اکیسویں صدی کی ایجادات اور اخلاقی تنزلی

29 جنوری 2016

مکرمی! اللہ نے انسان کو شعور کی دولت سے نواز کر اشرف المخلوقات بنایا اور اسے اچھائی اور برائی کا تصور دیا اسے عقل و فہم دیا کہ وہ اپنے لئے درست راستے کا انتخاب کر سکے جو اس کے پروردگار نے اس کے لئے اس کی صوابدید پہ چھوڑا ہے ۔ علم کی دولت بھی اس کی میراث ہے اور کائنات کو مسخر کرنا اس کا حق پر باوجود علم و دانش کے جدید دور کی آسائشات کے انسان ذہنی طور پر اخلاقی طور پر پسماندگی کا شکار ہے ۔نہ رشتوں کا احترام ہے نہ تقدس موبائل اور رنگ برنگے چینلز پر چلنے والے پروگرام اور زہنی پسماندگی کی و جہ بن رہے ہیں اور آج آزاد پاکستان میں ہماری نئی نسل اشیرواد، بھگوان ، وشواس کے لفظ عام بولتے ہوئے نظر آتی ہے ۔ یا پھر ڈور ِموں کے کارٹون کے کردار بن کر فخر محسوس کرتی ہے ۔ جو پا کستانی چینلز ہیں ان پر یا تو سیاستدانوں کے جھگڑے ہیں یا انڈین کاپی کرتے ہوئے مارننگ ایونگ شوز جہاں صرف ناچ گانا اور اوٹ پٹانگ حرکتیں اس لئے یہ بچوں کا قصور نہیں ہم بڑوں کی غلط پالیسیاں ہیں ۔ ہمیں اچھے پروگرام لگانے چایئے تعلیمی اور تفریحی تاکہ طلباء کی حوصلہ افزائی ہو ٹاپ کرنے والے بچوں کو میڈیا پر لایا جائے۔ چھوٹے بچوں کے لئے اصلاحی کار ٹون اخلاقی سبق کے ساتھ ہونے چایئے ۔ سیل پہ پیکجز نہیں ہونے چائیے تاکہ نوجوان نسل گھنٹوں خود کو باتوں میں انگیج نہ رکھیں ۔ اعتدال کے ساتھ ہم اکسیویں صدی میں چلیں تو ترقی ہے ۔ ورنہ تو زوال ہونے کے لئے وقت نہیں لگتا۔ (ریحانہ سعیدہ ،برنی روڈگڑ ھی شاہو لاہور )