مطالبات کے حق میں اساتذہ کے لاہور سمیت کئی شہروں میں مظاہرے

29 جنوری 2016

لاہور (سٹاف رپورٹر+ نامہ نگاران) صوبائی دارلحکومت میں سینکڑوں مرد و خواتین اساتذہ و عہدیداروں نے پنجاب ٹیچرز یونین لاہور نے پریس کلب لاہور کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اساتذہ نے بینرز اٹھا رکھے تھے اور اپنے مطالبات کے حق میں مسلسل نعرے بازی کرتے رہے۔ اساتذہ سے خطاب کرتے رانا لیاقت علی، اسلم گھمن، سعید نامدار، میاں ارشد، چوہدری محمد علی، مصطفی سندھو، ملک سجاد، رانا خالد، مرزا طارق، طاہر الاسلام، حافظ نذیر گجر، رانا الیاس، رائو افتخار، اکرم بٹ، ذوالفقار شیخ، حفیظ انصاری، یار محمد، جاوید، امجد، محمد اکرم، ذوالفقار مغل، ملک زوار، قاری وہاب، میاں محمد ارشد، سید محمود رضا، رانا یاسر مسعود، زکی اللہ، ممتاز اعوان، سلیم چوہدری، شبیر، شیخ مقبول، نذر شاہ، شبیر منڈیال، رئوف پیرزادہ، آغا سلامت، اشرف بٹ، رخسانہ و دیگر نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات قبول نہ کئے گئے تو 31 جنوری کو احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلہ کا اعلان کیا جائے گا۔ موجودہ حکومت اساتذہ کو عزت و وقار دینے کی بجائے ذلیل و رسوا کر رہی ہے۔ کلیریکل ملازمین کے گریڈ اپ کر دیئے گئے ہیں لیکن اساتذہ کی تعلیمی قابلیت ان سے کہیں زیادہ ہے، ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ جونیئر کلرک سے کم پے سکیل میں کام کر رہے ہیں، ہمیں اپ گریڈیشن کیلئے ایک سال سے ٹرخایا جا رہا ہے۔ پیک کے امتحان 5th,8th سے قبل تعلیمی اداروں کو بند کرنا اساتذہ کیخلاف سازش ہے جس سے پانچویں اور آٹھویں کے بچوں کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے جس سے نتائج بری طرح متاثر ہوتے ہیںاور خراب رزلٹ کی سزا اساتذہ کو دی جاتی ہے۔ میونسپل ٹیچرز 2002 ء سے کشمکش کا شکار ہیں نہ تو ٹیچر پیکیج دیا جاتا ہے اور نہ ہی پرموشن ملتی ہے مفاد پرست عناصر من مانے قوانین پر عمل درآمد کر کے میونسپل اساتذہ کا استحصال کر رہے ہیں۔ درجنوں ہائی سکولوں میں ہیڈ ماسٹرز کی پوسٹیں خالی پڑی ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کا قیام اور گورنمنٹ سکولوں کی پیف کو حوالگی دراصل محکمہ تعلیم سکولز پنجاب کو ختم کرنے کی سازش ہے۔ چار ہزار سے زائد سرکاری سکولوں کی پیف کو حوالگی دراصل پنجاب حکومت کی 7 سالہ تعلیمی پالیسیوں کی ناکامی کہ منہ بولتا ثبوت ہے۔ علاوہ ازیں قصور، ننکانہ، بہاولپور، پاکپتن، اوکاڑہ، سیالکوٹ، کالاباغ سمیت کئی شہروں میں مظاہرے کئے، ریلیاں نکالیں۔ قصور سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق اساتذہ نے مطالبات کے حق میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اساتذہ نے نعرے بازی کی۔ ٹیچرز جن میں فیمیل ٹیچرز بھی شامل تھیں نے ہاتھوں میںکتبے اور بینرز پکڑ کر لاہور قصور روڈ پر احتجاج کیا اور لاہور قصور روڈ کو بلاک کئے رکھا۔ اس دوران مظاہرین نے ڈی سی او آفس کے سامنے مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا جس پر پولیس حرکت میںآگئی اور مظاہرین کو کشمیر چوک سے آگے جانے سے روک دیا۔ مقررین نے کہا حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروںکی نجکاری کو نامنظورکرتے ہیں۔ پنجاب ایجوکیشن کمیشن (PEC) کی جانب سے رزلٹ کی بنیادوں پر اساتذہ کو دی جانے والی سزائوں کو فوری بند کیا جائے۔ ننکانہ صاحب سے نامہ نگار کے مطابق پنجاب ٹیچر یونین کے زیراہتمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے قیام، اساتذہ کو بلاجواز سزائوں اور اپ گریڈیشن نہ کرنے کیخلاف سمیت دیگر مطالبات کے حق میں احتجاجی ریلی نکالی گئی اور بیری والا چوک میں احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ احتجاجی ریلی کی قیادت ضلعی صدر پنجاب ٹیچر یونین چوہدری منیر انجم نے کی۔ اس موقع پر ضلعی جنرل سیکرٹری فیاض انجم، سینئر نائب صدر نصر اللہ تارڑ، نائب صدر عبد الحق سیفی، انفارمیشن سیکرٹری رانا محمد اسلم سمیت ضلع بھر سے سینکڑوں اساتذہ نے شرکت کی۔ شرکاء نے احتجاجی دھرنا دیا اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔ اساتذہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے تحریک انصاف کے ضلعی صدر چوہدری متصف سندھو نے بھی احتجاجی دھرنے میں شرکت کی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کا قیام تعلیم میں سیاسی مداخلت کے مترادف ہے جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔