بجٹ اور زراعت … (آخری قسط)

29 جولائی 2010
سلطان علی چودھری ..........
اس کو کہتے ہیںپلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ہمیں بھی اب ایک ایک انچ زمین اور ایک ایک قطرہ پانی کے استعمال کی پلاننگ کرنی چاہئے۔ زراعت اور آبپاشی کے محکموں کو ابھی الرٹ ہونا پڑیگا۔ بدقسمتی سے ہمارے حاکم اپنی سفلی حرکات سے باز نہیں آتے۔
گورنر پنجاب اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ‘ پنجاب کے دو مداری ہیں جو کہ اخلاقی اقدار سے عاری ہیں۔ انہیں اپنے عہدوں کی عزت کرنی چاہیے۔ اس طرح ہمارے صدر کا بیان کہ قائداعظم بھی گریجوایٹ نہیںتھے‘ اس بیان نے تمام قوم کے احساسات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
اسکے ساتھ ساتھ ہمارے وزیر خارجہ کا ہندوستان کے متعلق یہ کہہ دینا کہ ہمارے پانی پر ڈاکہ نہیں ڈال رہا بلکہ ہم خود اپنی بدانتظامی سے پانی ضائع کر رہے ہیں۔ اس طرح انڈس واٹر کمیشن کا پانی پر بیان ہندوستان کے حق میں آنا بھی حیران کن ہے۔ یا اللہ ہم پر اور حاکموں پر رحم کر کہ وہ انسانیت کو اور پاکستان کے لوگوں کو تمام دنیا میں کیوں ذلیل کر رہے ہیں۔
-2سب سے پہلے ہمیں فصلوں کی پیداواری اخراجات کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دوسرے ملکوں میں فصلوں کے پیداواری لاگت کم رکھنے کیلئے سبسڈی دی جاتی ہے۔ اس وقت ہمارے ملک میں گندم کی پیداواری لاگت تقریباً 450 سے 500 روپے فی من ہے اگر حکومت اس پیداواری لاگت کو کم کرے۔
مثال کے طور پر اگر پیداواری لاگت 300 روپے تک آ جائے اور اس پر 100 روپے کاشتکار کو منافع دیا جائے اور بقایا 50 روپے اخراجات جمع کریں تو آٹا مارکیٹ میں 450 رو پے فی من بکے تو عوام کو 10 روپے کلو آٹا مہیا ہو سکتا ہے۔ پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے حکومت زرعی مداخل کی قیمتیں اور اس کی ادائیگی پر پورا کنٹرول کرے۔
-3 بجٹ میں زرعی ٹیکس کی بات ہوئی‘ میں پہلے بھی کہتا رہا ہوں کہ ایک کمشن بنایا جائے جس میں بورڈ آف ریونیو‘ زرعی ماہرین اور اریگیشن کے لوگ شامل ہوں۔
دراصل حکومت اگر زراعت پر انکم ٹیکس لگانا چاہتی ہے تو انہیں پہلے بنیادی اصول طے کرنے چاہئیں مثلاً PIU کے مطابق مختلف علاقوں سے جو آمدنی ہو اس کا ادراک ہونا چاہئے‘ اس سے نیٹ آمدنی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
حکومت کے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں اور اس وقت لینڈ ٹیکس یا مالیہ عائد کیا گیا ہے۔ 1965ء میں لینڈ ریفارم ہوئی۔ ساڑھے بارہ ایکڑ تک انکم ٹیکس ختم کر دیا گیا تھا۔
میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ ساڑھے بارہ ایکڑ کی اوسط آمدنی ٹیکس ایبل نہیں ہو سکتی۔ لہذا 86 فیصد کاشتکار جو کہ ساڑھے بارہ ایکڑ زمین تک کے مالک ہیں۔ وہ ٹیکس نہیں دے سکتے لیکن 14فیصد لوگ جوکہ تقریباً 50فیصد زمین کے مالک ہیں ان لوگوں پر ٹیکس لگانا نہایت ضروری ہے۔ اس ٹیکس کے اجرا کیلئے ہر علاقے کا فی ایکڑ ٹھیکہ ٹیکس اسیسمنٹ کی بنیاد ہو سکتا ہے۔
-4زائد فصلات اور اجناس کو سٹور کرنے کیلئے سٹور گائوں کی سطح پر تعمیر ہونے چاہئیں۔ جس میں اسی گائوں کی فاضل اجناس ذخیرہ کی جا سکیں گی اور پھر مناسب وقت پر اسے بڑے شہروں میں منتقل کیا جائے۔
-5 ہمارے کاشتکاروں کا سب سے پہلا مسئلہ فنی تعلیم ہے۔ زراعت میں ٹیکنالوجی اتنی آگے بڑھ چکی ہے کہ جب تک کسان فنی تعلیم حاصل نہیں کرتا‘ ٹیکنالوجی کو استعمال نہیں کر سکتا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ صنعت تک سمٹ کر رہ گئے ہیں حالانکہ ہر کاشتکار کو زراعت کے متعلق ووکیشنل ٹریننگ دینی چاہئے۔ لہٰذا ہمیں فوری طور پر کاشتکاروں کو بہت بڑے پیمانے پر تربیت کا اہتمام کرنا ہو گا۔ اس کیلئے ذرائع ابلاغ یعنی ریڈیو‘ ٹیلی ویژن‘ اوپن یونیورسٹی‘ زرعی یونیورسٹی کو برو ئے کار لانا ہو گا بلکہ دیہات کے تمام سکولوں میں دوسرے مضامین کے ساتھ زراعت کے نصاب کو لازمی کرنا چاہئے۔
اب تقریباً ہر گائوں میں سکول قائم ہیں جو کہ 3 بجے کے بعد بالکل خالی پڑے رہتے ہیں۔ اگر تمام مرد وزن کاشتکاروں کو شام دو گھنٹے کیلئے سکول میں آنے کا پابند بنا دیا جائے اور وہاں ٹیکنیکل افسروں اور ملازموں کی ڈیوٹی لگا دی جائے کہ وہ شام کو وہاں کاشتکاروں کو ٹریننگ دیں اور ساتھ ہی وہاں ٹیلی ویژن پر ایک دو گھنٹے زراعت کے متعلق واقفیت فراہم کی جائے’’کم خرچ‘ بالانشین‘‘ معاملہ ہو گا۔ اس پر حکومت کو ضرور غور کرنا چاہئے۔