زلزلوں کے باعث پنجاب میں 10 ہزار سے زائد عمارتوں کی حالت مخدوش

29 جنوری 2016

لاہور(رپورٹ شہزادہ خالد) زلزلوں کے باعث صوبہ پنجاب میں مخدوش حالت کی 10 ہزار کے قریب سرکاری اور غیر سرکاری عمارتیں انتہائی خطرناک حالت میں آ گئی ہیں جو مزید زلزلے برداشت کرنے کے قابل نہیں رہیں اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ زلزلے کثرت سے آنے کی وجہ سے مخدوش حالت کی عمارتوں میں رہائش پذیر ایک لاکھ کے قریب شہریوں کی جانوں کو لاحق خطرات بڑھ گئے ہیں۔ لاہور سمیت 8634 عمارتیں رہائش کے قابل نہیں رہیں۔ بہا ولپور میں 784، ملتان 2190، ڈی جی خان1185، ساہیوال 532، فیصل آباد 746، لاہور 762، گوجرانوالہ 453، سرگودھا 1170 اور راولپنڈی ڈویژن میں 812 عمارتیں خطرناک اور مخدوش قرار دی گئی ہیں۔ انتہائی خطرناک عمارات کی تعداد 1831 ہے۔ خطرناک اور مخدوش عمارات کو فوری طور پر مکینوں سے خالی کروانا انتہائی ضروری ہے۔ حکومتی رپورٹ کے مطابق 748 عمارات کو فوری طور پرگرا دیا گیا ہے جبکہ آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیںہوئی ہے تاہم پنجاب حکومت کی جانب سے 4365 عمارتوں کے مالکان کو عمارتیں خالی کرنے کے نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ 400 کے قریب سرکاری عمارتیں ایسی ہیں جو قابل استعمال نہیں ہیں اور انکی عارضی مرمت کر کے کام چلایا جا رہا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے نزدیک پوسٹل لائف انشورنس کی عمارت کے بھی ایک طرف جھکنے کی اطلاع ہے۔ ایک ماہ قبل پی ڈی ایم اے کی طرف سے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ کسی بھی زلزلہ کی صورت میںفوری طور پر عمارات کا سرو ے ا ور معائنہ شرع کر دیا جائے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا اور روائتی کاغذی کارروائی جاری ہے۔