گلگت کشمیر کا لازمی حصہ راہداری منصوبے کیلئے پاکستان میں ضم نہ کیا جائے :علی گیلانی کا نواز شریف کو خط

29 جنوری 2016

سرینگر (آن لائن + کے پی آئی)کل جماعتی حریت کانفرنس ’’گ‘‘ گروپ کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ گلگت بلتستان کو متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا جزولاینفک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے اس خطے کی معاشی صورت حال میں یقینی طور پر انقلابی تبدیلی واقع ہو گی تاہم اس کے لئے گلگت بلتستان کو پاکستان میں ضم کرانا ضروری نہیں ہے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے نام لکھے ایک خط میں علی گیلانی نے کہا کہ گلگت بلتستان کو پاکستان میں ضم کرانا ریاست کی بین الاقوامی حیثیت کے لئے تباہ کن ہو گا اور یہ اس کی متنازعہ حیثیت کو متاثر کرے گا۔ ریاست کی بین الاقوامی قانونی حیثیت کے خاتمے کا مطلب مسئلہ کشمیر کا خاتمہ ہو گا اور یہ اقدام ریاستی عوام میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔ علی گیلانی نے اپنے خط میں پاکستانی وزیر اعظم کو وہ تقریر یاد دلائی ہے جو انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی تھی اور جس میں موصوف نے کشمیری قوم کے حق خودارادیت فوجی انخلاء اور استصواب رائے کی حمایت کی تھی۔ حکومت پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر گلگت بلتستان کے لوگوں کے شہری حقوق کی بحالی ، ترقی اور خوشحالی کی طرف توجہ دینی چاہئے اور ان کی ہر طرح کی شکایات دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ گیلانی نے مزید لکھا کہ پوری ریاست جموں کشمیر بشمول گلگت بلتستان اقوام متحدہ کی قرار دداوں کی رو سے متنازعہ ہے۔ دوسری جانب لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک نے کہا ہے کہ جنوری 1990 میں کشمیر میں بھارتی بربریت اور انسانی خون کے ساتھ ہولی کھیلنے کے واقعات اس بات کے شاہد ہیں کہ اپنے ناجائز تسلط کو دوام بخشنے کے لئے یہ ملک ظلم و جبر کی کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ ادھربھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مقامی عسکریت پسندکی شہادت پر اننت ناگ اورکوکر ناگ کے بیشتر علاقوں میں ہڑتال کے نتیجے میں معمولات زندگی رک گئے اوراس دوران مظاہرین کی کئی مقامات پرپولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں،پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل پھینکے۔دریں اثنا سکیورٹی ایجنسیوں پرسیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیداکرنے کا الزام عائد ہوئے عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی انجینئررشید نے ریاستی گورنر کے نام ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا کہ اگر ان کی سرگرمیوں پر لگائی گئی قدغنیں فوری طور نہیں ہٹائی گئیں تو وہ مجبورا اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوجائیں گے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا اگر میں رائے شماری کی بات کرتا ہوں تو وہ کوئی جرم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا میں پوری دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ بھارت کی جمہوریت ننگی ہوچکی ہے اور ایک اکیلے انجینئررشیدکا سامنا نہیں کرسکتے ۔حریت رہنما سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں مزید فوج بھیجنا عالمی برادری کیلئے چیلنج ہے مقبوضہ کشمیر میں مزید بھارتی فوج پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ ہے، میاں صاحب نریندر مودی کی باتوں اور مسکراہٹوں پر نہیں جانا چاہئے۔ بھارت سے دوستی بڑھانے پر کشمیریوں میں مایوسی پھیلتی ہے۔