حکومت مخالف اتحاد نے اورنج ٹرین منصوبے کیخلاف تحریک کا اعلان کر دیا

29 جنوری 2016

لاہور (خصوصی نامہ نگار) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید کی قیادت میں بننے والے حکومت مخالف اتحاد نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا، چار جماعتی اتحاد پہلے مرحلے میں 2 فروری کو جی پی او چوک میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کریگا۔ تحریک کا اعلان گزشتہ روز میاں محمودالرشید نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر خرم جہانگیر وٹو، ق لیگ کی خدیجہ عمر، تحریک انصاف کے ایم پی اے ڈاکٹر مراد راس اور شعیب صدیقی بھی انکے ہمراہ تھے۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ چینی بینک سے 160 ارب لیکر اورنج ٹرین منصوبے شروع کرکے حکومت نے پنجاب کے 10کروڑ عوام کو گروی رکھ دیا، 23 ہزار نوجوانوں کی نوکری ختم، صحت، تعلیم، صاف پانی، سیوریج، قبرستانوں کی تعمیر مرمت، سولر پینلز، کسانوںکو دی جانیوالی سہولتوں کی فراہمی، دیہی علاقوں میں ہیلتھ انشورنس اور دیگر منصوبوں کے فنڈز کو ٹرین کی پٹڑی پر چڑھا دیا گیا۔ صحت اور تعلیم کیلئے مختص بجٹ کو بھی سرنڈر کرانیکی کوشش کی جا رہی ہے۔ مہنگے قرضے لینے والی تجربہ کار حکومت کی سنگین غلطی کا خمیازہ اس بار بھی غریب عوام بھگتے گی۔ جتنی رقم صرف27.1کلومیٹر ٹرین پر لگائی جا رہی ہے اس سے25ہزار سکول، 500 ہسپتال اور صاف پانی کے100 منصوبے لگائے جا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اورنج ٹرین حقیقی معنی میں نقصان عامہ کا منصوبہ ہے، عام شہریوں کو جبری طور پر بے گھر کیا جا رہا ہے، لوگوں سے انکا کاروبار چھینا جا رہا ہے، منصوبے سے مجموعی طور پر 10لاکھ افراد متاثر ہونگے۔ قائد حزب اختلاف نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت قبضے سے قبل متاثرین کو مارکیٹ سے کم ازکم 25 فیصد زائد رقم ادا کرے، تاریخی عمارتوں کا تحفظ یقینی بنائے، چینی بینک سے کن شرائط پر اتنا بھاری قرض لیا گیا اسے منتخب ایوان پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے اور منصوبے سے متعلق اعتماد میں لیا جائے۔