزاج اور قانع شخص ہے کہ اس نے اتنے بڑے واقعہ کے بارے میں گھر والوں کوبھی نہیں بتایا۔ 45 لاکھ روپے کی رقم نے اس کے دل و دماغ میں کسی قسم کا طلاطم برپا نہیں کیا۔ اس نے رقم ملتے ہی دیانت داری سے ایک ہی بات سوچی کہ یہ کسی کی امانت ہے اور اسے اس شخص تک پہنچانا اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ عیسیٰ خان نے یہ دیانتدارانہ کردار اس وقت پیش کیا جب برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی پاکستانی نژاد چیئرپرسن سعیدہ وارثی پاکستان کے دورے پر تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا لیکن اسلامی اصول و ضوابط کی عملی جھلک اس ملک خداداد کے بجائے برطانیہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ سعیدہ وارثی نے درست کہا لیکن کیا یہ کہنے میں ہم حق بجانب نہیں کہ ہم اسلامی اقدار سے ابھی یکسر تہی دامن نہیں ہوئے۔ یہ دیکھو ہماری جھولی میں عیسیٰ خان کی امانت داری کے مہکتے گلاب موجود ہیں۔ اور برطانوی معاشرہ پر فخر کرنے والی سعیدہ وارثی سے ہم اپنے زخم خوردہ جسم اور روح کے ساتھ ایک سوال تو کر سکتے ہیں ناں کہ:
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آداب فرزندی