’’گڈگورننس مرچنٹ‘‘

29 جنوری 2016

ہر حوالے سے مجرمانہ اور بے حس تاخیر کے بعد ہی سہی مگر دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہوئے سفاکانہ حملے کے بعد ہمارے حکمران یہ عہد کرتے نظر آئے کہ ’’بہت ہوگیا‘‘۔ بیس کروڑ تک پہنچی آبادی والے پاکستان کو جو دفاعی حوالوں سے کئی طرح کی مشکلات کا شکار ہے اب مذہب کے نام پر انتہاء پسندی اور دہشت گردی پھیلانے والوں کا یرغمال بنے رہنے نہیں دیا جاسکتا۔
آپریشن ضربِ عضب شروع ہوا۔ اسے سیاسی، آئینی اور قانونی حوالوں سے قوت وتوانائی فراہم کرنے کے لئے کل جماعتی کانفرنس ہوئی۔ پارلیمان کے ہنگامی اجلاس ہوئے۔ پھانسی کی سزا بحال ہوئی۔ فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا اور تحفظ پاکستان نام کا قانون پاس ہوا۔ جنوری 2016ء کے آغاز کے ساتھ ہی مگر چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر APSپر ہوئے حملے جیسا ایک اور واقعہ ہوگیا۔
اس واقعہ کو ’’ٹوٹی کمر والے‘‘ دہشت گردوں کی چراغ کے بجھنے سے پہلے پھڑپھڑاہٹ ٹھہرا کر ہم نے خود کو مطمئن کرنے والی کہانی گھڑلی۔ پٹھان کوٹ پر حملے کے بعد چونکہ بھارتی وزیر دفاع نے ایک بڑھک بھی لگادی تھی لہذا اس بڑھک کو ضرورت سے زیادہ اچھال کر ہم نے حقائق کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر دیکھنے سے گریز کیا۔
حقائق سے نظریں چرانے میں ہماری مدد کو آیا پھر ایک ٹویٹ۔ پیر سے بدھ کی شام تک ریموٹ کے بٹن دباکر جو بھی چینل دیکھا، اس پر بیٹھے بقراط صرف اس بات کا سراغ لگاتے پائے گئے کہ وہ کونسی محلاتی سازشیں تھیں جنہوں نے جنرل راحیل شریف جیسے کھرے سپاہی کو وقت سے کہیں پہلے لوگوں کو یقین دلانے پر مجبور کیا کہ وہ اپنی معیادِ ملازمت میں توسیع کے خواہش مند نہیں ہیں۔
راحیل شریف نے اپنے ارادے کا اظہار دو ٹوک الفاظ میں کیا تھا۔ اس کے باوجود انگریزی محاورے والے پیالے کے ہونٹوں تک پہنچنے والے وقفے میں چھپے ’’امکانات‘‘ کا تذکرہ شروع ہوگیا۔ اس تذکرے نے کم از کم مجھے تاریخ کے وہ دن یاد کرنے پر مجبور کردیا جب ہلاکو خان بغداد کی فصیل کے باہر آپہنچا تھا، مگر وہاں کے علماء اور دانش ور بازاروں میں جمع گروہوں کے مابین بیٹھے فروعی مسائل پر مناظروں میں مصروف تھے۔ بے بنیاد سازشی کہانیوں کی بنیاد پر چسکہ فروشی کی کوئی توحد ہونا چاہیے۔ جمہوریت میں سوعیب ہیں مگر آزادیٔ اظہار کی اصل قوت ہے۔ یہ آزادی لوگوں کو خوئے غلامی سے نجات دلاکر حقائق کو ہر ممکنہ زاویے سے دکھاتے ہوئے خیر کی راہ ڈھونڈنے کا وسیلہ بنتی ہے۔
میری بدقسمتی کہ آزادیٔ اظہار کی اس نعمت کو سکرینوں پر عقل کل نظر آنے والے افراد نے جہالت کے فروغ اور چسکہ وسیاپا فروشی کی بھینٹ چڑھادیا۔ غوروفکر کی صلاحیت سے قطعاََ محروم ریٹنگوں کے متلاشی کلاکاروں نے حقائق کے بارے میں ٹھوس سوالات اٹھاتے ہوئے حکمرانوں کو مسائل سے نبردآزما ہونے پر مجبور کرنے کی عادت ہی ترک کردی۔
بدھ کے روز دل کو دہلا دینے والی حقیقت تھی تو اتنی کہ اٹک سے لے کر رحیم یار خان تک پھیلے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے تعلیمی ادارے ’’ٹھنڈ‘‘ کے خوف سے بند کردئیے گئے۔ شدید سردی سے بچوں کو مائوں جیسا تحفظ فراہم کرنے کے دعوے دار ’’گڈگورننس مرچنٹ‘‘ قطعاََ بھول گئے کہ آج کے دور میں ایک شے ہوتی ہے سمارٹ فون۔ اس فون میںایک Whats Appنام کی سہولت بھی ہوتی ہے۔
گڈگورننس کی کئی برسوں سے یک وتنہاء علامت ٹھہرائے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے دفتر سے پنجاب کے تعلیمی اداروں کی نگہبانی کرنے والے افسروں کے نام ایک سرکلر جاری ہوا تھا۔ اس سرکلر کی بہت ساری کاپیاں انٹرنیٹ اور فون کے ذریعے مجھ تک بھی پہنچی ہیں۔ میں اس سرکلر کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔ ایک ذمہ دار صحافی ہوتے ہوئے صرف اتنا عرض کروں گا کہ نظر بظاہر دہشت گردوں کے Chatterکو مانیٹر کرنے والوں کو ٹھوس اطلاعات مل رہی تھیں کہ خیبر پختونخواہ کے بعد اب پنجاب کے تعلیمی اداروں پر حملے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔
Chatterکی بنیاد پر ابھرے خدشات کو ذہن میں رکھتے ہوئے تعلیمی ادارے بند کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ نائن الیون کے بعد ہوم لینڈ سیکیورٹی کی بدولت خود کو محفوظ بنائے امریکہ کی دو ریاستوں نے بھی گزشتہ ہفتے کئی شہروں میں تعلیمی اداروں کو ممکنہ دہشت گردی کے خوف سے بند رکھا تھا۔ شہباز شریف کے چہیتے نورتنوں کو ’’ٹھنڈ‘‘ کا جواز گھڑنے کی ہرگز ضرورت نہیں تھی۔
یہ جواز اس وقت تو مزید مضحکہ خیز نظر آنے لگا جب بدھ کی شام ٹی وی سکرینوں پر چلائے ٹِکروں کے ذریعے لوگوں کو بتایا جانے لگا کہ کونسے کونسے شہر میں کتنے تعلیمی اداروں کو مناسب حفاظتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے فی الحال Sealکردیا گیا ہے۔یونیورسٹیوں کے طلباء ’’ٹھنڈ‘‘ کے سامنے معصوم بچوں کی طرح بے بس نہیں ہوتے۔ ملتان کی بہائو الدین یونیورسٹی کو لیکن نہ صرف بند کردیا گیا بلکہ اس کے ہاسٹل کو بھی فوری طورپر خالی کروانے کے احکامات بھی صادر ہوئے۔
خود کو لکھتے ہوئے کسی ضبط کے تابع رکھنے کے تمام تر تقاضوں کے باوجود میں بہت دُکھی دل کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ جنوری 2016ء کے آخری ہفتے میں پنجاب اسی خوف وہذیان کا شکار نظر آیا جو کئی برسوں سے خیبرپختونخواہ کا مقدر بنا ہوا ہے۔
چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد ہمارے درہّ آدم خیل سے نمودار ہوا ایک خودساختہ ’’خلیفہ‘‘ ہمارے ساتھ ایک وڈیو کے ذریعے ہم کلام ہوا تھا۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں کو اس نے ’’طاغوتی طاقتوں‘‘ کا آلہ کار ٹھہرایا اور بڑھک لگائی کہ وہ انہیں کام نہیں کرنے دے گا۔کم از کم تین دن کے لئے ہی سہی وہ پاکستان کے سب سے بڑے اور اعلیٰ ترین گورننس کے تحت چلائے صوبے میں اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
خدا کے لئے اپنی آنکھیں کھول کر کھلے دل کے ساتھ اپنی ناکامی کا اعتراف کریں۔ آپ کا اعتراف میرے جیسے ریٹنگوں کے متلاشی چسکہ فروشوں کو مجبور کردے گا کہ فی الحال سازشی کہانیوں کا تعاقب چھوڑ کر ہم اپنے لوگوں کو کھل کر بتائیں کہ سرسید کے زمانے سے ’’سکول‘‘ اور ’’مدرسے‘‘ کے درمیان چھڑی جنگ بہت شدت کے ساتھ اب پنجاب کے ہر شہر اور قصبے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ فیصلے کی گھڑی ہے۔ اس سے آنکھیں چرانا اپنے بچوں کے مستقبل کو تاریک بنانا ہے۔ بچوں کو ’’ٹھنڈ‘‘ سے بچانے کے ڈھونگ رچاتے جعلی مائوں ایسے حکمرانوں کے سوانگ، فیصلے کی اس گھڑی میں کسی کام نہیں آسکتے۔

گڈگورننس کا انتظار

زبان خلق تو ایک عرصے سے یہی کہتی نظر آ رہی ہے کہ ملک میں گڈگورننس نظر نہیں آتی ...