”قانون کی حکمرانی“

29 جولائی 2010
سید روح الامین ۔۔۔
جس ملک میں عدالت عظمیٰ بار بار یہ حکم فرمائے کہ سوئس حکام کو خط لکھا جائے اور وزیر قانون عدالت عظمیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرنے کی بجائے یہ کہے کہ سوئس حکام کو خط لکھنے کے لئے میری لاش پر سے گزرنا ہو گا۔ وہاں قانون کی حکمرانی کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ہے۔ ہمارے قانون ساز ہوں کہ ”بالادست“ پارلیمنٹ کے ارکان ہیں۔ لہٰذا یہ خود کو بھی قانون کے زیر رکھنا پسند نہیں کرتے بلکہ قانون سے بالا ہی رہتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی کے بجائے یہ قانون پر حکمرانی کرنا محبوب رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک نہیں کئی مثالی دی جا سکتی ہیں۔ این آر او کے خلاف فیصلہ عدالت عظمیٰ کئی ماہ سے دے چکی ہے۔ حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی جعلی ڈگریوں کی بنا پر تین سال سے کئی ”قانون ساز“ حرام تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔ دیگر مراعات تو اس سے علیحدہ ہیں۔ ویسے اگر آپ وزیر اعظم گیلانی یا ان جعلی قانون سازوں سے قانون کے بارے بات کریں تو بے ساختہ کہیں گے کہ ہم عدالتوں کا اور قانون کا بہت احترام کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنے والدین کو برا بھلا بھی کہے ان کی کوئی بات بھی نہ مانے اور یہ بھی راگ الاپتا پھرے کہ میں تو اپنے والدین کی بہت قدر کرتا ہوں اور میرے دل میں ان کے لئے بڑا احترام ہے۔ بہرحال جنرل کیانی کی شرافت، حب الوطنی، بانیاں پاکستان سے محبت اور بہادری میں کوئی دو آرا نہیں ہیں۔ ایک وقت تھا کہ حکومتی ارکان وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف پر یہ الزام عائد کرتے تھے کہ وہ ان سے رات کی تاریکی میں جا کر ملتے ہیں۔ وزیراعظم پنجاب کو کڑی تنقید کا سامنا تھا۔ اب وہی کیانی صاحب گیلانی صاحب کی پسندیدہ شخصیت بن گئے ہیں۔ بقول شاعر
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
بہرحال سیاسی مفاہمت ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ موجودہ ”جمہوری“ حکومت نے سیاسی مفاہمتوں کے سوا کوئی قابل ذکر کارنامہ سرانجام دیا بھی تو نہیں۔ اگر ان کی جنرل کیانی سے سیاسی مفاہمت ہو گئی ہے۔ ”انتقامی نہیں“ تو اس میں کوئی برائی بھی نہیں ہے۔