جنرل راحیل شریف کیلئے ایک کالم

29 جنوری 2016
جنرل راحیل شریف کیلئے ایک کالم

سپہ سالار آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ایکسٹینشن والے بیان پر بہت باتیں ہوئی ہیں۔ بہت کالم لکھے گئے ہیں۔ میں خاموش رہا۔ مجھے تو آج کے دن والا ان کا بیان اچھا لگا۔ انہوں نے کہا پاکستان اور خاص طور پر کراچی میں دہشت گردی ختم کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ آخری حد کیلئے انہوں نے ’’کسی بھی‘‘ حد تک کا لفظ استعمال کیا۔ ارادوں، ولولوں اور جذبوں کی کوئی حد نہیں ہوتی ہے۔ حدود و قیود سے ماوریٰ صرف اللہ کی ذات ہے اور اللہ کا محبوب رسول رحمت اللعالمین حضرت محمدؐ کی ذات و صفات بھی کسی بھی حد کے اندر نہیں آتی ہے۔ عاشق رسولؐ اور دانائے راز علامہ محمد اقبالؒ نے مرد مومن کا جو مقام متعین کرنے کی کوشش کی ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جس ہستی کیلئے ساری باتیں کی ہیں وہ رسولؐ اللہ کی ذات گرامی ہے۔ اردو کے بڑے شاعر مرزا غالب نے کہا…؎

غالب ثنائے خواجہؐ بہ یژداں گذا شیتم
کاں ذات پاک مرتبہ دان محمدؐ است
علامہ اقبال نے بھی بے حد و حساب خیال پیش کیا ہے…؎
نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے
ازل اس کے پیچھے ابد سامنے
آپؐ میں اتنی صفات ہیں کہ ہر طرح کی بالغہ آرائی آپؐ کی تعریف میں جائز ہے۔ جنرل راحیل شریف کیلئے بات میں رسول اعظم و آخرؐ کی یاد آئی ہے تو یہ ان کیلئے بہت بڑی بات ہے۔ جو بات جنرل راحیل شریف نے خطۂ عشق محمدؐ (پاکستان) میں دہشت گردی کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے کی ہے۔ وہ ایک عاشق رسولؐ اور غلام رسولؐ ہی کر سکتا ہے۔
میں جنرل صاحب سے ملنا چاہتا ہوں جب وہ ریٹائر ہو جائیں گے۔ مجھے کوئی جلدی نہیں ہے تو انہیں بھی جلدی نہیں کرنا چاہیے۔ جلد بازی تو بالکل نہیں کرنا چاہیے۔ جو کام انہوں نے دس مہینے کے بعد کرنا ہے۔ اس کیلئے فیصلے کی یہ گھڑی نہیں ہے۔ ایک بات ہوتی ہے جس کو قبل از وقت کہتے ہیں۔ وہ ٹھیک نہیں ہوتی۔ بعد از وقت بات تو غلط ہوتی ہے۔ کام وہی اچھا اور بڑا ہوتا ہے جو بروقت ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اب جنرل راحیل کھل کھلا کر وہ کام کریں گے جس کی ابتداء ہو چکی ہے۔
جنرل راحیل نے بہت اہم کام بروقت کئے ہیں اور پاکستان کے لوگ انہیں محبوب رکھنے لگ گئے ہیں اس وقت وہ پاکستان کی محبوب ترین شخصیت ہیں اس حوالے سے میں کسی موازنے کے حق میں نہیں ہوں کام سیاسی قیادت کے حوالے سے بھی ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے شہباز شریف کا نام زیر بحث رہتا ہے۔ ایک لیڈر ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ مگر بھٹو بھی لوگوں کو روٹی، کپڑا، مکان دینے میں ناکام رہا۔ وہ بہت مقبول ہوا تھا۔ لاکھوں کے مجمعے میں بھی اسے دیکھا گیا مگر اس کے جنازے میں چند لوگ تھے۔ بے بسی اور بے حسی کی انتہاء ہے اس کے بعد اس کی بہت پیاری بیٹی بے نظیر بھٹو کو لوگوں نے وزیر اعظم بنایا پھر بھٹو کا داماد آصف زرداری صدر پاکستان بن گیا۔ مگر اس کیلئے بھٹو کی یاد کا کوئی دخل نہ تھا۔ اس کیلئے بے نظیر بھٹو کی شہادت کو ایک سبب بنایا گیا۔ مگر صدر زرداری بہت گہرا سیاستدان ہے اس نے اپنے بچوں کے نام کے ساتھ بھٹو کا اضافہ کر دیا ہے۔
’’صدر‘‘ زرداری نے جنرل راحیل شریف کے بہت قبل از وقت ایکسٹنشن نہ لینے کے اعلان کا خیر مقدم کیا مگر ہمارے ملک میں وزیر اعظم تو دوسری، تیسری بار بن جاتے ہیں مگر ابھی تک کسی صدر کیلئے یہ مثال نہیں ہے۔ ’’صدر‘‘ زرداری یہ مثال قائم کرنا چاہتے ہیں؟ خورشید شاہ اور پیپلز پارٹی کے کئی لوگوں نے بھی ’’صدر‘‘ زرداری کی فرما برداری میں بیان دیئے ہیں۔ لیکن وہ اقتدار کیلئے اپنی باری کے بے تابی سے منتظر ہیں بلکہ مضطرب ہیں۔ جو لوگ جنرل کے اس بیان سے خوش ہوئے اور جو ناخوش ہوئے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ سچے ہیں۔ میری ملاقات ایک ہی جرنیل سے ہوئی ہے اور وہ جنرل کیانی ہیں۔ یہ ملاقات ایکسٹنشن کے بعد ہوئی تھی۔ وہاں اور بھی بہت سے صحافی اور کالم نگار تھے۔ ملاقات تو دو آدمیوں کی ہوتی ہے اور میں جنرل راحیل شریف سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں اور یہ ملاقات ریٹائرمنٹ کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔ مگر ریٹائرمنٹ قبل از وقت نہیں ہونا چاہیے۔ اس جملے سے میری مراد کیا ہے۔ مجھے معلوم نہیں ہے میں تو منزل مراد پر پہنچنا چاہتا ہوں۔ منزل مراد کیا ہے۔ منزل مراد وہی ہے جس کیلئے جنرل راحیل شریف نے اپنی اور اپنی فوج کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ عسکری قیادت کی طرف سے سیاسی قیادت کیلئے ایک تحفہ ہے۔
جنرل راحیل نے کہا ہے کہ لوگوں کی زندگیاں پُرامن بنائی جائیں گی انہوں نے فرمایا کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کا انفراسٹرکچر تباہ ہونے سے کراچی میں امن آیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے دہشت گردوں کے رابطوں میں کمی آئی۔ یہاں ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے کراچی میں کارروائیوں کے حوالے سے بریفنگ دی اس کے علاوہ آئندہ کے لائحہ عمل پر غور ہوا۔ یہاں ایک بات مجھے یاد آئی کہ میں ایک میجر جنرل محمد جاوید کیلئے بہت محبت رکھتا ہوں وہ گورنمنٹ کالج میں ہمارے ساتھ تھے۔ بہت وفا جا والے آدمی ہیں۔ بہادر اور بے باک ہیں وہ جنرل راحیل شریف کے بہت مداح اور معترف ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں اور جنرل راحیل شریف کیلئے عزت رکھتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ سیاستدانوں کیلئے بھی ریٹائرمنٹ کا وقت ہونا چاہئے۔ کون کہتا ہے کہ اس طرح جنرل راحیل شریف کیلئے لوگ باتیں نہیں کریں گے اور افواہیں ختم ہو جائیں گی۔ اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ کہیں کوئی اختلاف بھی ہے؟ اختلاف تو ہوتا ہے اور ہونا چاہئے۔ اختلاف کا حق اس کو ہے جو اعتراف کرنا بھی جانتا ہے۔ کئی لوگ کہتے تھے کہ نئے آرمی چیف کیلئے اعلان کچھ زیادہ پہلے ہو جائے گا۔ مگر اس سے پہلے ہی جنرل راحیل شریف نے اعلان کر دیا۔ یہ سوچ بھی ہے کہ نیا آرمی چیف کون ہو گا اور کیا وہ اس روایت کو نبھا پائے گا۔ لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود اور اشفاق ندیم کے نام لئے جا رہے ہیں۔ مگر امریکی میڈیا کو لیفٹیننٹ جنرل مقصود کو کیوں یاد نہ آئے جو سینئر جرنیل ہیں۔ ہمارے کچھ جرنیل تو ایسے تھے جو خود ہی خود کو ایکسٹنشن دیتے رہے۔ صدر ضیاء الحق نے جنرل ضیاء الحق کو تین بار ایکسٹنشن دی۔ ایکسٹنشن کے معاملے میں پہلی بار میرٹ کا معاملہ آیا ہے ورنہ یہ کام ہر محکمے میں صرف تعلق عزیز داری اور سیاست بازی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اب عسکری قیادت سیاست اور جمہوریت کے معاون سے ہے مگر ایک خوف اور کمپلیکس ہے کہ دلوں سے جاتا ہی نہیں۔ دھرنے کے وقت سب سے آسان موقعہ تھا کہ عسکری قیادت کسی طرح سیاسی قیادت کیلئے مشکل پیدا کرتی۔ جنرل راحیل نے عمران خان اور طاہر القادری کی ملاقات میں نواز شریف کی استعفیٰ سے دستبردار ہونے کیلئے کہا تھا۔ باقی باتوں پر بات چیت ہو سکتی ہے مگر عمران خان سیاست کو نظر انداز کر کے وزیراعظم بننے کی جلدی میں تھا۔ جلد بازیاں اسے خراب کر گئیں؟
برادرم حامد میر کے بقول محمود اختر نے سپریم کورٹ میں پٹیشن پیش کی ہے جس میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ جنرل راحیل شریف کو تین سال کی توسیع دی جائے۔ اسی دوپہر کو جنرل راحیل شریف کا یہ اعلان سامنے آگیا۔ کہ وہ مقررہ وقت پرریٹائر ہو جائیں گے۔ وہ توسیع کے حق میں نہیں ہیں ان کی شخصیت اور قابل اعتبار کارکردگی کی وجہ سے عوام انہیں نجات دہندہ سمجھنے لگے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کی اپنی مرضی بھی ٹھیک ہے مگر انہیں لوگوں کی توقعات کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ ذاتی فیصلوں کی اپنی ایک حیثیت ہوتی ہے مگر اصل طاقت قومی فیصلوں میں ہوتی ہے۔
سب سے زیادہ مجھے وفاقی وزیر جنرل عبدالقادر بلوچ کی بات پسند آئی۔ سپہ سالار جنرل راحیل شریف 20 کروڑ عوام کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ دوران جنگ چھوڑ کے جائیں یا نہ جائیں۔ سچا سپاہی کبھی میدان جنگ سے چلا نہیں جاتا۔ سنیئر صحافی برادرم نواز رضا نے لکھا ہے کہ سعودیہ اور ایران کیلئے مصالحتی دورے کے دوران آمنے سامنے جہاز میں بیٹھ کر دونوں شریف بات چیت کرتے رہے۔ نواز رضا کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ 36 گھنٹوں کے اس دورے میں جنرل راحیل شریف وزیراعظم نوازشریف کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے نظر آئے۔ کہتے ہیں کہ سیاسی قیادت اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ صفحے کے دوسری طرف کیا لکھا ہوا ہے۔جو اہمیت ورق کی ہے وہ صفحے کی نہیں ہے۔
توں اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول