’’-CPECگوہرِفردا‘‘

29 جنوری 2016
’’-CPECگوہرِفردا‘‘

چین کے ساتھ ہمارا سب سے بڑا منصوبہ ماشااللہ تیزی سے اپنی منزلوں کی طرف بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔آپس میں چھوٹے موٹے بحث طلب معاملات کے ساتھ پوری قوم کا اس کی اہمیت اور افادیت پر اتفاقِ رائے ہے۔میڈیا اور عوام کی مزید آگہی کیلئے پائنا اور یو ایم ٹی کے زیر اہتمام 23 جنوری 16ء بروز ہفتہ کو فلیٹیز ہوٹل لاہور میں ایک قومی سیمینار منعقد ہوا۔اس کا کلیدی خطاب جناب احسن اقبال وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ نے کیا۔سیمینار کی غرض و غائیت پر جناب الطاف حسن قریشی ، گودرا کی تاریخی حیثیت پر جناب جاوید نواز سابق اعزازی کونسلر عمان ، کوسٹل ہائی وے کی تعمیر پر جناب بریگیڈیئر (ر)حسن ملک، بلوچستان میں ترقی کی شاہراہ کے موضوع پر جناب انوارالحق کاکڑ، ترجمان حکومت بلوچستان اور چین کی ترجیحات پر جناب یوبورن ،چینی قونصلر جنرل لاہور نے اظہار خیال فرمایا۔خطبہ صدارت جناب جسٹس (ر) اعجاز چوہدری نے دیا۔سیمینار کا موضوع اگرچہ ’’اقتصادی راہداری منصوبے کی مختلف جہتیں‘‘ تھا مگر فوکس زیادہ تر اسکی افادیت پر ہی رہا۔دوسری کئی جہتیں جیسے ہمارے بین الاقوامی تعلقات ،سٹریٹیجی ، معاشرے کی نمو ،قومی یکجہتی ، انڈسٹری اور پیداوار وغیرہ پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، ان پر نہ تواتنا وقت تھا نہ بات ہوسکی۔بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ فکرونظر رکھنے والوں کو اس پر سوچنے کی اشدضرورت ہے۔
کوئی بھی اشتراک شروع ہونیوالا ہو تو اس کیلئے معاہدہ اس وقت لکھا جاتا ہے جب فریقین ذہنی قربت کی انتہا کو چھو رہے ہوتے ہیں۔مگر بن کہے ، اسوقت کیلئے لکھا جا رہا ہوتا ہے جب چلتے چلتے مشکلات اور غلط فہمیوں کے سبب ذہنی دوریاں پڑنا شروع ہو سکتی ہیں۔یعنی بہترین وقتوں میں بدترین وقتوں کیلئے۔آج چین سے ہمارا رومانس بھی عروج پر ہے اور بڑی امیدوں کے ساتھ ہم ایک ایسے سفر پر روانہ ہونیوالے ہیں جو آئندہ کی نسلوں اور صدیوں پر محیط ہوگا۔سفر کا ساراراستہ ہماری سر زمین سے گذرے گا لہٰذا اس میں پیش آنیوالے واقعات ، بشمول رہزنی کے ،ہمیں ہی متاثر کرینگے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہمارا ایک تاریخ ساز منصوبہ ہے اور ہمیں ہر صورت میں اسے جلد ازجلد پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔تاہم یہ بھی ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہماری آئندہ نسلوں کو 100سال تک تمام جہات پر رہنمائی ہماری آج کی تحریروں میں ملے۔ یقیناً ارباب اختیار اس پر کام کر رہے ہونگے جن کے فکر میں مِیں بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہوں۔
1۔چین اور پاکستان اپنے بچپن میں ہی دوست بن گئے جب دنیا انہیںاہمیت بھی تقریباً برابر برابر دیتی تھی اور دونوں ہندوستان کی دشمنی کی زد پر تھے۔ اب حالات بدل چکے ہیں چین بین الاقوامی عزائم کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جس میں ہندوستان سے روابط تک شامل ہیں جبکہ ہمیں اپنی سا لمیت ، آزادی اور امن کیلئے بھی کئی سال قربانیاں ابھی دینی ہیں۔ان حالات میں کئی مقامات ایسے آئینگے جہاں ہمارے اور چین کے مفادات میں فرق بلکہ ٹکراؤ بھی آسکتا ہے ہمیں آج ہی انکی نشاندہی کر کے چین کے ساتھ باہمی افہام وتفہیم سے تصفیہ کر لینا چاہیئے۔
2۔دونوں قوموں کے افراد کے درمیان با وقار ہم آہنگی انتہائی ضروری ہے۔جسکی بنیاد مادی اور نفسیاتی دونوں عوامل پر ہوتی ہے۔مثلاًنفسیاتی طور پر ہمارے لوگ اس بات کے زیراثر ہیں کہ چین ہمارے لئے 46ارب ڈالر خرچ کر کے راہداری بنا رہا ہے جس سے ہمارے حالات بدل جائینگے۔یہ ایک طرح کی Subjugation کا آغاز ہے۔اگر عوام کو یہNarrative دیا جائے کہ ’’ چین ایک خطیر رقم سے ہمیں اقتصادی راہداری کی سہولت فراہم کریگا جبکہ ہم اس کیلئے ایک نئی دنیا کھولنے کا سامان پیداکر رہے ہیں جس سے اسے ایک تاریخی Strategic Ascendency ملے گی ‘‘تو ہر پاکستانی کا فخر برابری کی طرف بڑھ جائیگا۔اس زاویے پر ماہرین نفسیات کو شامل کرتے ہوئے ٹائم فریم کے ساتھ ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
3۔ہمیں اس کو ریڈور کو تجارت کیلئے استعمال کرنا ہے جس کیلئے انڈسٹری کا جلد از جلد لگایا جانا ازحد ضروری ہے۔پرائیویٹ سرمایہ کاروں کو اچھی پلاننگ دے دی جائے تو وہ چین کے پاور ہاوسز مکمل ہونے کے ساتھ ہی انڈسٹری بھی مکمل کر سکتے ہیں۔اگر ہم اس میں ڈھیلے رہے اور صرف چونگی وصولی پر انحصار کر لیاتو ایک تو قومی وقار ختم ہو جائیگا دوسرا طاقتور پارٹنر چونگی کی رقم بھی بتدریج کم کرسکتے ہیں۔
4۔صوبوں کو کسی بھی ملک سے کوئی بھی کنٹریکٹ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔اگر راہداری کے بعد یہ سلسلہ چین سے جاری رہتا ہے تو صوبے ہر معاملے اور آپس میں اختلاف پر چین کی طرف دیکھنا شروع کر دیں گے جس سے ہماری سالمیت اور اقتدارِ اعلیٰ کو سخت دھچکا لگے گا۔ہمیں اندرونی طور پر ایک ایسے سسٹم کو تیار کرنا ہے جس سے ایک مربوط معاشرہ ، مضبوط اور حقیقی خود مختار قوم اُبھر سکے۔
5۔ہندوستان ایک چڑیل کی طرح ہمیں 68 سالوں سے چمٹا ہوا ہے۔اب اسکی پوری کوشش ہے کہ اسکو ریڈور سے منسلک ہو کر وہ نہ صرف اقتصادی فائدہ اٹھا سکے بلکہ ہمیں جو سٹریٹیجک اہمیت اور اقتصادی ترقی اس منصوبے سے ملنے والی ہے اسکو سبوتاژ کردے۔اس مقصد کے حصول کیلئے وہ پاکستان کو نئے عزم کے ساتھ ایک کمزور اور دہشت گرد ملک ثابت کرنے اور امریکہ سے دباؤ ڈلوانے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے۔چین بھی اپنے ذاتی مفاد کی خاطر چاہے گا کہ ہم اگر بھارت کو ترخم تک کا راستہ نہیں دے سکتے تو بھی کم از کم اسکو کوریڈور سے ضرور منسلک ہونے دیں۔اب ہمیںچین کو بھی سمجھانا ہے کہ جب تک ہمارے ہندوستان سے دیرینہ مسائل اور جلتے بلتے تعلقات ہیں ہندوستان کو لاہور، گوجرانوالہ، منگلا،راولپنڈی اور پشاورکور ہیڈکوارٹرز کے علاوہ جی ایچ کیو،ائیر ہیڈکوارٹر ،آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر،کہوٹہ ،کامرہ وغیرہ کے اندرسے گذرتا ہوا راستہ دینا ہمارے لئے قومی خودکشی کے مترادف ہوگا۔پھر ہمیں انڈیا سے اسکے بدلے کیا ملے گا؟ انکی Int and Terrorist Penetrationکے سوا مجھے تو کچھ نظر نہیں آتا۔میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم ثابت قدم رہیں تو امریکہ کے ہلکے پھلکے دباؤ ،چین کے لاتعلق سے سمجھانے اور ہندوستان یا افغانستان میں انکے بیسز سے چند ایک دہشت گردی کے واقعات کے علاوہ ہم پر کوئی پہاڑ نہیں ٹوٹنے والا۔امریکہ کو اب ہم سے بہتر تعلقات رکھنا ہیں جبکہ چین ہمارا ساتھی بن چکا ہے۔
6۔مشترکہ کاموں میں ایک بہت بڑا مسئلہ Domination کا ہوتا ہے۔بلکہ یہ خواہش ہر دشمن دوست میں یکساں پائی جاتی ہے۔دشمن تباہ یا زیر کر کے حاصل کرتا ہے جبکہ دوست عقل وفہم اور بالواسطہ پریشر سے۔CPECجب پوری طرح چلے گا تو اس سے کافی سارے ممالک کا تعلق ہوگا۔کوئی اقتصادی تو کوئی سٹریٹیجک عزائم لئے ۔ہمیں آج سے ہی اس معاملے کو قابو میں لینے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے ۔اگر ہم نے کنٹرول کسی اور کے ہاتھوں میں جانے دیا تو ہمیں آگے چل کر بہت نقصانات اٹھانے پڑیں گے۔اقتصادی راہداری گفٹ نہیں چیلنج ہے اگر ہم نے آج اسکی جلد تکمیل ،تجارت کیلئے اپنی صلاحیت بڑھانے اور پھر اسے اپنے سٹریٹیجک Asset کے طور پر استعمال کرنے کیلئے دیرپا اور قابلِ عمل منصوبے تیار کر لئے تو ہی آنے والا کل ہماری نسلوں کا ہو سکتا ہے۔بقول اقبالؒ …؎
وہی ہے صاحب ِامروز جس نے اپنی ہمت سے
زمانے کے سمندر سے نکالا گوہر ِفردا

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...