’’سستا نیلام گھر ‘‘

29 جنوری 2016

60 کی دہائی کا ایک ایسا وقت بھی تھا جب ہمارا ’’پرائم منسٹر ‘‘کہیں جاتا تو اسے ایسا ہی’’ پروٹوکول ‘‘ملتا جیساہم’’ چینی صدر‘‘کو دیتے ہیںلیکن تب ہم طاقتور تھے ہمارے ادارے بھی ’’مضبوط‘‘ تھے تمام ممالک ہمارے اداروں پر ’’ رشک ‘‘کیا کرتے تھے، پی آئی اے’’عروج‘‘ پر تھی لوٹ مار اورقرضہ کی ’’لعنت‘‘سے پاک تھی پھر وقت بدلہ ’’حاکم‘‘ بدلے بہت عجیب سوچ کے ’’سیاستدان‘‘ آئے اور انہوں نے غربت کے خاتمے اور بیروزگاری سے ’’چھٹکارا‘‘ پانے کا نعرہ لگا کر روٹی کپڑے اور مکان کا نعرہ لگایا جسکے بعد آج ہمیں روٹی کپڑا اور مکان ملا نہ ہی روشن پاکستان۔ ہمارے ادارے ’’تباہ‘‘ ہو چکے ہیں قومی املاک کو’’کوڑیوں‘‘ کے ’’بھائو‘‘ بیچا جا رہا ہے پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن دنیا میں ہماری پہچان ہے ’’باکمال لوگوں کی لاجواب سروس‘‘ جیسے خوبصورت ’’سلوگن‘‘کی حامل ہماری قومی’’فضائی کمپنی‘‘ پی آئی اے اپنی اچھی ’’سروس‘‘ کی وجہ سے دنیا بھر میں ’’مشہور‘‘ تھی پی آئی اے پہلی ’’ایشیائی فضائی کمپنی‘‘ تھی جس نے اپنے ’’بیڑے‘‘ میں ’’جیٹ‘‘ طیارے شامل کیے دنیا کی پہلی’’غیر کیمونسٹ فضائی کمپنی‘‘ تھی جس نے عوامی جمہوریہ چین کیلئے پروازیں شروع کیں۔ پی آئی اے کو یہ ’’اعزاز‘‘ بھی حاصل ہے کہ اس نے سب سے پہلے ایشیاء اور یورپ کے درمیان ’’براستہ‘‘ ماسکو پروازوں کا آغاز کیا۔ پی آئی اے نے بے شمار ’’اعزازات‘‘ حاصل کیے وہ دور ہماری قومی ائرلائن کا ’’سنہری‘‘ دور تھا بڑے بڑے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان پی آئی اے میں سروس کرنا اپنی زندگی کا ایک ’’خواب‘‘ سمجھتے تھے یو ای اے ائرلائن پی آئی اے سے جنم لیکر آج بڑی ’’کمائو پتر‘‘کمپنی بن چکی ہے لیکن پی آئی اے غلط ’’حکمت عملیوں‘‘ کرپشن اور لوٹ مار سے تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پی آئی اے کا مجموعی خسارہ 350 سو ارب روپے تک پہنچ گیا۔ یہ سب کچھ کیوں ہوا ؟ اس کا سبب کون بنا؟ وہ سب کے سامنے ہے۔ پی آئی اے ایک منافع بخش ادارہ تھا جو پرویزمشرف دور میں ’’بحران‘‘ سے دو چار ہوا۔ 2000 ء سے قبل پی آئی اے’’کارکردگی‘‘کے حوالے سے تمام قومی اداروں میں ’’سرفہرست‘‘ رہا۔ ماضی میں کار گو سروس کے پیش نظر ادارہ ’’ترقی ‘‘کی جانب گامزن تھا لیکن مشرف دور شروع ہوتے ہی پی آئی اے بحران کا ’’شکار‘‘ہو گیا۔ پرویز مشرف دور حکومت میں پی آئی اے کے پاس’’53 جہاز‘‘ آپریٹنگ تھے اور ادارے کا خسارہ محض38 ارب روپے تھا۔ 2000کے بعد سے زیادہ منافع دینے والی ’’کارگو سروس‘‘ کی بندش سے پی آئی اے کا ’’خسارہ‘‘ بڑھتا چلا گیا۔ مشرف دور حکومت میں کارگو سروس کی بندش کے ساتھ جہازوں کی تعداد بھی ’’گھٹتی‘‘ چلی گئی۔ پرویز مشرف دور کے بعد 2008 میں پیپلز پارٹی ’’برسر اقتدار‘‘ آئی تو پی آئی اے کا مالی بحران مزید سنگین ہو گیا۔ پیپلز پارٹی حکومت کے اختتام تک پی آئی اے کے ’’بیڑے‘‘ میں محض 16 جہاز آمدروفت کے قابل رہ گے اور خسارہ 196ارب روپے تک جا پہنچا۔ 2013میں مسلم لیگ ن نے اقتدار سنبھالا تو جہازوں کی قلت کے باعث بیشتر منافع بخش روٹس گروی رکھ کر قرضے حاصل کئے گے۔ موجودہ نواز حکومت نے ادارے کو خسارے سے نکالنے اور آمدنی بڑھانے کیلئے 22 نئے طیارے لیز پر لئے اب پی آئی اے کے بیڑے میں طیاروں کی تعداد 16 سے بڑھ کر پھر 38 ہو گئی ہے لیکن خسارہ 350 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس وقت پی آئی اے کی ’’نجکاری‘‘ کے اعلان کے بعد تمام ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔ ملازمین نے دفاتر کی تالہ بندی اور علامتی ہڑتال کا سلسلہ شروع کر دیا ہے لیکن حکومت نے’’آئی ایم ایف‘‘ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس کی نجکاری ضرور کریگی یہی وجہ ہے کہ حکومت اپنے وعدہ ایفا کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ حکومت اور پی آئی اے کی تمام تنظیمیں نیک نیتی کا مظاہرہ کریں تو قومی ادارے کی نجکاری کی بجائے اسے خسارے سے نکال کر منافع بخش ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔ قومی فضائی کمپنی کی بہتری کیلئے بہرحال پہل حکومت کو کرنا ہو گی۔ ماضی میں پٹرولیم مصنوعات 118 ڈالر فی بیرل تھی جو اب گھٹ کر 26 ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے۔ قومی فضائی ادارہ اس وقت پی ایس او، کسٹمز سول ایو ایشن، سرکاری و دیگر مالیاتی اداروں کا 300ارب روپے کا مقروض ہے۔ آمدنی کا ایک بڑا حصہ قرضوں اور ان پر ’’سود ‘‘کی مد میں ادا کیا جاتا ہے، حکومت سود ختم کر کے ادارے کی بہتری کیلئے پہلا قدم اٹھا سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں پی آئی اے منافع میں ہے اور مزید بہتری کیلئے پانچ سالہ منصوبہ کے تحت جہازوں کی خریداری اور پارٹس پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر کے قرضوں کی مد میں ’’سبسڈی‘‘ دینے سے خسارہ کم کیا جا سکتا ہے کارگو سروس دوبارہ شروع کرنے سے’’منافع‘‘ بڑھایا جا سکتا ہے۔ ’’سٹاف‘‘ میں کمی کی جائے کیونکہ اس وقت پی آئی اے کے ایک جہاز پر کام کرنیوالے عملے کا تناسب بھی دنیا کی دیگر ائرلائنز کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور پی آئی کے بیرون ممالک میں قائم 700 ملین ڈالر مالیت کے دو ہوٹلوں کو بھی کارآمد بنایا جائے کیونکہ گزشتہ 20 سال سے کوئی ریونیو حاصل نہیں ہو رہا میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے حکومت پاکستان کو اس مسئلے پر ’’ہمدردانہ غور‘‘ کرنے کے مطالبے کیے گئے تاہم حکمرانوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگی جس کے بعد اب ملازمین سڑکو ں پر آئے اور نجکاری کیخلاف ملازمین نے احتجاج کرتے ہوئے دفتری کام کو معطل کر دیا ہے اور اس وجہ سے حکام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ملازمین نے نجکاری کا فیصلہ واپس نہ لینے کی صورت میں 2 فروری سے فضائی آپریشن بھی معطل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اب عوام پہ ظلم یہ ہوا کہ نجی فضائی کمپنیوں نے کرائے ڈبل کر دیئے ہیں عوام کو ہی ہر جگہ قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے ، پاکستان ایک ایسا ملک بن چکا ہے جس میں ہر دور میں قومی ادارے برائے فروخت رہے ہیں۔