مسئلہ فلسطین حل کئے بغیر تشدد پسند گروپوں کوشکست دینا ممکن نہیں:ملیحہ لودھی

29 جنوری 2016

نیو یا رک (آن لائن)پاکستان نے اسرائیلی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ مقبوضہ علاقوں میں جاری ایک مستقل تنازع کی وجہ سے ان کی ریاست کی نوعیت تباہ ہوسکتی ہے اور یہ جنگ اسرائیل کی عائد کردہ سرحدوں کو پار کرسکتی ہے۔سکیورٹی کونسل میں مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر فلسطین کی موجودہ صورت حال پر ہونے والی بحث میں شامل ہوتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ 'فلسطینیوں کی موجودہ حالت زار کی وجہ سے مسلم دنیا اور عرب مسلمانوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کے نظریات اور مشرق وسطیٰ میں تشدد پسند گروپوں کو اْس وقت تک شکست دینا ناممکن ہے جب تک مسلمانوں خاص طور پر فلسطینیوں کے خلاف ہونے والی نا انصافیوں کو انصاف اور مؤثر طریقے سے حل نہیں کردیا جاتا۔انھوں نے کہا کہ حالیہ واقعات سے یہ نتیجہ دوبارہ اخذ کیا جارہا ہے کہ مقدس زمین پر اْس وقت تک مکمل امن یا استحکام نہیں آسکتا، جب تک اسرائیل ایک خود مختار فلسطینی ریاست کی سرحدوں کو تسلیم نہیں کرلیتا جو 1967 سے پہلے کی ہیں اور اس کا دارالحکومت القدس شریف ہے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ بدقسمتی سے اسرائیل نے مکمل طور پر غیر لچکدار پالیسی کو اپنا رکھا ہے، جس میں اسرائیلی آباد کاروں کے لیے زیادہ سے زیادہ زمین حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ اس کی وجہ سے دو ریاستی حل کو حاصل کرنے میں مزید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے ایک سال میں سب سے زیادہ زمین پر قبضے کی رپورٹس پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی تشویش میں ہم بھی شریک ہیں۔ فلسطین کو طویل کرنے کے لیے سٹیج قائم کیا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سیاسی ناانصافیوں اور غیر انسانی رویوں پر مبنی سلوک میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایک خود مختار اور محفوظ فلسطینی ریاست کے حق سمیت مقبوضہ فلسطینی اور عرب علاقوں اور فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کی تکمیل کے لیے اسرائیل کی واپسی ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے نفاذ کے سلسلے میں سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔ملیحہ لودھی کا مزید کہنا تھا کہ داعش نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کیلئے ایک خطرہ بن کر سامنے آ رہی ہے، اسے روکنا اور شکست دینا ہوگی۔