144 برس بعد بھی چڑیا گھر لاہور کے ملازمین کیلئے سروس رولز نہ بن سکے

29 جنوری 2016

لاہور(چودھری اشرف) لاہور چڑیا گھر کے قیام کو 144 سال گذرنے کے باوجود اس کے ملازمین کے لیے کوئی سروس رولز نہیں بنائے جا سکے۔ جس کی بنا پر محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کے افسران کو تعینات کر کے ملازمین پر حکمرانی کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ لاہور چڑیا گھر جہاں اس وقت 161 ملازمین کام کر رہے ہیں سروسز رولز نہ ہونے کی بنا پر عرصہ دراز سے ایک ہی عہدہ پر کام کر رہے ہیں کسی ملازم کو ترقی کا حق حاصل نہیں۔ چڑیا گھر کے ملازمین کے لیے کوئی سروس رولز نہ ہونے کی بنا پر وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف کی جانب سے گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کو مستقل کرنے کے احکامات پر تمام سرکاری اداروں میں عمل درآمد ہوا تاہم چڑیا گھر کے ملازمین اس سکیم کا فائدہ اٹھانے سے محروم رہے۔ ملازمین کی طرف سے محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے اعلٰی حکام کے سامنے متعدد بار مطالبات پیش کیے جاتے رہے ہیں لیکن کسی افسر کی جانب سے ملازمین کی ایک نہ سنی گئی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات کی طرف سے چڑیا گھر کے ملازمین کے لیے کوئی سروس رولز نہ ہونے کی بنا پر درجہ چہارم کے ملازمین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا 1992ء میں پاس ہونے والے سروس رولز میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ایم ایس سی اور اس فیلڈ میں تین سال کا تجربہ رکھنے والے محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کے کسی افسر کو لگایا جا سکتا ہے۔ جہاں تک دیگر ملازمین کے سروس رولز کی بات ہے اس سلسلہ میں کام کیا جا رہا ہے ایک کیمٹی بھی بنائی گئی ہے۔