گیس چوروں کو سزا کی بجائے شریفوں کا کاروبار بند کرنا غلط فیصلہ تھا: سینٹ کمیٹی

29 جنوری 2016
گیس چوروں کو سزا کی بجائے شریفوں کا کاروبار بند کرنا غلط فیصلہ تھا: سینٹ کمیٹی

اسلام آباد (این این آئی) سینیٹ ذیلی کمیٹی کیبنٹ سیکرٹریٹ کے کنونیئر سینیٹر شاہی سید کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں سی این جی مالکان کی مشکلات ، جی ایس ٹی 17 فیصد سے34 فیصد کرنے پر شٹ ڈائون کال اور اوگرا کی طرف سے گیس قیمتوں میں 50 فیصد اضافے کے معاملات زیر بحث آئے۔کنونیئر کمیٹی نے کہا مین پائپ لائنوں سے براہ راست گیس چوری کی جاتی رہی ۔چوروں کو سزا دینے کی بجائے شریفوں کے کاروبار کا خاتمہ غلط فیصلہ تھا اور ہے پچھلی حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی سی این جی شعبہ کے کاروبار کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار ہے انہوں نے کہا آزاد آڈیٹر نے بھی قیمت 76 روپے 64 پیسے کا فیصلہ کیا تھا جن مالکان نے جی آئی ڈی سی جمع کر دیا ہے ان کا کیا قصور ہے ۔دو سال سے حکومت کی نااہلی سامنے ہے بجائے معاملہ حل کرنے کے ابھی آنکھیں بند رکھی ہوئی ہیں ۔سینیٹر یوسف بادینی نے کہا ناانصافیوں سے ہی شورش بڑھتی ہے ۔ ڈی جی گیس قاضی سلیم نے آگاہ کیا سی این جی صنعت کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے ایکنک میں معاملہ 2014 سے زیر التواء ہے ایل این جی کو سی این جی مالکان بھی امپورٹ کر سکتے ہیں ۔ اور بتایا کل ویلیوایٹڈ کاسٹ فی کلو گرام 64 روپے80 پیسے ہے اور 17 فیصد جی ایس ٹی الگ ہے ۔ ریجن ون میں قیمت فی کلو گرام 75 روپے82 پیسے اور ریجن ٹو میں67 روپے 50 پیسے ہے ۔ اوگرا کی طرف سے گیس کی قیمتوں پر جنوری2013 سے نظرثانی نہ ہونے کی وجہ سے ایس ایس جی پی ایل کو 47 ارب اور ایس این جی پی ایل کو30 ارب کے خسارے کا سامنا ہے ۔