اب کشمیری عوام کی بے پایاں جدوجہد کا عملی ساتھ دینا ہی وقت کا تقاضا ہے

29 جنوری 2016
اب کشمیری عوام کی بے پایاں جدوجہد کا عملی ساتھ دینا ہی وقت کا تقاضا ہے

بھارتی کابینہ کا مقبوضہ کشمیر میں مزید افواج تعینات کرنے کا فیصلہ اور بھارتی وزیر داخلہ کی منہ توڑ جواب کی دھمکی

بھارتی کابینہ نے مقبوضہ کشمیر میں مزید فوج بھیجنے کی منظوری دے دی ہے‘ اس سلسلہ میں بھارتی میڈیا سے موصول ہونیوالی رپورٹوں کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی زیرصدارت منعقدہ بھارتی کابینہ کے اجلاس میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار سیکولر بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو کچلنے کیلئے مزید فوجی تعینات کرنے کی منظوری دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 17 میں سے پانچ بھارتی ریزرور بٹالینز مہاراشٹر میں تعینات کی جائیں گی اور پانچ بٹالینز کی مقبوضہ کشمیر میں تعیناتی کیلئے وادی کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے نوجوانوں کو 60 فیصد نوکریاں فراہم کی جائیں گی جنہیں بطور کانسٹیبل اور کلاس فور تعینات کیا جائیگا۔ بھارت میں انڈین ریزور بٹالینز کا قانون 1971ء میں نافذ کیا گیا تھا جس کے تحت بھارت اب تک 153 بٹالینز مختلف علاقوں میں تعینات کر چکا ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں تعینات ہے اور اس وقت بھی سات لاکھ کے قریب بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہیں جو گزشتہ 60 برس سے زائد عرصہ سے کشمیریوں پر ظلم و جبر کا پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی آڑ میں ملک کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا اور بھارت سرحد پار سے ہر قسم کی انتہاء پسندی کا پوری قوت سے منہ توڑ جواب دیگا۔ انکے بقول بھارتی سکیورٹی فورسز کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔
ہندو انتہاء پسندوں کی نمائندہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے یہ ہرگز توقع نہیں کہ وہ اپنے دور اقتدار میں پاکستان کے ساتھ دیرینہ تنازعات بشمول کشمیر ایشو کو مذاکرات کی میز پر حل کرکے خیرسگالی کے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امن و آشتی کی فضا ہموار کریگی کیونکہ اس پارٹی کا ماضی پاکستان اور مسلمان دشمنی کی داستانوں سے بھرا پڑا ہے۔ اسکے باوجود وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف نے اپنے سابقہ دور اقتدار میں اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ دوطرفہ تنازعات طے کرنے کے معاملہ میں ہونیوالی پیشرفت کی بنیاد پر بی جے پی کے موجودہ اقتدار میں نریندر مودی سے بھی توقعات وابستہ کرلیں اور بی جے پی کے اقتدار کے پہلے ایک سال کے دوران ہی پاکستان بھارت کشیدگی کو جس انتہاء تک پہنچایا گیا اور بھارت کے اندر مسلم دشمنی کی نادر مثالیں قائم کی گئیں‘ وہ سب پیرس میں مودی کے ساتھ رازدارانہ انداز میں مبینہ اچانک ملاقات کی بنیاد پر یکسر فراموش کر دی گئیں حالانکہ مودی کی پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھارتی پالیسی میں اچانک نرمی کا مقصد ہندو انتہاء پسندی کے حوالے سے بھارت پر پڑنے والے عالمی دبائو کو ٹالنا تھا جس کیلئے نواز مودی ملاقات کو بھارتی اور عالمی میڈیا پر بہت بڑے بریک تھرو کی صورت میں پیش کیا گیا اور پھر بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج نے ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں شرکت کے بہانے اسلام آباد آکر مسکراہٹیں بکھیرنے کے عمل کے ذریعے مبینہ بریک تھرو میں ’’موراوور‘‘ کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جبکہ دنیا کو پاکستان کیلئے مزید خیرسگالی کا پیغام مودی نے ماسکو سے واپسی پر کابل سے اچانک لاہور آکر اور جاتی امراء میں وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کرکے دیا۔ اس ماحول میں بھارت کے ساتھ دوستی اور تجارت کے خواہش مند حلقوں اور خود وزیراعظم میاں نوازشریف نے شادمانی کے ڈنکے بجانا شروع کر دیئے اور میاں نوازشریف نے تو یہ کہتے ہوئے بھارت کیلئے ریشہ خطمی کی انتہاء کر دی کہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی طے کرلیا تھا کہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنا ہیں مگر انکی رجائیت پسندی کے اظہار کے اگلے ہی روز پٹھانکوٹ میں دہشت گردی کا واقعہ رونما ہو گیا تو بھارتی میڈیا اور حکام نے مکمل طوطا چشمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس دہشت گردی کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنا شروع کر دیا۔ اسکے بعد سے اب تک بھارت ہذیانی کیفیت کا شکار نظر آتا ہے اور ہمارے حکمرانوں کے معذرت خواہانہ لہجے کو پاکستان کی کمزوری سے تعبیر کرکے اب بی جے پی حکومت کے وزراء بھی پاکستان کیخلاف زہر افشانی اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ اس طرح بھارتی بلی چند روزہ دکھاوے کی دوستی کے بعد اب پھر تھیلے سے باہر آچکی ہے اور پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے اسکی سالمیت پر وار کرنے کی جنونیت کا کھلم کھلا اظہار کیا جارہا ہے۔ پہلے بھارتی وزیر دفاع نے پاکستان کو براہ راست دھمکی دی کہ اسے بھی پٹھانکوٹ حملے جیسی تکلیف پہنچائی جائیگی۔ اس دھمکی کے ایک ہفتے بعد ہی باچاخان یونیورسٹی پشاور میں سفاکانہ دہشت گردی کا واقعہ رونما ہو گیا جس میں جلال آباد کے بھارتی قونصل خانہ کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت بھی سامنے آچکے ہیں۔ چنانچہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا بھارتی چکمہ بھی طشت ازبام ہو گیا ہے اور بھارتی وزیر دفاع کے بعد اب بھارتی وزیر داخلہ بھی سرحد پار سے مبینہ انتہاء پسندی کا منہ توڑ جواب دینے کی بڑ مارتے نظر آرہے ہیں۔
یہ حقیقت تو اب پوری دنیا پر منکشف ہو چکی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد کشمیر کا تنازعہ خود بھارت نے پاکستان کی سالمیت کمزور کرنے کی نیت سے پیدا کیا تھا جس کے حل کیلئے یو این سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں پر عملدرآمد کے بجائے بھارت نے وادیٔ کشمیر میں اپنی سات لاکھ افواج داخل کرکے اس پر اپنا تسلط جمایا اور پھر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کیلئے ظلم و جبر کی انتہاء کردی مگر کشمیری عوام نے بھارتی فوجوں کی مزاحمت کرکے اور اپنے لاکھوں پیاروں کی جانوں کی قربانیاں دے کر جدوجہد آزادی میں اپنی استقامت کو بھی مثالی بنا دیا ہے۔ نتیجتاً آج پوری دنیا کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کر رہی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے ظلم و جبر کیخلاف ہر عالمی فورم پراور انسانی حقوق کے ہر عالمی ادارے کے روبرو آواز بلند کی جارہی ہے۔ اگر بھارت کی کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے کی نیت ہوتی تو وہ یواین قراردادوں سے کبھی منحرف نہ ہوتا مگر پاکستان کی شہہ رگ پر اپنا خونیں پنجہ جمائے رکھنا ہی بھارتی پالیسی کا حصہ ہے جس میں کوئی بھی بھارتی حکومت پیچھے نہیں رہی۔ بی جے پی تو شروع دن سے ہی پاکستان اور مسلم دشمنی پر مبنی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اسلئے اسکے دور اقتدار میں مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی توقع رکھنا ہی عبث ہے جبکہ وہ تو آزاد کشمیر پر بھی تسلط جمانے کی بدنیتی کا اظہار کرتی نظر آتی ہے۔ یقیناً اسی سازش کے تحت اب بی جے پی سرکار نے پٹھانکوٹ حملوں کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں مزید بھارتی فوجیں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا بھارتی وزیر داخلہ کے بیان سے واضح عندیہ بھی مل رہا ہے تاہم مودی سرکار کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ بھارتی سات لاکھ افواج بھی کشمیری عوام پر ساٹھ سال سے ظلم و جبر کی انتہاء کرکے انکی آزادی کی تحریک کو نہیں دبا سکیں اور وہ اب زیادہ جذبے کے ساتھ بھارتی فوجوں کی مزاحمت کررہے ہیں جس کا ثبوت بھارتی یوم جمہوریہ پر گزشتہ روز کے کرفیو کے ماحول کے باوجود کشمیری عوام کے پرجوش مظاہرے ہیں تو مقبوضہ کشمیر میں مزید فوجیں تعینات کرکے بھی کشمیری عوام کی آواز کو نہیں دبایا جا سکتا۔ اسکے برعکس کشمیری عوام سے یکجہتی کے اظہار کیلئے پورے بھارت کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں جبکہ ہندو انتہاء پسندی کیخلاف بھی تمام مکاتب زندگی کے بھارتی نمایاں باشندے اپنے اپنے انداز میں احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں اب ہمارے حکمرانوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اصل حقائق کا ادراک کرکے بھارت کیساتھ دوستی اور تجارت کی یکطرفہ خواہشات ترک کردینی چاہئیں۔ پاکستان دشمنی درحقیقت بھارت کی سرشت میں شامل ہے اس لئے سانپ کو دودھ پلا کر اسکے ڈنک سے بچے رہنے کا تصور ہی بے معنی ہے۔
موجودہ بھارتی جنگی تیاریاں جن میں فرانس کے ساتھ دفاعی ایٹمی تعاون کے معاہدے کرکے مزید اضافہ کیا گیا ہے‘ صرف پاکستان کی سالمیت کمزور کرنے کی نیت سے کی جارہی ہیں اس لئے ’’مشتری ہشیار باش‘‘۔ ہم بھارتی جارحانہ عزائم کا فوری اور مؤثر توڑ کرکے ہی اپنی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بناسکتے ہیں۔ ہمیں اب اپنے دفاع اور کشمیر پر اپنے دیرینہ‘ اصولی موقف میں کسی کمزوری کا تاثر ہرگز پیدا نہیں ہونے دینا چاہیے۔