پاک بھارت وزرائے خارجہ بے ثمر مذاکرات …(آخری قسط)

29 جولائی 2010
گویا پہلے ہی کوشش شروع کر دی گئی کہ مذاکرات کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہ نکلے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ وزرائے خارجہ کی ملاقات سے پہلے بھارت کے وزیر داخلہ چدم برم پاکستان آئے تھے اور اپنے ہم منصب سے دہشت گردی سمیت بہت سے موضوعات پر بھرپور طریقے سے مذاکرات کئے۔
اس موقعہ پر بھارت کے سیکرٹری داخلہ کو پاکستان اور I.S.I کا\\\" قصور \\\" یاد نہ آیا۔ بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے بھی بھارتی سیکرٹری داخلہ کے بیان کو پاک بھارت مذاکرات کی ناکامی کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 16 جولائی کو فارن سروس اکیڈمی ااور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں ایک دو کے سوا زیادہ تر اشوز پر اتفاقِ ہو گیا تھا مگر نہ جانے رات اور صبح کے درمیان کیا ہوا کہ سب کچھ بدل گیا۔
ایسا لگتا ہے کہ بھارت وزرائے خارجہ کی سطح پر مذاکرات کیلئے تیار ہی نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا بھارتی وزیر خارجہ پاکستان آئے تو ضرور لیکن بھارتی حکومت نے انہیں کسی قسم کی پیش رفت کیلئے ٹائم فریم کا مینڈیٹ ہی نہیں دیا گیا تھا۔ ہم جیسے آگے بڑھتے تھے دہلی سے نئی ہدایات آجاتی تھیں۔ مذاکرات کے دوران بار بار مداخلت اور ہدایات آجانے پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ۔
یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ جب بھی دونوں ملکوں میں پیش رفت ہونے لگتی ہے آخری لمحوں میں کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی سوچ مثبت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ بات آگے بڑھے لیکن ہو سکتا ہے کہیںدشواریاں ہوں۔
ایسا لگتا تھا کہ بھارتی وفد محدود اشوز پر بات کرنا چاہتا تھا لیکن جس طرح بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان بھارتی دلچسپی کے معاملات پر بات کرے تو بھارت کو پاکستان کے خدشات کو بھی سمجھنا ہوگا۔ مذاکرات میں پیش رفت اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب تمام اشوز پر بیک وقت اقدامات ہوں اور سب پر تو جہ دی جائے ۔
بھارت اور پاکستان ہمسایہ ممالک ہیں ۔ ہمسائیگی کے رشتہ کو سمجھنا ہو گا اور اس کا احترام کرنا ہو گا۔ بھارت کو اپنے رقبہ آبادی اور اقتصادی ترقی پر ناز ہے۔ اسے عادت پڑ چکی ہے کہ وہ اپنے سب پڑوسیوں کو ایک طرح دیکھے وہ نیپال ہو، بھوٹان ہو، سری لنکا ہو، بنگلہ دیش ہویا پاکستان ۔
بھارتی قیادت کو سمجھنا ہو گا کہ پاکستان آبادی کے اعتبار سے بھارت سے چھوٹا ضرور سہی ،ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس اعتبار سے بھارت کو پاکستان کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کرنا ہو گی۔ ہماری اقتصادی پوزیشن آج خراب ہے لیکن یہ کوئی دائمی کمزوری نہیں۔
ہماری بین الاقوامی پوزیشن اقتصادی کمزوری کے باوجود بھی بہت مستحکم ہے۔ دنیا اس کا نوٹس لینے پر مجبور ہے۔جونہی دہشت گردی کا مسئلہ قابومیں آیا اور یہ ایک نہ ایک دن انشاء اللہ ضرور قابومیں آ جائیگا۔
ہماری اقتصادی صورتِ حال تبدیل ہو جائے گی۔ پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ انسان کے پیداکردہ ہیں اور انسان ان پر قابو پانے کی قدرت رکھتا ہے۔ مسائل ایسے نہیں جو حل نہ ہو سکتے ہوں۔ صیحح قیادت اورمنصوبہ بندی تو ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے پھر یہ تو معمولی مسئلے ہیں۔
پاک بھارت مذاکرات کا حالیہ دور ناکام سہی لیکن دونوں ممالک کو مذاکرات کا راستہ چھوڑنا نہیں چاہئے۔ اسی میں سے کامیابی کی راہیں نکلیںگی۔ آج نہیں تو کل بھارت کو بھی اس کا یقین ہو جائے گا۔ اس وقت تک ہمیںانتظار کرنا چاہئے اور صبر سے کام لینا چاہئے۔