کراچی اپریشن مصلحتوں سے بالا اور بلاامتیاز جاری رہنا چاہئے

29 جنوری 2016
کراچی اپریشن مصلحتوں سے بالا اور بلاامتیاز جاری رہنا چاہئے

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کراچی میں کور ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کراچی آپریشن ہر صورت کامیاب بنایا جائیگا ۔کراچی کے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائیگا۔
کراچی میں دہشتگردی کے ڈانڈے وزیرستان تک ملتے ہیں۔ وزیرستان دہشتگردوں کا گڑھ رہا ہے۔ اس علاقے سے دہشتگرد فرار ہو کر کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں پھیل گئے۔ پاک فوج ان کا تعاقب کر رہی ہے۔ آرمی چیف کیمطابق کراچی میں موجود دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جا رہا ہے جبکہ انکے بیرونی رابطے ختم کر دئیے گئے ہیں۔ کراچی میں دہشتگردی اور لاقانونیت کی دیگر وجوہات بھی ہیں۔ اس میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں 25سال سے ہو رہی تھیں۔ کراچی کے شہری جرائم پیشہ گروپوں اور گروہوں کے یرغمال بن چکے تھے۔ کراچی کا جب بھی امن بحال کرنے کی کوشش کی گئی اسے سیاست میں الجھا کر ناکام بنا دیا گیا۔ مرکزی حکومت نے مصلحتوں سے بالا ہو کر کراچی میں امن کی بحالی کیلئے تمام پارٹیوں کی مشاورت سے اپریشن کا آغاز کیا۔ رینجرز کو مطلوبہ اختیارات دئیے گئے۔ اس آپریشن کے حیران کن نتائج سامنے آئے۔ متحدہ کے لوگوں پر ہاتھ پڑا تو اس نے واویلا کیا اور پیپلز پارٹی کے عہدیدار اور بیوروکریٹس پکڑے جانے لگے تو اس نے بھی اپریشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی حالانکہ وزیر اعلیٰ قائم شاہ خود اس اپریشن کے کپتان اور کمانڈر ہیں۔ پہلے تو رینجرز کے اختیارات میں توسیع میں تاخیر کی گئی اور پھر جب توسیع کی تو اختیارات محدود کر دئیے گئے۔ کراچی کا سو فیصد امن تمام سٹیک ہولڈرز کے اتحاد سے ہی ممکن ہے۔ پیپلز پارٹی کے اعتراضات اور تحفظات سے کراچی اپریشن متاثر ہوا۔ رینجرز کی کارروائیوں اور کارکردگی میں کمی ہوئی۔ مرکزی حکومت اپریشن کی حامی تھی اسلئے اپریشن سرے سے ختم نہیں ہو سکا تاہم رفتار دھمی پڑ گئی۔ جنرل راحیل شریف حکومت کے ایما پر ہی کراچی میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کا عزم دہرا رہے ہیں۔ پوری قوم بالخصوص کراچی کے عوام انکے عزم کو قابل قدر سمجھتے ہیں۔ کراچی کے حالات معمول پر لانے کیلئے جہاں رینجرز کسی مصلحت اور دبائو کو خاطر میں نہ لائے وہیں اپریشن میں کسی قسم کے امتیاز کا تاثر بھی نہیں ابھرنا چاہئے۔