پٹھانکوٹ کا بدلہ ‘ باچہ خان یونیورسٹی پر حملہ

29 جنوری 2016

2جنوری 2016 کو بھارتی فضائیہ کے اہم بیس پٹھانکوٹ پر مبینہ دہشتگردوں نے حملہ کر دیا اور سات بھارتی سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے جبکہ چھ دہشت گرد بھی 85 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد ہلاک کر دئیے گئے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حملہ آوروں کی آج تک شناخت نہ ہو سکی لیکن بھارتی میڈ یا حملے کی ابتدا ہی سے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے۔ بھارتی حکومت نے پاکستان کا نام لئے بغیر دہشتگردوں اور انکی پشت پناہی کر نیوالوں کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا۔ جواباً پاکستان نے بھارت کی جانب سے مہیا کی گئی اطلاعات پر تفتیش کر نے کا وعدہ کر لیا اور کالعدم جماعت جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو تفتیشی کارروائی کی خاطر حراست میں لے لیا۔ اسکے باوجود بھارت کے وزیر دفاع منوہر پریکر نے دھمکی دی کہ ’’بھارت پٹھانکوٹ پر حملے کے مرتکب سے ضرور بد لہ لے گا۔ اگر کوئی اس ملک کو خطرے سے دوچار کر رہا ہے تو اس فرد یا تنظیم کو اسکی خطرناک سرگرمیوںکے عوض ویسی ہی تکلیف پرنچائی جائیگی۔ ہم نے یہ بنیادی اصول اپنایا ہے کہ جب تک ہم اُسے ایسے ہی کرب سے نہ گزاریں اس وقت تک اس قسم کے (دہشتگردی کے) واقعات میں کمی نہیں آئیگی۔‘‘
اس بیان کے دو ہفتے بعد 20 جنوری 2016 کو چارسدہ کی باچہ خان یونیورسٹی پر چار دہشتگردوں نے بھیانک حملہ کر کے 21 افراد جن میں 14 طالب علم اور طلباء شامل تھے کو شہید کر دیا۔ منوہر پاریکر نے اپنا بدلہ لینے میں زیادہ دیر نہ کی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغانستان میں جلال آباد میں واقع بھارتی قونصل خانے میں را کے ایجنٹوں نے دہشتگردوں کو کثیر رقم دے کر افغانستان سے روانہ کیا۔ ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشز (آئی ایس پی آر) نے 23 جنوری کو میڈیا کو بریفنگ کے دوران آگاہ کیا کہ چاروں دہشتگرد عمر، عثمان، علی محمد اور عابد طورخم سے سرحد پار کر کے آئے تو انہیں سہولت کاروں نے محفوظ ٹھکانوں پر ٹھہرایا۔ حملہ آوروں نے اپنے معاونوں کے ذریعہ اسلحہ منڈی درہ آدم خیل سے اسلحہ خریدا۔ ایک سہولت کار عادل نے چارسدہ یونیورسٹی میں مزدور کا روپ دھار کر جاسوسی کرتے ہوئے یونیورسٹی کے احاطے میں داخل ہونے کے راستوں کو جانچا اور حملہ آوروں کو نقشہ فراہم کیا۔ سہولت کار عاصم اور ریاض نے مردان چارسدہ روڈ پر ایک گھر میں حملہ آوروں کے ٹھہرنے کا بندوبست کیا جہاں حملے کی منصوبہ بندی کے آخری مراحل کو عملی جامہ پرنانے کی سازش ہوئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بر یفنگ کے دوران انکشاف کیا کہ ایک سہولت کار نصراللہ نے حملہ آوروں کو رکشہ پر بٹھا کر باچہ خان یونیورسٹی تک پرنچایا۔ معاون عادل، اسکی بیوی اور بھانجی جو درہ آدم خیل سے ممنوعہ بور کے اسلحے کی خریداری میں بھی ملوث تھے تاحال روپوش ہیں جبکہ پانچ سہولت کار میڈیا کے سامنے پیش کئے گئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے تصدیق کی کہ حملہ آوروں نے افغانستان میںاپنے ہینڈلروں سے دس مر تبہ فون پر گفتگو کی انہوں نے حملہ آوروں کی موبائل فون پر اپنے ہینڈلروں سے گفتگو کی، ٹیپ ریکارڈ نگ بھی سنوائیں۔
2014 میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے دوران 140 بے گناہ افراد کو شہید کیا گیا تھا۔ صاف ظاہرتھا کہ 16دسمبر 2014کے حملے کی عر صے سے تیاری کی جارہی تھی جسکے نتیجے میں دہشتگردوں کے نقطہ نظر سے کامیاب آپر یشن کیا گیا۔ فوج نے آپر یش صرف عضب کے نتیجے میں سینکڑوں دہشتگردوں کو کامیابی سے نشانہ بنانا، انکی کمین گاہوں، اسلحہ خانوں اور دہشتگرد حملوںکی ٹریننگ، تدریب اور تر بیت کے اڈوں کو تباہ کر دیا تھا۔ دہشتگرد تلملا رہے تھے اور انہوں نے فوج کے اپنے سکول پر حملہ کر کے انکے جگر گوشوں کو ہدف بنا کر اپنا بدلہ لیا۔ آرمی پبلک سکول پر دہشتگرد حملے کے بعد حکومت ایکشن میں آئی اور مختلف اقدامات کئے گئے جن میں دہشتگردوں کو سزائے موت پر عملدرآمد اہم قدم تھا۔ آرمی پبلک سکول پر حملے کے دوران بھی سکیورٹی اداروں نے دہشتگردوں کے افغانستان میں اپنے ہینڈلروں سے موبائل فون پر گفتگو کی تھی جس کی ریکارڈنگ لیکر آرمی چیف جنرل راحیل شریف اگلے ہی دن کابل تشریف لے گئے تھے اور افغان صدر اور انکے سکیورٹی اداروں کو اسکی کاپی فراہم کی تھی۔ واضح رہے کہ آرمی پبلک سکول پر حملے سے کچھ ہی دن قبل بھارتی حکومت کے قومی سلامتی کے مشیر اور سابق انٹیلی جنس بیورو کے چیف اجیت دوول نے افغانستان میں کابل کے علاوہ مختلف بھارتی قونصل خانوں کا بھی دورہ کیا تھا۔ بارسوخ ذرائع کیمطابق اجیت دوول نے افغانستان میں ’’را‘‘ کے اہلکاروں کو فعال رہنے کا حکم دیا تھا اور پاکستان کے خلاف آپریشن میں تیزی لانے کا حکم دیا تھا۔ قارئین کو شاید یاد ہو کہ پاکستانی حکام بشمول اس وقت سلامتی امور کے مشیر سرتاج عزیز اور وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھارت اور اسکی خفیہ ایجنسی را کے پاکستان میں مختلف دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے ثبوت اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل بان کی مون اور امریکہ کے سیکریڑی خارجہ جان کیری کے حوالے کئے تھے۔ وزیراعظم نواز شریف نے امریکی صدر براق اوبامہ سے اپنی ملاقات کے دوران بھی ’’را‘‘ کی کارستانیوں کا ذکر کیا تھا۔ امریکہ نے بظاہر ان اطلاعات پر کوئی ایکشن تو نہ لیا لیکن اطلاعات کیمطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو تنبیہ کی کہ وہ اجیت دوول کو پٹہ ڈالیں اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری لائیں۔ باچہ خان یونیورسٹی پر حملے کے ماسٹر مائنڈ تحریک طالبان پاکستان کے اہم رہنما ملا عمر منصور نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور میڈیا کو بیان دیا کہ چونکہ آرمی پبلک سکول پر حملے میں تعاون کرنے کے جرم میںگرفتار اسکے چار ساتھیوں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا لہٰذا یہ حملہ ان کا بدلہ لینے کی خاطر کرایا گیا۔ باور رہے کہ آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد بھی ملا عمر منصور نے اسکی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ایکشن تو اصل ماسڑ مائنڈ بھارتی وزیر دفاع منوہر پر یکر کیخلاف لینا چاہئے جنہوں نے پٹھانکوٹ حملے کا ڈرامہ اجیت دوول کے ساتھ مل کر رچایا تھا اور پاکستان کو دھمکی دی تھی۔ بھارت پاکستان پر ایکشن لینے کیلئے دبائو ڈال رہا ہے اور امن مذاکرات کے نام پر بلیک میل کر رہا ہے! ذرا اپنے وزیر دفاع کو تفتیش کی خاطر پیش تو کرے!