چھوٹی موٹی دھمکیوں پر سکول بند کرنا مناسب نہیں‘ جانتا ہوں اپوزیشن لیڈر نے حکومت سے کیا فائدے لیے : نثار

29 جنوری 2016

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ جنہوں نے نےشنل ایکشن پلان پڑھا ہی نہیں وہ بھی اس پر تنقید کر رہے ہیں ہم دہشت گردوں کے خلاف جنگ جیت رہے ہیں لیکن کچھ لوگ دہشت گردی کے خلاف جےتی جنگ کو نفسیاتی سطح پر تبدےل کرنا چاہتے ہےں۔ ہم حالت جنگ میں ہیں‘ اتحاد کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں جنگ صرف بندوقوں سے نہیں لڑی جاتی، قوم نے نفسےاتی طور بھی جنگ لڑنی ہے، اگر افراتفری اور خوف کی فضا قائم کرنی ہے تو دشمنوں کی کیا ضرورت ہے، بندوقوں کی جنگ پاک فوج کی مدد سے جیت رہے ہیں، نفسیاتی جنگ ہار رہے ہیں۔ (enough is enough) بہت ہو چکا، تنقےد کرنے والے سن لےں حقائق ایک ایک کر کے قوم کے سامنے رکھوں گا‘ ہر بات پر نکتہ چینی اور سےاسی پوائنٹ سکورنگ کی جا رہی ہے‘ وہ نادرا ہےڈ کوارٹرز مےں پاسپورٹ ہےلپ لائن، موبائل اور برانچ لےس بےنکنگ سروس کی افتتاحی تقرےب کے موقع پر پرےس کانفرنس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں 73 پاسپورٹ آفس کھولے‘ پاکستان کے ہر ضلع میں پاسپورٹ آفس قائم کیا جائیگا‘ پہلے ایک دن میں 14 دھماکے ہوتے تھے، اب دھماکے ہفتوں بعد ہوتے ہیں‘ میں نے سکول کے مسئلے پر کہا کہ سکول بند نہ کریں کیا ہم ڈر کر گھروں میں بند ہوکر بیٹھ جائیں، دہشتگرد اب سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایک واقعے پر طوفان برپا ہوجاتا ہے۔ جب ملک حالت جنگ میں ہوں تو قوم کو امید دلائی جاتی ہے، انہیں مایوسی کی طرف نہیں دھکیلا جاتا۔ مایوسی کی بات کرنا دراصل دشمنوں کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے لوگ قوم میں مایوسی پھیلا رہے ہیں۔ افغان سموں کی پاکستان میں رومنگ بند کر دی۔ اپنی 5 سالہ حکومت سو کر گزاری، آپریشن ضرب عضب کو نیشنل ایکشن پلان کا حصہ قرار دیا جارہا ہے لیکن نیشنل ایکشن پلان میں فوج کا کردار محدود ہے، وزیر داخلہ نے کہاکہ اگر کسی کو میری شکل پسند نہیں تو مےں کےا کہہ سکتا ہوں۔ کسی کو ڈاکٹرعاصم کے حوالے سے بات کرنی ہے، اگر کرپشن کیسز کے حوالے سے تکلیف ہے تو وہ اس حوالے سے بات کرے اس کا جواب دینے کو تیار ہوں، اگر میں تنقید کرنا چاہوں تو ہماری مخالف جماعتیں بھی حکومت میں ہیں، میں نے کبھی ان پر تنقید نہیں کی، انہوں نے کہا کہ ایک خاندان کے سب چھوٹے بڑے مجھ پر تنقید کر رہے ہیں، اینٹ سے اینٹ بجانے والے مجھے کنکریاں مار رہے ہیں۔ چودھری نثار نے کہا کہ مجھے بیماری میں ڈاکٹروں اور وزیراعظم کی جانب سے آرام کا کہا گیا لیکن میں کام کرتا رہا، میری طبیعت خراب ہونے پرکہا گیا کہ وزیرداخلہ کہاں غائب ہیں، بیمار تو کوئی بھی ہوسکتا ہے اور میری بیماری پر مذاق اڑاتے ہوئے طرح طرح کی باتیں کی گئیں، ایک سید کی جانب سے غلط بیانی پر افسوس ہوا، دو برس میں اپوزیشن لیڈر نے اپنے اہم ترین عہدے کا کس طرح فائدہ اٹھایا اس کی ایک الگ کہانی ہے۔ وزیرداخلہ نے دہشت گردی کے خوف سے سکولوں کی بندش کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو متحرک کرنا ہوگا، یہ سرحد کی نہیں بلکہ اندرکی جنگ ہے، چھوٹی موٹی دھمکیوں پر صوبوں کو دہشت گردی کے خوف سے سکول بند نہیں کرنے چاہئیں، خیبر پی کے حکومت نے سکول بند نہ کرکے اچھی مثال قائم کی۔ قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہوتی ہے لیکن آج تک کسی صوبے پر تنقید نہیں کی اور میرا ایمان ہے کہ اگر یہ جنگ جیتنی ہے تو آپس میں نہیں بلکہ دشمن سے لڑنا ہے، یہ مشکل جنگ ہے اس لئے التجا ہے کہ قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ پنجاب میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سکول بند کرنے پر تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز کے متعلق حقائق سےنٹ مےں بےان کروں گا۔ اس حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ میں اعتراف کرتا ہوں کہ پنجاب میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سکولوں کو بند کیا گیا تاہم حکومت کو اس حوالے سے شدید اختلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک ماہ سے سندھ حکومت ایک پوائنٹ کو باربار دہراتی ہے کہ وزیر داخلہ کراچی کا دورہ نہیں کر رہے، وہ وزیراعظم کی نہیں مانتے، حقیقت یہ ہے کہ سندھ حکومت اپنا موقف لائی اور ہم نے اپنا موقف دیا، میں نے قائم علی شاہ سے کہا کہ شاید میں کراچی آﺅں، انہوں نے کہاکہ ضرور آئیں، سندھ حکومت نے وفاق سے ہونے والی میٹنگ کی غلط تشریح کی، اب بندہ کتنے جھوٹ کا جواب دے۔ چار سدہ یونیورسٹی پر حملے کے بعد خیبر پی کے میں سکول بند نہ کرنے کا فیصلہ اچھا ہے ¾ پنجاب بھی سکول بند نہ کرے۔ وزیر اعظم کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ نثار نے کہا کہ تنقید کرنے والوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ آپ نے 5 سال میں کیا کیا؟ حکومت کو بے شک کوئی کریڈٹ نہ دیں لیکن مایوسی نہ پھیلائیں۔ اگر کسی کو ڈاکٹر عاصم ¾ ایف آئی اے اور کرپشن کیسز کے حوالے سے تکلیف ہے تو وہ اس پر بات کریں مگر سوال گندم جواب چنا کی بات درست نہیں۔ اسلام آباد کے سکول کھلے رہیں گے۔ میں غیر سنجیدہ شخص کے بیان پر کوئی توجہ نہیں دینا چاہتا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہاکہ اندرون سندھ بھی آپریشن کی ضرورت ہے یہ معاملہ ایپکس کمیٹی میں بھی زیر بحث آیا تھا سول آرمڈ فورسز کے حوالے سے کوئی بھی نوٹیفکیشن صرف وفاق ہی جاری کر سکتا ہے۔ چودھری نثار نے کہا کہ تنقید کرنے والوں کو تکلیف پیٹ میں ہے اور وہ رونا سر درد کا رو رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم یا ایف آئی اے کے حوالے سے شکایت ہے تو بات کریں۔ نجی ٹی وی کے مطابق چودھری نثار نے کہا 2 سال میں جو فائدے لئے اس کی تصدیق کرتا ہوں تحریک انصاف بھی اس کی بات کرتی ہے۔ میری غیر موجودگی میں سینٹ میں مولانا عبدالعزیز کے متعلق تقاریر کی گئیں، میں ایک ایک چیز اسی سینٹ کے سامنے رکھوں گا، میری غیر موجودگی میں میرے خلاف تحریک استحقاق لایا گیا، میں چیئرمین سینٹ کا مشکور ہوں کہ انہوں نے میری غیر موجودگی میں میرے خلاف تحریک استحقاق پیش کرنے کی اجازت نہیں دی۔ مولانا عبدالعزیز نے کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کی، اگر کسی کے پاس ہے تو مجھے دکھائے۔ مولانا عبدالعزیز کے خلاف درج ہونے والے 27 ایف آئی آرز کے متعلق سینٹ میں بات کرنے والا ہوں۔

نثار