نفاذ اردو کیلئے مزید وقت نہیں دے سکتے : سپریم کورٹ

29 جنوری 2016

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + آن لائن)سپریم کورٹ نے ملک بھر میں اردو کو رائج کرنے کے مقدمے میں حکومت پنجاب کی جانب سے ٹائم فریم میں اضافے کی درخواست خارج کردی ہے۔ حکومت پنجاب نے تین ماہ کا وقت نظر ثانی کی درخواست میں مانگا تھا، عدالت نے دینے سے انکارکردیا ہے۔ عدالت نے قومی زبان اردو کو رائج کرنے کیلئے وفاقی حکومت سمیت صوبوں سے چار ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ حکومت تین ماہ میں اردو کا نفاذ نہیں کرسکی مزید میں کیا کرے گی۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ عدالت نے اردو کے نفاذ بارے رپورٹ مانگی تھی اور اردو کو تین ماہ میں رائج کرنے کیلئے نہیں کہا تھا۔ انہوں نے یہ ریمارکس وزیراعظم توہین عدالت سمیت دیگر درخواستوں کی سماعت میں دیئے۔ عدالت نے وزیراعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انگریزی میں خطاب کے خلاف توہین عدالت کی دائر درخواستوں کی سماعت کو پنجاب حکومت سمیت دیگر کی رپورٹس آنے تک موخر کردیا۔ حکومت پنجاب کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ ہمیں اردو کے نفاذ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم اس کیلئے جو عدالت نے ٹائم فریم دیا تھا اس میں اضافہ کیا جائے جس کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مزید وقت نہیں دے سکتے جائیں اور اردو کا نفاذ کریں۔ جسٹس قاضی عیسیٰ فائز نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے عمل درآمد کے لئے مشاورت سے تین ماہ کا وقت دیاتھا مگر کسی صوبے نے پیش رفت رپورٹ جمع نہیں کروائی‘ صوبہ پنجاب ویسے تو بہت ترقی کر رہا ہے مگر ایک رپورٹ تک جمع نہیں کروائی گئی؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ صرف پنجاب ہی نہیں تاحال کسی صوبے نے رپورٹ جمع نہیں کروائی۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ فیصلے پر نظرثانی کی اپیل صرف صوبہ پنجاب نے دائر کی ہے اور کسی صوبہ نے نہیں۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ تین ماہ کا وقت آپ سمیت تمام لاء افسروں نے خود مانگا تھا جب ٹائم لائن دی تو آپ کو پیش رفت رپورٹس پیش کرنا ہیں، جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ آپ نے عدالت کے ایک عبوری حکم پر عمل نہیں کیا افسوس کی بات ہے پنجاب حکومت ویسے تو بہت ترقی کر رہے مگر ایک رپورٹ فائل نہیں کرسکتی۔