عربی زبان اور عصر حاضر کے مدارس

29 جنوری 2016

جنوبی ایشیاء کے ممالک میں عربی زبان کی تعلیم و تدریس اور اسکے مسائل اور صحیح مقام کو جس سردمہری سے نظر انداز کیا جا رہا ہے اس کی مثال برصغیر کی تاریخ میں کسی دوسرے مضمون کی تعلیم و تدریس میں دکھائی نہیں دیتی۔ بیسویں صدی کے وسط میں انگریزی سامراج سے آزادی کے بعد بظاہر اسلامی علوم اور عربی زبان کی تعلیم کا شعبہ بہت تیزی سے وسیع ہوا ہے اسلامی مدارس، یونیورسٹیوں اور طلبہ کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے لیکن ان علوم کی تعلیم و تدریس کے ذمہ داروں نے بہتر تعلیم و تدریس کی کوئی سنجیدہ کوشش کی نہ ہی حکومت نے غور کیا ،اس افسوسناک صورتحال کے تناظر میں ہمارے ملک اور پورے خطے میں عربی زبان کی تعلیم و تدریس میں جمود اور انحطاط پیدا ہوا جو صدیوں سے اب تک جاری ہے۔ بلکہ اس خطے میں دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام اور مسلمانوں میں کئی دینی، تعلیمی اور سیاسی تنظیموں اور جماعتوں کی تشکیل کے بعد بھی قرآن کریم اور پیارے رسول حضرت محمدﷺ کی زبان، لسان عربی مبین کی تعلیم میں انحطاط کا ازالہ تو کجا اس میں معتدبہ کمی بھی نہیں ہوئی۔ ماضی قریب اور حال میں ہمارے تمام مئولفین نے اس بات کا واضح تذکرہ کیا ہے۔ ہمارے برادر اسلامی ممالک میں ہماری تعلیمی زندگی کے بارے میں جو شکوک پائے جاتے ہیں وہ بھی ان درد مندوں سے پوشیدہ نہیں ہیں جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر اسلامی و عربی تعلیم میں دلچسپی لیتے ہیں۔عربی زبان امت مسلمہ کی وحدت اوریکجہتی کا اہم عامل ہے۔ اسی وجہ سے قرون اولیٰ کی اسلامی خلافت میں مسلمان جس جس علاقے اور ملک کو فتح کرتے تو اسلامی تعلیم کیساتھ ساتھ عربی کی تدریس اور اشاعت کا اہتمام ضرور کرتے تھے۔ اس طرح اسلامی فتوحات کے ساتھ اسلامی تعلیم اور عربی زبان کی ترویج بھی جاری رہی اورکچھ عرصہ بعد یہ جزیرہ نما عرب سے نکل کر ایک طرف مغرب میں براعظم افریقہ کے مشرقی اور شمالی ممالک سوڈان، مصر، لیبیا، الجزائر، مراکش اور موریٹانیہ تک بلکہ ان سے آگے یورپ کے حصے اندلس تک پھیل گئی تو دوسری طرف مشرق میں ایشیا ء کے کئی ممالک تک بھی پہنچ گئی۔ پھر ان مفتوحہ ممالک میں اس حد تک مقبول و مستحکم ہوئی کہ ان کی اپنی مقامی زبانوں پر چھا گئی، اور ان کی قومی زبان بن گئی اور وہ ہمیشہ کیلئے عرب معاشرے کا حصہ بن گئے۔لیکن ایک بات واضح ہے کہ عربی پاکستان کی معاشی خوشحالی کا ذریعہ ہے اللہ تعالیٰ نے مملکت پاکستان کا محل وقوع ایسا بنایا ہے کہ اس کے مغرب اور جنوب میں واقع سمندر پار بائیں مسلمان عرب ملکوں کا ایک وسیع اور طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ 1۔ سعودی عرب، 2۔ یمن، 3۔ عمان، 4۔ متحدہ عرب امارات، 5۔ قطر، 6۔ بحرین، 7۔ کویت، 8۔ سوریا (شام)، 9۔ لبنان، 10۔ اردن، 11۔ فلسطین، 12۔ عراق، 13۔ مصر، 14۔ سوڈان، 15۔ لیبیا، 16۔ تیونس، 17۔ الجزائر، 18۔ مغرب، 19۔ موریتانیا، 20۔ صومالیہ، 21۔ جیبوتی، 22۔ جزرالقمر۔ان ممالک میں 45لاکھ پاکستانی روزگار کے سلسلہ میں مقیم ہیں عربی زبان روئے زمین پر تقریباً بیس بائیس چھوٹے بڑے عرب ملکوں کی سرکاری زبان ہے اور اقوام متحدہ کی پانچویں سرکاری زبان شمار کی جاتی ہے عالم اسلام کے مختلف ملکوں کے درمیان رابطے اور تبادلے کی زبان ہے۔ مملکت پاکستان کے ان سب ممالک کے ساتھ گہرے دوستانہ اور برادرانہ سیاسی، دینی اور تعلیمی رشتے قائم ہیں اور ہمیں ان سے رات دن طرح طرح کا لین دین کرتے ہوئے عربی زبان کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے لیکن ہماری حکومت عربی کی ترویج کیلئے کوئی بھی کوشش نہیں کر رہی ،جو مترجم ہیں وہ بھی لکیر کے فقیر ہیں میں آپ کو شیخ العرب محمد بشیر سیالکوٹی کی کتاب ’’ درس نظامی کی اصلاح اور ترقی ‘‘میں لکھا ہے کہ1979ء میں سعودی عرب میں مقیم کچھ ملکوں کے ناپختہ فکر نوجوانوں نے کعبہ شریف کی عمارت پر قبضہ کیا، اس وقت بشیر صاحب پاکستانی سفارتخانہ جدہ میں متعین تھے۔ سعودی عرب نے اس واقعہ کی جو سرکاری رپورٹ دی وہ تھی ( بعض الخارجین علی النظام احتلوا الحرام المکی) (کچھ باغیوں نے حرم شریف کی عمارت پر قبضہ کر لیا ہے) کے الفاظ تھے۔ اس موقع پر موجود پاکستانی سفارتخانے کے مترجم نے اس جملے کا انگریزی ترجمہ یوں کیا (Some non muslims have attacked Mecca and captured the Holy Mosque) (کچھ کافروں نے مکہ پر حملہ کر کے حرم شریف کی عمارت پر قبضہ کر لیا ہے) یہ ترجمہ سراسر غلط تھاجوپاکستانیوںکے جذبات کو مشتعل کرنے کیلئے کافی تھا۔ یہ خبر اسی دن پاکستان ارسال کر دی گئی اور تمام سرکاری ذرائع ابلاغ سے نشر ہو گئی۔ نتیجے میں اگلے روز یہاں فسادات بھڑک اٹھے اور وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔ امریکی سفارتخانے اسلام آباد کی عمارت جلا دی گئی۔ نیز کئی دوسرے شہروں میں امریکی عمارتوں اور گاڑیوں کو تباہ کر دیا گیا۔ میں نے اسی وقت اس غلط ترجمے کے فوری اور سنگین نتائج کا خدشہ ظاہر کر دیا، اس موقع پر جب میں نے مترجم سے دریافت کیا کہ آپ نے الخارجین علی النظام (باغیوں) کا ترجمہ ’’کافروں‘‘ کیوں کیا؟ تو اس کا جواب تھا ’’جو خارج ہو جائے وہ کافر ہی ہوتا ہے‘‘۔ بعد میں مجھے معتبر ذرائع سے معلوم ہوا کہ حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی عمارت کی تباہی کے معاوضے میں 23 کروڑ روپے کی خطیر رقم ادا کی ہے جبکہ تمام نقصانات کا جب کل ہرجانہ 80کروڑ روپے ادا کیا ۔ایک غلطی سے اس قدر نقصان ہوا ،آجکل ہمارے مدارس عربیہ میں جو تعلیم دی جاتی ہے وہ ساری تعلیم عربی میں ہوتی ہے لیکن افسوس کہ 8سال تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ان میں 90فیصد طلبا عربی بولنے کی مہارت نہیں رکھتے اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ النحو فی الکلام کالملح فی الطعام(نحو علم کلام میں ایسی ہے جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے )لیکن افسوس صرف اور نحو پڑھنے کے باوجود طلبا صحیح طرح ترکیب بھی نہیں کر سکتے مدارس عربیبہ کے منتطمین سے گزارش ہے کہ طلبا کو عصر حاضر کے چیلینچزکے مطابق تعلیم دیں ۔