’’اہلِ صحافت بھی اپنا احتساب کریں‘‘

29 جولائی 2010
خالد ایچ لودھی ۔۔۔
حقیقت کو حقیقت اور پھر سچ کو سچ ہی کہنا چاہئے جو حقائق علم میں آئیں انکی تصدیق بھی لازمی کرنی چاہئے یہ وہ اصول ہیں جو کہ صحافت میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ذاتی اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر غیرجانبدارانہ طور پر ایمانداری، دیانتداری اور پھر صحافتی ضابطہ اخلاق کو شعبۂ صحافت میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
ذرائع کا تحفظ اور صیغہ راز داری بھی اس پیشے کا اہم جزو ہے۔ صحافت مملکت کے اہم ستونوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس شعبے سے وابستہ صحافیوں کو ملکی اداروں کے ساتھ محاذآرائی سے گریز کرتے ہوئے قومی مفادات کو اولین ترجیح دینی چاہئے۔ پاکستان میں میڈیا اب آزاد ہے۔
صحافی حضرات ملکی مسائل کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بلاروک ٹوک اور کسی دبائو کے بغیر زیربحث لاتے ہیں۔ عوامی نوعیت کے تمام امور اجاگر کئے جاتے ہیں اس طرح پاکستانی معاشرے میں پائی جانے والی ناانصافیوں اور بدعنوانیوں کو آزادانہ طور پر پیش کر دیا جاتا ہے۔ جس کا فوری طور پر حکومتی اداروں کو نوٹس بھی لینا پڑتا ہے۔
اب معاشرے میں اپنے حقوق کیلئے عوامی سطح پر بھرپور آواز اٹھائی جانے لگی ہے اور عوام کا میڈیا پر بھرپور اعتماد ہے عوام میڈیا کو اپنے مسائل کے حل کیلئے اہم ذریعہ تصور کرتے ہیں۔
اینکرپرسن، کالم نگار، تجزیہ نگار، رپورٹر اور اسی طرح ایڈیٹر حضرات یقینا معاشرے میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں، ناانصافیوں اور بدعنوانیوں کی درست انداز میں نہ صرف نشاندہی کرتے ہیں بلکہ مسائل کا حل اور تجاویز بھی پیش کرتے ہیں اس ضمن میں عوام کی رائے کو برابر اہمیت بھی دی جاتی ہے۔ اِسی بنا پر آج ٹی وی ڈراموں سے عوام کی توجہ ہٹ چکی ہے اور لوگ زیادہ تر ٹی وی ٹاک شوز اور کالم نگاروں کے علاوہ تجزیہ نگاروں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور مسلسل ان میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
ٹی وی ٹاک شوز سے معاشرے میں ایک نئی تبدیلی رونما ہوئی ہے ہر شہری اپنی رائے اور معاشرے کی ناانصافیوں اور بے ضابطگیوں کو منظرعام پر لانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ حکومتی عہدوں پر فائز اعلیٰ شخصیات اور سیاستدانوں کی خوبیاں اور برائیاں بڑے تواتر سے عوام کے سامنے لائی جاتی ہیں جو کہ معاشرے میں بڑا مثبت اقدام ہے۔
شعبۂ صحافت میں کھل کر کسی بھی صحافی نے اس پیشے میں ہونے والی بدعنوانیوں کی نشاندہی تو درکنار بلکہ صحافت کے شعبے سے وابستہ کالی بھیڑوں کے نام لیکر نشاندہی کرنے کی جرأت نہیں کی ہے۔ حالانکہ عوامی حلقوں میں اب الیکٹرانک میڈیا میں بعض اینکرپرسن حضرات اور پرنٹ میڈیا سے وابستہ بعض صحافیوں پر انگلیاں اُٹھائی جارہی ہیں جنکے طرزِعمل کی بنا پر اِن صحافیوں کی غیرجانبدارانہ حیثیت سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔
بعض صحافی حضرات خود اپنے پیشے میں کالی بھیڑوں کے نام جاننے کے باوجود انکی نشاندہی نہ کرتے ہوئے خود بھی ان کالی بھیڑوں میں شمار ہونا شروع ہو گئے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ آج میڈیا آزاد ضرور ہے اور اس کی زد میں ملک کے سیاستدان، بیوروکریٹس، جرنیل اور کاروباری حضرات آرہے ہیں‘ ان پر بحث ہوتی ہے انکی کارکردگی کو منظرعام پر لایا جاتا ہے ان کی بدعنوانیوں پر بھرپور تنقید بھی ہوتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ صحافی حضرات خود اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کو بے نقاب کیوں نہیں کرتے؟
یقیناً حکومت اور اسکی خفیہ ایجنسیوں کے علاوہ وزارت اطلاعات و نشریات کا سیکرٹ فنڈ صحافیوں پر خرچ ہوتا ہے صحافیوں کو ناجائز مراعات سے نوازا جاتا ہے۔ یہ مراعات بیشک میڈیا گروپ کے مالکان کو سرکاری اشتہارات کی شکل میں ہوں یا پھر صحافیوں کو پلاٹوں سے نوازا جائے، بنکوں سے قرضے جاری کروائے جائیں اور صحافیوں کو بیرون ملک وی آئی پی سطح کی ٹیم کے ہمراہ دورے کروائے جائیں۔ یہ تمام کے تمام اقدامات کرپشن کے زمرے میں آتے ہیں۔ لہٰذا اب آزاد میڈیا کے ہوتے ہوئے خود صحافت کے شعبے میں موجود کالی بھیڑیں بے نقاب ہونی چاہئیں اور انکا بھی محاسبہ ہونا چاہئے ورنہ اس شعبے میں یہ ناسور مزید خرابیاں پیدا کریگا اور اس طرح عوام میں صحافیوں کا جو اعتماد بحال ہوا ہے۔ اس میں کمی واقع ہو گی اور صحافت کے پیشے کی آزاد حیثیت متاثر ہو گی۔
اب یہ طے کر لینا چاہئے کہ صحافی کو صرف اور صرف صحافی ہی رہنا چاہئے اس پیشے کو مقدس پیشہ تصور کرتے ہوئے اسکے ساتھ انصاف کیا جانا چاہئے۔ منافع بخش سیاسی عہدوں اور ناجائز مراعات کو ٹھکرا کر اپنے اس پیشے کے تقدس کو دوام بخشنا چاہئے اور ہر حال میں صحافت کے شملے کو بلند رکھنا چاہئے۔ یہ ہی آزاد اور غیرجانبدار صحافت کی اصل پہچان ہے ان ہی اصولوں کے تحت پاکستانی معاشرے کی برائیوں کو ختم کیا جاسکتا ہے اور وطن عزیز میں آزاد اور تحقیقاتی صحافت کے مضبوط ستون کی بدولت ہی ملک خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے اس طرح عوام بدعنوانیوں اور ناانصافیوں کے چنگل سے آزاد ہو سکتے ہیں۔
وقت کی ضرورت ’’پریس کمپلینٹس کمشن‘‘ کا قیام تو ہے ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ صحافتی محتسب اعلیٰ کے طور پر پاکستانی صحافت کی نمائندہ جماعت کونسل آف پاکستان ایڈیٹرز کو اپنا آزاد کردار ادا کرنا چاہئے۔