اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے

29 جنوری 2016
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے

بین الاقوامی حالات کی خرابیوں کی سب سے زیادہ زد پاکستان پر پڑتی ہے۔ تیزی سے گزرتے ہوئے حالات میں بے یقینی کے عنصر میں اضافہ مسلسل ہو رہا ہے۔ ہماری اقتصادیات کو کمزور تر کرنے کیلئے بین الاقوامی مخصوص ذہنیت کے افراد اور ادارے پوری طرح سے متحرک نظر آرہے ہیں۔ اسلامی دنیا کے سیاسی اور سفارتی حالات میں بھی بتدریج گراوٹ آ رہی ہے۔ سیاسی اور اقتصادی زوال کے باعث قوموں کی آزادی کو شکار کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ اسلامی دنیا کے وسائل پر چالاکی سے اثر انداز ہونے کا سلسلہ بہت پرانا ہے اور ان وسائل کو شیرمادر کی طرح ہضم کرنے کا قانونی جواز تو کسی بھی مرحلے پر اقوام متحدہ سے حاصل کر لیا جاتا ہے جانی، مالی اور ثقافتی نقصان کا سامنا تو ان غریب مسلمان ممالک کو کرنا پڑتا ہے، جہاں پر ایک مصنوعی جنگ وارد کر دی جاتی ہے اور قوم کو بے کس و مجبور رعایا میں بدلنے کا نیا رنگ دیا جاتا ہے۔ ایک مشق ستم ایک صدی سے جاری ہے۔ مستحکم اسلامی ریاستوں کو نیم ضعیف ملکوں میں بدل دیا جاتا ہے کسی کو آنکھ دکھا، کسی پر دست جفائے وفا نما رکھا اور بہت ہی آہستہ آہستہ ان کو میدان جنگ میں اتار دیا۔کہانی بہت پرانی ہے عنوانات نئے ہوتے ہیں۔ اب ایران اور سعودی عرب کو نئے دنگل کا پہلوان منتخب کر لیا ہے۔ مذہبی تفریق پر گروہی یقین رکھنے والے ہیجانی کیفیات میں مبتلا ہیں اور اسے حق و کفر کا معرکہ قرار دے کر آمادہ جنگ ہیں۔
اس صورتحال کے اسباب بھی پرانے ہیں۔ کچھ شعور کا دھندلا پن ہے اور کہیں لاشعور کا لڑکپن ہے مذہبی تفریق کو خانہ در خانہ، تقسیم کردیا گیا ہے اور یہ تفریق بڑھتے بڑھتے اتنی جوان ہوگئی ہے کہ منہ زوری کی سرحد پر کھڑی غرا رہی ہے۔ خونخوار جنگلی بلے کی طرح پنجے پھیلائے حملہ آور ہورہی ہے۔ چمکارنے کیلئے بیرونی قوتیں ہمہ وقت موجود رہتی ہیں۔ پڑوسی کو تو ایک موقع چاہئے کہ وہ بغلیں بجائیں اور رقص ظالمانہ کی محفل سجانے کا اہتمام کریں۔
پاکستان کو اخلاقی، سیاسی، مالی اور علاقائی طور پر نہتا کرنے کا منصوبہ اب روبہ عمل ہے۔ اہل بست و کشاد ذرا ہمت کرکے بربادی کے سماں کو روکنے کیلئے اقدام کرتے ہیں تو بھس میںچنگاری پھینکنے کیلئے کسی سکول پر، کالج پر اور یونیورسٹی پر بہیمانہ حملہ کروا دیا جاتا ہے۔ لاشیں تڑپتی ہیں، جنازے اٹھتے ہیں، خوف و ہراس کی مسموم فضاء میں پوری زندگی معطل ہوجاتی ہے۔ رات کی نیندیں اچاٹ ہیں سب کی لیکن جو مذہب کی تفریق کا کھیل کھیلتے ہیں، وہ لمبی تان کر سویا کرتے ہیں۔ انہیں ملک سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ انہیں معصوم شگوفوں کے مسلے جانے پر کہیں درد محسوس نہیں ہوتا ہے۔ وہ غمزدہ ماں کو اپنی انگلیاں چباتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اسے دیوانی، بے وقوف اور جاہل شمار کرتے ہیں۔ مذہبی تفریق کی شطرنج پر اپنی گوٹیاں چلانے والے مذہب کی شناخت سے محروم ہیں۔ ان کا مذہب کچھ بھی نہیں، ان کا سراپا تو مذہبی ہونے کا شبہ فراہم کرتا ہے لیکن ان کا دل سخت پتھر کو بھی شرماتا ہے۔ مذہب انکی خواہش و خیال کی خودپسند تعبیر بے مفہوم ہے، مذہبی اداروں پر ان کا تسلط ہے۔
دوسری جانب وہ سول سوسائٹی ہے، جہاں پرثقافت پروری کے نام پر بے حیائی اور بے راہ رو مغربی طرز حیات کو فروغ و تحفظ دینے کا ایک ازخود معاشرتی جواز فراہم کرنے کا بیڑہ اٹھایا گیا ہے۔ یوں ثقافت کے علمبردار نام نہاد غیر مذہبی مذہب دار پوری قوم کی پریشانی کو بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ ایک طویل کھچائو ہے اور وسعت پذیری سے گزر رہا ہے اور پوری قوم کے دانشور اعتدال فکر اور اعتدال حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی بساط بھر حالات کی درستگی کیلئے تجاویز کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ لیکن وہ مخصوص ذہن جنہیں دین و ملت کی بربادی کا احساس نہیں ہے وہ اپنے مفادات ذات کو پیش نظر رکھے ہوئے غلط راستوں کا انتخاب کر چکے ہیں۔ ان پریشان کن حالات میں بہت ضروری ہے کہ مذہبی اور ثقافتی مراکز کو اجتماعی دینی و ملی تربیت کا یکساں مراکز بنایا جائے۔ سب سے پہلے ضروری ہے کہ اسلام اور دنیائے اسلام کے مفادات سے آگاہی اور انکے تحفظ کیلئے بیداری کا تربیتی نظام قائم کیا جائے۔ ان اقدامات میں نکتہ اول یہ ہے کہ تمام مساجد میں خطبات جمعہ اور دیگر مذہبی تہواروں اور تقریبات کیلئے طے شدہ عنوانات کے تحت خطابات کا متفقہ اور مشترکہ مواد فراہم کیا جائے اور تمام مکاتب فکر کے جید علماء کی کمیٹی ان خطبات کو تحریر کرے۔ ٹیلی ویژن پر بھی متفقہ و مشترکہ عنوانات پر تمام مسالک کے علماء گفتگو کریں اور منفی رجحانات کی علمی و عملی تردید کریں۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ کالج، یونیورسٹیز اور سکول کے اساتذہ کو پاکستانیت کے عنوان سے تربیت دی جائے اور تحریک پاکستان و آگاہی تحریک پاکستان کی صحیح ترین تاریخ مرتب کروائی جائے۔