ریاست چلانا حکومت کا کام، غیرضروری مداخلت نہیں کرنی چاہئے: جسٹس ثاقب

29 جنوری 2016

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے فلڈ کمشن رپورٹ پر حکومت کی جانب سے عمل درآمد کمیٹی کی تشکیل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ نمٹاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر معاملے میں کچھ مشکلا ت درپیش آئیں تو دوبارہ درخواست دائر کی جا سکتی ہے جبکہ ڈیموں کی تعمیر، ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور امدادی سرگرمیوںمیں کارکردگی بہتر بنانے، جدید مشیری کے استعمال، قدرتی آفات کی پیش بندی کے لئے حفاظتی اقدامات سے متعلق منسلک درخواست بھی خارج کرتے ہوئے درخواست گزار کو کہا ہے کہ وہ نئی درخواست دائر کریں۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ریاست چلانا حکومت کا کام ہے، عدالت وہاں مداخلت کرتی ہے جہاں بنیادی انسانی حققوق کا معاملہ ہو، ہمیں غیر ضروری مداخلت نہیں کرنا چاہئے۔ درخواست گزار ماروی میمن نے بتایا کہ وزیراعظم نے کمشن کی رپورٹ پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک لیگل کمیٹی بنائی ہے جس کی کئی میٹنگ ہوئی ہیں معاملے میں پیش رفت ہو رہی ہے، عدالت میں پانی و بجلی کی پورٹ بھی پیش کی گئی۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اب آپ درخواست واپس لے لیں یا عدالت اسے خارج کرے کیونکہ مقصد پورا ہو رہا جس پر ماروی میمن کا کہنا تھا کہ عدالت جو مناسب سمجھے فیصلہ کرے، پہلے سیلاب کے مقابلے میں حفاظتی اقدامات کے باعث گزشتہ سال نقصان بہت کم ہوا، میں خود بھی کمیٹی کو مانیٹر کر رہی ہوں۔