تعلیمی اداروں نے خود انتظامات کرنے ہیں تو حکومت تمام ٹیکس ختم کرے

29 جنوری 2016

ملک بھر کے آرمی پبلک سکول، نیوی، فیڈرل گیریژن اور اسلام آباد کے نجی سکول 31 جنوری تک بند کر دئیے گئے ہیں جبکہ ناقص سکیورٹی کے باعث پنجاب کے مختلف علاقوں میں مزید 40 تعلیمی اداروں کو سیل کر دیا گیا ہے۔
حکومت کی طرف سے سکولوں کی چاردیواری 8فٹ اونچی کرنے، خاردار تاریں لگانے واک تھرو گیٹ اور میٹل ڈیٹکٹر سے چیکنگ سمیت دیگر انتظامات یقینی بنائے جا رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات کی مخالفت نہیں ہو سکتی تاہم جس طرح سے انتظامات کئے جا رہے ہیں ان سے تعلیمی ادارے درسگاہیں کم عقوبت خانے زیادہ لگتے ہیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں کالج اور یونیورسٹی طلباء دیواریں پھلانگ سکتے تھے اب وہ بھی بے بس کر دئیے گئے ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں سکیورٹی کی ذمہ دار خود حکومت ہے۔ اگر اس میں حکومت ناکام ہے تو سزا طلبا کو ادارے بند کرکے کیوں دی جا رہی ہے۔ حکومت تو پرائیویٹ اداروں کو بھی سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ ان کو بھی اپنے انتظامات کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں سے حکومت بھاری ٹیکس لیتی ہے۔ اگر انہوں نے سکیورٹی پر بھاری اخراجات کرنے ہیں تو ان سے ٹیکس کی مد میں کوئی رقم نہ لی جائے۔ سکیورٹی وجوہات پر تعلیمی ادارے بند کرنا یا چھٹیاں کرنا کوئی حل نہیں ہے۔ انٹیلی جنس پر توجہ مرکوز کی جائے۔ دہشت گردی کے بعد فوری طور پر دہشتگردوں کی کالیں ٹریس ہو جاتی ہیں۔ انکے سہولت کار بھی سامنے آ جاتے ہیں۔ یہ کام دہشت گردی سے پہلے کرنے کے ہیں۔