آرمی چیف کافیصلہ اورعوام کا خوف

29 جنوری 2016

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنی مدتِ ملازمت میں کسی توسیع کے خواہش مند نہیں اور اپنے عہدے کی معیاد ختم ہونے پر ریٹائر ہونے کو ترجیح دینگے۔ آرمی چیف کے عہدے کی معیاد تین سال ہوتی ہے اور یہ اس سال 29نومبر کو ختم ہو گی۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو جنرل راحیل نے اس فیصلے کا اظہار تقریباً دس ماہ قبل ہی کر دیا ہے۔ اُنہیں اس اعلان کی ضرورت بہت ساری وجوہات کی بنا پر پیش آئی جن کا اظہار ان دنوں میڈیا پر ہر طرف دیکھنے کو مل رہا ہے۔ فوج کو ہر معاملے میں گھسیٹنا ہمارے ہاں ایک معمول بن گیا ہے چاہے سیاستدان ہوں یا میڈیا ہر کوئی اپنے اپنے مقاصد کیلئے ایسا کرتا ہے مگر اس بات کا احساس شاید کسی کو نہیں کہ اس سے فوج پر کیا اثر پڑتا ہے۔ دُنیا کے بہت کم ممالک میں فوج کے خالصتاً پیشہ وارانہ معاملات کو عوامی بحث کا اس طرح حصہ بنایا جاتا ہو گا جیسا کہ ہمارے ہاںہوتا ہے۔ اسکی بُنیادی وجہ ہماری قومی زندگی میں فوج کے ادارے کی بُنیادی اہمیت ہے۔ پاکستان میں فوج کو ایک کلیدی اورمرکزی حیثیت حاصل ہے اور اسے استحکام اور اتحاد کی علامت بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں آج تک صحیح معنوں میں جمہوریت پنپ نہیں سکی جسکی ایک وجہ بار بار کی فوجی مداخلتیں بھی ہیں۔ سیاستدان ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف رہتے ہیں اور اپنے مفادات کے حصول کیلئے فوج کو مداخلت کی نہ صرف دعوتیں دیتے رہتے ہیں بلکہ جب بھی ملک میں فوج کی مداخلت ہوتی تو انہی سیاستدانوں کے کسی نہ کسی گروہ نے نہ صرف اُسے خوش آمدید کہا بلکہ فوج کے ساتھ شریکِ اقتدار بھی رہے۔
فوج ہمارے ہاں ایک واحد منظم اور صحیح معنوں میں پیشہ وارانہ ادارہ ہے۔ ملکی دفاع کے مقدس فریضے کے علاوہ قدرتی آفا ت ہوں یا قانون کی عملداری یا پھر انتخابات کا انعقاد ہر جگہ فوج مرکزی کردار ادا کرتی نظرآتی ہے۔ اگر فوج اپنا آئینی اور پیشہ وارانہ کردار ادا کرے تو پھر بھی موضوعِ بحث اور اگر ایسا نہ کرے تو پھر بھی وجہ تنقید اور موضوعِ بحث غرضیکہ ہر جگہ فوج کے ادارے کو گھسیٹنا ایک رواج بن چُکا ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے مدت ملازمت میں توسیع لی تو باعثِ بحث بنے اور جنرل راحیل نے ایسا نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے تو پھر بھی ہر طرف موضوعِ بحث گفتگو۔ جنرل راحیل شریف نے بظاہر ایسا کسی بھی غیر ضروری بحث اور تنقید کو ختم کرنے کیلئے کیا ہے مگر اُنکے اعلان نے ایک اور بحث کو جنم دے دیا ہے۔ پاکستان فوج نے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں گذشتہ دو سال میں فقید المثال کامیابیاں حاصل کی ہیں جس کی وجہ سے اُنکی بالخصوص اور فوج کی بالعموم قدرو منزلت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ آج اگر یہ کہا جائے کہ وہ پاکستان کی مقبول ترین شخصیت ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ ایسا صرف اس لیے ہوا ہے کہ اُنہوں نے بحیثیت ایک پیشہ وارانہ سپہ سالار کی حیثیت سے اپنے آپ کو ہر قسم کی سیاست سے دور رکھا باجود اس کے کہ ملک میں ایسے سیاسی حالات بھی پیدا کیے گئے جہاں اُنہیں نہ صرف مداخلت کی دعوت دی گئی بلکہ اس مداخلت کو جائز بھی قرار دیا گیا۔ مزید برآں جرنل راحیل نے ان تمام حالات کے باوجود سیاسی اور عسکری قیادت اہم قومی امور پر مشاورت کرتی نظر آتی ہے جس سے فیصلہ سازی میں بھی کافی بہتری عیاں ہے۔ اس اہم موڑ پر جبکہ دہشت گردی کیخلا ف جنگ ایک فیصلہ کُن مور پر پہنچ چکی ہے آرمی چیف کی اپنے عہدے کی معیاد پوری کرنے پر تبدیلی مناسب ہے یا نہیں یقینا ایک سوالیہ نشان ہے۔ عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ جنگ کے دوران فوجی کمانڈر کو تبدیل نہیں کیا جاتا تاکہ اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے مگر یہاں صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ عوام کی اکثریت یقینا یہی چاہتی ہے کہ جنرل راحیل شریف اس جنگ کو اسکے منطقی انجام تک پہچا کر قومی کو اس لعنت سے نجات دلوائیں مگر فی الحال اُنکے فیصلے سے ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ اگرمیڈیا غیر ضروری طور پر اُن کے کردار اور مدتِ ملازمت کو اُن کی ریٹائرمنٹ سے دس ماہ پہلے موضوعِ بحث نہ بناتا تو شاید اُنہیں یہ اعلان کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اُنہوں نے بظاہر تو غیر یقینی کو ختم کرنے کیلئے ایسا کیا ہے مگر یہ بحث بد قسمتی سے اب بھی ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ بے یقینی،مایوسی اور منفی سوچ کے ساتھ زندہ رہنا شاید ہم نے اپنی عادت بنا لیا ہے مگر بحیثیت قوم یہ ہمارے لیے کسی زہرِ قاتل سے کم نہیں۔ جس طرح فوج کو غیر ضروری باتوں میں زیرِ بحث بنا کر ہم اُس کی پیشہ وارانہ ساتھ کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں اُسی طرح یہ مایوسی اور غیر یقینی ہماری نوجوان نسل کیلئے بھی انتہائی نقصان دہ ہے۔ اس سلسلے میں بُنیادی ذمہ داری میڈیا کی ہے جس کے رویے اور طرزِ عمل سے ہی عوامی رائے قائم ہوتی ہے اور مزاج پروان چڑھتے ہیں لہذا میڈیا کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ایک مثبت اور سنجیدہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے اور وقتی فوائد سے اجتناب برتنا چاہیے۔
عسکری قیادت کی بہترین مثال آج ہمارے سامنے جنرل راحیل شریف کی صورت میںموجود ہے اس وقت ہمارے ملک ہماری عوام ملک کی سلامتی وعزت کو ایسے سپہ سالار کی اشد ضرورت ہے جنرل راحیل شریف کے فیصلے نے دلوں میں خوف کا بیج بودیاہے دیکھیں آگے کیا ہوگا مگر آج غیر محفوظ عوام کے دل بہت پریشان ہیں نجانے اب کیا ہوگا؟