حکومت کو در پیش سنگین چیلنج۔۔۔!

29 جنوری 2016

باچا خان یونیورسٹی کی قیامت پر وزیراعظم ملک سے باہر تھے۔ دو ملکوں میں صلح کروانے بھیجا تھا، انہوں نے روایتی بہو والا سلوک کیا۔ بہو گھر سے کسی کام کو بھی جائے تو واپسی پر میکے ضرور چکر لگاتی ہے۔ وزیراعظم کو کہیں جانا ہو آتے جاتے لندن قیام لازمی ہے۔ خاتون اول کو لے کر شہیدوں کے گھر تعزیت کو جاتے تو محسوس ہوتا کہ پورے ملک کا وزیراعظم ہے۔ دشمنان اسلام روز اول سے توہین رسالت کے پہلو تلاش کرتے چلے آ رہے ہیں، کبھی خاکوں کی صورت میں اور کبھی فلمیں بنا کر اور کبھی کتابیں لکھ کر۔ داعش کا وجود بھی اسی سازش کا حصہ ہے کہ اسلام کو بدنام کرنے کے لئے (خلافت) کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کی اراضی پر قبضہ کیا جائے اور پھر ہر ریاست میں ایک پپٹ نائب مقررکر دیا جائے۔ خطہ عرب پر بھی انگریزوں نے یہی ہتھکنڈا استعمال کیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بھی دشمنان اسلام نے اسلام کو آڑ بنا کر نہ صرف عرب سرزمین کو تقسیم کیا بلکہ اسلام کو بھی مسالک میں تقسیم کر دیا۔ مسئلہ کشمیر کی طرح انگریز جہاں گیا مسلمانوں کے لئے کوئی نہ کوئی ایسا ایشو اور فتنہ چھوڑ آیا کہ صدیاں بیت گئیں لیکن مسلمان ان مسائل سے نکلنے کی بجائے اُلجھتے ہی جا رہے ہیں۔ عرب ممالک کا مسئلہ پاور اور تیل ہے جبکہ پاکستان کے پاس نہ پاور ہے نہ تیل، اس کا مسئلہ ’’اوروں کے کام آنا‘‘ ہے۔ جہاں سے امداد اور قرض ملے وہی اس کا دوست ہے۔ ماضی کے محافظوں اور سیاستدانوں کے بلنڈرز کا نتیجہ موجودہ حکمران بھی بھگت رہے ہیں۔ بجلی، گیس تو آتے آئے گی لیکن بچوں کو بھی تحفظ مہیا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بجلی گیس سے بھی زیادہ مشکل چیلنج اپنی نسلوں کو بچانا ہے۔ آرمی سکولز اور پنجاب کے تعلیمی اداروں کو ہفتہ بھر کے لئے بند کر دیا گیا۔ حکومت اور فوج کو تشویشناک صورتحال درپیش ہے۔ حساس صورتحال ہے کہ کس جماعت اور تنظیم پر ہاتھ ڈالیں اور کس کو نظر انداز کریں کہ پوری قوم کسی نہ کسی مذہبی جماعت، تنظیم، درسگاہ یا پیرخانے سے منسلک ہے۔اس سے بھی زیادہ پریشان کن صورتحال یہ ہے کہ تعلیمی درسگاہوں کے باہر سے دہشت گرد پکڑ بھی لئے جائیں تو اندر بیٹھے سہولت کاروں کو کیسے پہچانا جائے۔ سہولت کاروں نے نقاب اور دستانے پہن رکھے ہیں۔ بظاہر معصوم دکھائی دینے والے الا ماشاء اللہ اساتذہ، سٹاف، یونیورسٹی کالجوں کے سٹوڈنٹس پر شبہ کرنا اور پکڑ دھکڑ حساس چیلنج ہے۔ کون کس جماعت یا گروپ کا سہولت کار ہے، یہ تفتیش امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک بھی نہیں کر سکتا۔ دہشت گرد پنجاب پر نظر لگائے ہوئے ہیں کہ پنجاب کی تعلیمی درسگاہوں پر بڑے حملے کئے جائیں تاکہ ملک کی کمر توڑی جا سکے۔ حکمرانوں اور محافظوں کو تنقید کا نشانہ تو بنایا جاتا ہے لیکن ٹھنڈے دل سے ان کی جگہ کھڑے ہو کر سوچا جائے تو دہشت گردوں کا تعاقب اور پیشگی کارروائیوں کو روکنا بہت بڑا امتحان ہے۔ دہشت گردوں کو تعلیمی اداروں کے اندر سے سپورٹ حاصل ہے۔ عوام کسی نہ کسی بابے کے ساتھ جذباتی طور پر منسلک ہیں تو کون سے عوام سے توقع کی جائے کہ وہ مذہبی جماعتوں اور اداروں پر کریک ڈائون میں حکومت کا ساتھ دیں گے؟ مذہبی تنظیموں اور روحانی پیشوائوں سے ہمیشہ سے خود سیاستدان کے بھی ذاتی تعلقات رہے ہیں۔ قاتلوں کو بھی غازی اور شہید مانتے ہیں جبکہ عدالت جذبات نہیں حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔ دو سال قبل ملا عمر کی موت کی خبر نے طالبان کی تنظیم کو کمزور کر دیا۔ اسامہ بن لادن کی موت نے بھی القاعدہ کی کمر توڑ دی۔ غیر ملکی ذرائع کے مطابق داعش تنظیم مایوس طالبان اور القاعدہ کارکنان کو داعش میں بھرتی کر رہی ہے۔ مسلمانوں کو یقین ہے کہ داعش ایک غیر مسلم تنظیم ہے جس کا ریموٹ کنٹرول غیر مسلم طاقتوں کے ہاتھ میں ہے۔ دشمنان اسلام کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے اور اس کا ایک ثبوت داعش ہے۔ داعش میں ’’نکاح بالجہاد‘‘ اسلام کو بدنام کرنے کی ایک گھنائونی سازش ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق داعش کے جنگجوئوں کے ہتھے چڑھنے والی خواتین خوش ہیں کہ وہ مجاہد اور غازی پیدا کر رہی ہیں۔ اس قدر کراہت آمیز کہانیاں ہیں کہ نہ لکھی جا سکتی ہیں اور نہ سُنائی مگر حقائق سے نظریں بھی نہیں چُرائی جا سکتیں۔ دشمنوں کی تخریب کاری ہے کہ مسلمانوں کی عورتوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرو اور اسے اسلام قرار دو۔ کوئی بھی یہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہا کہ یہ داعش درحقیقت ایک بدمعاش ٹولہ ہے جو دشمنان اسلام کے لئے کام کر رہا ہے، قبضہ گروپ ہے جبکہ مالک یہود و نصاریٰ میں سے ہیں۔ پاکستان میں برقعہ پوش مولانا سمیت داعش کے کئی سہولت کار تخریب کاری میں مصروف ہیں۔ پنجاب حکومت کے لئے چھاپے مارنا اور مذہبی جماعتوں کو اپنے خلاف کر لینا ایک حساس اقدام ہے۔ لیکن مرنے سے پہلے مارنا ہو گا۔ اس سے پہلے کہ تمہاری نماز پڑھی جائے، نماز پڑھ لو۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو ایک پیچ پر متحد ہونا ہو گا۔ کروڑوں جانیں بچانے کے لئے ہزاروں جانوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہو گا۔ تعلیمی اداروں کو کب تک بند کیا جا سکتا ہے۔ والدین اور بچوں کو نفسیاتی مسائل کا شکار کیا جا رہا ہے۔ نسل کشی کی اس مکروہ سازش کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ داعش کا بڑا مقصد ملکوں اور شہروں پر قبضہ ہے۔ افغانستان کے طالبان کا مؤقف اپنی سرزمین تک محدود تھا اور القاعدہ سعودی عرب اور امریکہ سے ناراض تھے لیکن داعش خطرناک ترین کلٹ ثابت ہو رہاہے۔ اندرون ملک شدت پسند جماعتیں اور لشکر بیرونی فنڈز کی محتاج ہیں البتہ دولت اسلامیہ المعروف داعش قطعی طور پر بُغض اسلام میں بنائی گئی تنظیم ہے۔ لال مسجد کی تاریخ دُہرا رہی ہے۔ اس سیاسی مسجد کے اندر بغاوت کی سازش پکائی جاتی ہے۔ یہ مسجد نہیں باغیوں اور خارجیوں کا اڈا ہے۔ وفاق اور پنجاب سب جانتے ہوئے بھی معذور ہیں جس کا سبب مسجد کے پس پشت لمبے ہاتھ ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ کب تک چلتا رہے گا؟ کون بنے گا مسیحا؟ تعلیمی اداروں کو بند کر دینے یا عملے کو تربیت دینے سے خطرہ ٹل نہیں سکتا۔ احتیاط لازم سہی لیکن حل نہیں۔ داعش تنظیم شام اور عراق میں خلافت کی خوش فہمی کے بعد افغانستان اور پاکستان کا رُخ کر چکی ہے۔ لیکن پاک فوج سے زیادہ تربیت یافتہ اور جرأت مند کوئی فوج نہیں لہٰذا پاکستان ہر قسم کے داعش اور بدمعاش کو سر اٹھانے سے پہلے کچلنے کی جرأت اور صلاحیت رکھتا ہے۔