جمعرات‘16 ؍ شعبان المعظم‘1431 ھ‘ 29 ؍ جولائی 2010ء

29 جولائی 2010
وائس چیئرمین پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ملک میں چینی کا کافی سٹاک موجود ہے‘ قلت کا کوئی خطرہ نہیں۔
اس کو کہتے ہیں سوال گندم‘ جواب چنا‘ رونا تو اس بات کا ہے کہ رمضان شریف کی آمد سے پہلے دس روپے کلو چینی مہنگی کر دی گئی ہے اور خدا جانے رمضان شریف کے دوران اس کا ریٹ کیا ہو گا‘ عوام کا یہ مطالبہ تو نہیں تھا کہ پاکستان میں چینی نہیں ہے اور جب تک حکمران سیاست دان موجود ہیں‘ چینی کی کمی ہو بھی کیسے سکتی ہے؟ اس لئے کہ ساری ملیں تو انہی کی ہیں‘ بات تو تھی کہ غریب عوام کیلئے چینی سستی کی جائے لیکن اسکے بجائے مہنگی کر دی گئی اگر چینی کی مہنگائی کا یہ عالم ہے تو باقی اشیائے ضرورت کا کیا عالم ہو گا؟
آخر کیا وجہ ہے کہ چینی کی ملیں اکثر و بیشتر سیاست دانوں اور حکمرانوں کی ہیں‘ پھر بھی چینی سستی نہیں ہوتی۔ جو چیز انکے ہاتھ میں ہے‘ جب وہ اسے سستا نہیں کرنا چاہتے تو دوسری چیزوں کو کیا خاک سستا کرینگے؟
ہمارے ہاں مہنگائی بھی پاکستان بھارت مذاکرات کی طرح ہے کہ کوئی نتیجہ نہیں نکلتا‘ جواب آں غزل تو یہ ہے کہ تحقیق کی جائے کہ حکمرانوں اور سیاست دانوں نے چینی کی ملیں بنائیں کیسے؟
٭…٭…٭…٭
14 ٹرینوں کے بعد قراقرم ایکسپریس بھی بند کرنے کا فیصلہ۔
لگتا ہے کہ اگلی خبر یہ ہو گی کہ ریلوے کا محکمہ بند کر دیا گیا۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ کوئی خسارے یا نقصان کی خبر نہ ملے‘ پہلے تو سنا تھا کہ چھ ٹرینیں بند کر دی گئی ہیں اور اب یہ تعداد چودہ تک پہنچ گئی ہے۔ اسکے بعد تو ریلوے ٹریک پر تھیلے ہی رہ جائیں گے۔
ریلوے ایک ایسا محکمہ ہوا کرتا تھا جس پر عوام الناس سفر کرنے کو ترجیح دیتے تھے‘ کیونکہ اسکے کرائے کم سفر محفوظ اور آرام دہ تھا‘ اسکے باوجود بھی یہ منافع کما رہا تھا۔ اب جبکہ ٹرینوں کو جدید بنا دیا گیا ہے اور اس پر حکومت نے کافی خرچہ کیا ہے تو یہ محکمہ خسارے میں جانے لگا ہے‘ چاہیے تو یہ تھا کہ غریبوں کی آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اسکے منافع میں اضافہ ہوتا‘ خدا جانے محکموں کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے کہ وہ خسارے میں جانے لگتے ہیں۔ بالخصوص ریلوے کا محکمہ ایک بہت بڑا قومی ادارہ ہے‘ اسکی 14 ٹرینیں بند کرنے کا مطلب ادارے کا صفایا ہے۔
حکومت اس کا ٹھوس نوٹس لے‘ وزیر ریلوے کے بدلے اور پاکستان ریلویز کیلئے وہی لائحہ عمل اختیار کرے جس کے نتیجہ میں ریلوے منافع بخش بھی تھا اور آسائش بخش بھی۔ پاکستان کے مواصلات میں یہ ترقی کیا کم ہے کہ ریلیں بند کرکے چنگ چی چلا دی ہے۔ بہتر ہو گا وقتی طور پر وزیر ریلوے کا عہدہ کسی صحت مند ریٹائرڈ جی ایم ریلوے کو دیدیا جائے‘ شاید وہ کھوتا کھوہ سے نکال لیں۔
٭…٭…٭…٭
درختوں کو گلے لگانے سے ذہنی الجھنوں کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ورلڈ فارسٹری کانگریس کے سالانہ اجلاس میں ایک تحقیق پیش کی گئی ہے جس کے مطابق پریشانیوں اور ذہنی الجھنوں کو دور کرنے کیلئے درختوں کے تنوں سے گلے ملنا ایک مفید اور آسان نسخہ ہے۔
جب ایک پریشان حال آدمی درخت کو گلے لگاتا ہے تو اسکو جسمانی اور ذہنی سکون ملتا ہے۔ درختوں والی جگہوں پر باقاعدگی سے جانے والے لوگوں کو ذہنی دبائو کم‘ انکے موڈ میں زیادہ تیزی سے بہتری پیدا ہوتی اور غصہ کم ہوتا ہے۔
اگر پاکستانیوں نے یہ نسخہ سن لیا تو کروڑوں پاکستانی درختوں سے لپٹے ہوئے نظر آئیں گے البتہ ایسے میں خطرہ ہے کہ درخت لوگوں کا علاج کرتے کرتے خود بیمار نہ ہو جائیں۔ بہرحال محکمہ جنگلات کی عالمی کانگریس کی یہ مہربانی ہے کہ انہوں نے درختوں کے علاوہ اور کسی چیز کو گلے لگانے کی تجویز نہیں دی‘ ویسے یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ جو باتیں آج سائنس دان ثابت کر رہے ہیں‘ صوفیاء صدیوں پہلے انکا انکشاف کر چکے ہیں۔ مثال کے طور پر خواجہ غلام فرید نے روحانی پریشانی کے عالم میں کہا تھا کہ…؎
گل لارو واں ہک ہک کوں
اولیسی میڈھا یار کڈا ہیسی
٭…٭…٭…٭
اران صوبائی اسمبلی یار محمد رند اور اعجاز احمد کی ڈگریاں بھی جعلی نکلیں۔
واضح رہے کہ یہ ڈگریاں مدارس سے حاصل کی گئی تھیں‘ اگر کوئی شخص باقاعدہ کسی مستند دینی مدرسے سے سند فراغت حاصل کرے تو اس کو حکومت نے ایم اے کے برابر قرار دیا ہے۔
اب اگر یار محمد رند اور اعجاز احمد کی دینی مدرسے کی ڈگریاں جعلی قرار دے دی گئی ہیں تو یہ تحقیق کرلینی چاہیے کہ کیا انہوں نے باقاعدہ درس نظامی پڑھا ہوا ہے یا نہیں۔ اگر ویسے ہی کسی مولوی کو حلوہ کھلا کر سند حاصل کرلی ہے تو پھر یہ کہنا بجا ہو گا کہ ڈگری جعلی ہے۔
ہم یہاں لگے ہاتھوں یہ بھی ذکر کرتے چلیں کہ ملک میں دینی مدارس کے جتنے وفاق قائم ہیں‘ انکی سندوں کو ایم اے کے برابر تسلیم کیا گیا ہے مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ ان مدارس سے فارغ التحصیل ہونیوالے ہزاروں طالب علم بے روزگار ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی لائحہ عمل طے کرے کیونکہ اگر ایک شخص کو آپ ایم اے کے برابر سمجھتے ہیں تو پھر اسی حساب سے اسے جاب بھی ملنا چاہیے۔