پیپلز پارٹی کے محسن… جنرل گل حسن اور جنرل کیانی

29 جولائی 2010
عزیز ظفر آزاد ۔۔۔
چہ میگوئیوں کا سلسلہ تو کئی ماہ سے جاری تھا کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی جائیگی مگر جس قدر افراتفری اور بوکھلاہٹ کے عالم میں رات کو گیارہ بجے یہ کارخیر انجام پایا ایسا سوچا نہیں جا رہا تھا پھر ایک انتظامی معاملہ اتنے سنسنی خیز انداز میں پیش کیا گیا کہ وزیر اعظم اچانک قوم سے خطاب فرمانے لگے ۔ وہ خطاب جو تین منٹ بھی جاری نہ رہ سکا حکومت اور وزیر اعظم کی بوکھلاہٹ کے سوا کچھ تاثر نہ چھوڑ سکا ۔ اتنے اہم فیصلے پر حزب اختلاف کے اتحادیوں سے بھی مشاورت نہ کی گئی جس کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ خطاب سے دو گھنٹہ قبل فون پر رابطے کی کوشش ہوئی مگر محترم نوازشریف کے جہاز میں ہو نے کے باعث بات نہ ہوسکی ۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بطور سپہ سالار بڑی بردباری متانت سے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے حکومت اور فوج کے تعلقات میں ایک حسین توازن برقرار رکھا مگر وزیر اعظم پاکستان کے منہ سے بے ربط تعریفی کلمات قوم سے خطاب انکے منصب جلیلہ سے مطابقت نہیں رکھتا تھا ۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے جنرل کیانی کی خوشنودی کے حصول کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خطاب کے بعد وزراء کرام مشیران عظام حکومتی اور پارٹی عہدیداروں کے کورس کی شکل میں مبارک و سلامت کے بیانات پیپلز پارٹی کی عوامی مزاج کی تبدیلی کے عکاس ہیں ۔ ایک وزیر باتدبیرکا مشورہ تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی تک آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو رہنا چاہئے دوسرے وزیر فرماتے ہیں کہ حکومتی فیصلے نے مارشل لاء کا راستہ روک دیا ۔ ایک اور نہایت معتبر وزیر نے فرمایا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں ایسی صورت میںکمانڈر کی تبدیلی کسی صورت ممکن نہیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک بے ہنگم ہجوم ہے ہر شخص ذرائع ابلا غ کے ذریعے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے اور حاضری لگوانے کی کوشش میںبے چین و بے قرار ہے کسی کو پرواہ نہیں یہ فیصلہ آئینی ہے یا غیر آئینی کس قانون اور ضابطے کے تحت صادر فرمایا گیا ہے ۔ اگر کسی منچلے نے عدالت میںاس فیصلہ کو چیلنج کر دیا تو حکومت اور عدالت کس مشکل میں پھنس سکتی ہے۔
ہمارے لئے بڑی شرم کی بات ہے کہ مذکورہ بیان پر بی بی سی کے نیوز بلیٹن میں تبصرہ کرتے ہوئے تبصرہ نگار نے تاریخ اسلام کے عظیم جرنیل حضرت خالد بن ولید ؓ کی عین میدان جنگ میں تنزلی اور معزولی کی صورت میں واپس بلانے کا ذکر کیا ۔ یہ فیصلہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق ؓ نے کیا تھا۔پاکستان کے معاملے میں ایک غیر مسلم ذرائع ابلاغ سے نشر کی گئی ۔
وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی اگلے روز فرماتے ہیں کہ صدر وزیراعظم چیف جسٹس پاکستان اور آرمی چیف کی 2013 تک پوزیشن محفوظ ہوگئی ہے ۔ اس بیان سے لوگوں کے دلوںمیں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کل والے خطاب میں جو فرمایا گیا تھا کیا غلط ہے ؟ یہ فیصلہ کیا آرمی چیف کی خواہش کے تحت کیا گیا ؟ یا چاروں اہم حضرات کی سوچی سمجھی سکیم کا حصہ ہے ؟ اس فیصلے کے بعد کیا یہ لوگ من مانی کرنے پر قادر ہیں ؟ سابقہ تجربے کی روشنی میں ایسا سوچنا درست نہیں ۔ یاد رکھیں جنرل پرویز مشرف نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو آرمی چیف بنایا جس کیلئے وہ ان کو عزت و احترام دیتے ہیں مگر جب الیکشن 2008ء منعقد ہوا توجنرل کیانی نے جناب مشرف کی خواہش کے برعکس پاک فوج کو سارے انتخابی عمل سے دور رکھا اور سول محکمہ جات میں متعین فوجی افسران کو فوری طور پر واپس بلالیا گیا۔ اہم قومی امور جہاں مداخلت ناگزیر تھی وہ کیری لوگر بل ہو یا چیف جسٹس کی بحالی کا معاملہ جنرل کیانی نے بڑی احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کیا ۔ وہ ایک سپاہی ہیں ملک کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ان کے خون اور ایمان میں شامل ہے ۔
تاریخ پاکستان میں یہ سہرہ گیلانی صاحب کے سر ہی ہے کہ انہوں نے ایک جمہوری پارٹی کے وزیراعظم کی حیثیت سے آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کی اور وہ بھی ایک دو سال نہیں پوری ٹرم کیلئے ۔قانونی ماہرین کے مطابق آرمی ایکٹ 1952ء میں ایسی گنجائش موجود نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ پوری دوسری ٹرم دینے کیلئے حکومت کو قانون میں ترمیم کرنی ہوگی اس مخمصے میں یہ بات بھی اخبارات کی زینت بنی کہ موجودہ توسیع ملازمت کے دوران چودہ تھری سٹار جنرل کیانی سے پہلے ریٹائر ہو جائیں گے جو اپنے دلوں میںفور سٹار جنرل بننے کا خواب سمیٹتے ہوئے کیسا محسوس کریں گے ۔
جہاں تک جنرل اشفاق پرویز کیانی کی قابلیت کا تعلق ہے تو ہماری فوج کا ہرجنرل تربیت اور معیار کی اس اعلیٰ سطح تک پہنچتا ہے تب ہی جنرل بنایا جاتا ہے یہ کہنا درست نہیں کہ فلاں ناگزیر ہے ۔ قوموں کی زندگی میں افراد سے زیادہ ادارے اہمیت رکھتے ہیں کیا جنرل اسلم بیگ ، جنرل وحید کاکڑ ، جنرل آصف نواز اور جنرل جہانگیر کرامت کسی طرح جنرل کیانی سے کم تھے جس ملک اور معاشرے میںمحسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان دفاع وطن کا ناقابل فراموش فریضہ سرانجام دینے کے بعد جس بے قدری کے عالم میں مجبوری اور اسیری کی زندگی گزاررہے ہیں وہاں کسی کو صلاحیتوں کی بنیاد پر توسیع دینے کا تصور محال ہے۔ واقف حال جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو پہلا اقتدار جنرل گل حسن کے ذریعے میسر آیا اور اب کی بار جنرل کیانی کی جنرل مشرف اور پیپلز پارٹی میں رابطوں کی بدولت اقتدار حاصل ہوا لہٰذا جنرل گل حسن اور جنرل کیانی پیپلز پارٹی کے محسن ہیں۔ 1971ء میں جنرل گل حسن نے یحییٰ خان سے بندوق کے زور پر اقتدار لے کر بھٹو کو دیا۔ 2008ء میں جنرل کیانی نے مشرف سے دلائل کے زور پر اقتدار آصف زرداری کے سپرد کیا ۔ جنرل کیانی کو توسیع قبول کرنے سے قبل تاریخ کا مطالعہ کرلینا چاہیے ۔