جمعۃ المبارک‘18 ؍ ربیع الثانی1437ھ‘ 29 ؍ جنوری 2016 ء

29 جنوری 2016
جمعۃ المبارک‘18 ؍ ربیع الثانی1437ھ‘ 29 ؍ جنوری 2016 ء

گھر پر بھارتی پرچم لہرانے والے ورات کوہلی کے پرستار کو پولیس نے گرفتار کر لیا
اب اس کرکٹ کے مارے نوجوان کو کیا کہا جائے جس نے ورات کوہلی کی محبت میں اپنے گھر پر بھارتی ترنگا لہرا دیا۔ یہ تو شکر کرے کہ وہ پاکستان میں ہے۔ اگر وہ بھارت میں ہوتا اور وہاں آفریدی کی محبت میں پاکستانی پرچم اپنے گھر پر لہراتا تو بڑی سرعت کیساتھ بھارتی انتہا پسندوں کے ہاتھوں پورے گھر سمیت جلا کر راکھ کر دیا جاتا۔ یہ تو پاکستان ہے جہاں ہر ایک کو آزادی ہے وہ جو چاہے کرے پورے ملک و قوم کی شان میں گستاخی کرے بات اس کی صرف مذمت تک محدود رہتی ہے اب اس کم بخت کو پولیس نے پکڑ کر حوالات میں پہنچایا جہاں سے عدالت نے اسے جیل بھجوا دیا۔ 22 سالہ عمر درازکی کاش عقل بھی دراز ہوتی تو وہ یہ حرکت نہ کرتا کیونکہ اپنے وطن میں اپنے دشمن ملک کا پرچم لہرانا کسی محب وطن کو زیب نہیں دیتا۔ خدا ایسے عقل کے اندھوں سے اس ملک کو بچائے جو دشمنوں کو بھی گلے لگانے سے باز نہیں آتے … اب امید ہے پولیس کی خاطر تواضع اور جیل والوں کے حسن سلوک سے بہت جلد اسکی عقل ٹھکانے آئیگی اور اس کو چڑھا کرکٹ کا بخار کم ہو گا۔
٭…٭…٭…٭
محمد عامر کی آمد پر طنزیہ ’’کیش رجسٹر‘‘ کہنے پر انائونسر کی سرزنش
نیوزی لینڈ نے پاکستان سے معافی مانگ لی
نیوزی لینڈ کے انائونسر کی سرزنش اور نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو کی طرف سے معافی مانگنے سے چلیںکسی حد تک محمد عامر کی بھی دل شکنی کم ہوئی ہو گی۔ اس طرح کا واقعہ اگر ہمارے ہاں پیش آیا ہوتا تو بیرون ملک میں ہمارے خلاف میڈیا پر جو طوفان برپا ہوتا۔ اس کا عشر عشیر بھی ہمارے ہاں دیکھنے میں نہیں آیا۔ دوسروں کی تو بات چھوڑیں ہمارے قومی کرکٹ ٹیم کے کوچ مشتاق نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایسے معذرت خواہانہ لب و لہجہ اختیار کیا جیسے وہ اصلاحی وعظ فرما رہے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ عامر کے بارے میں اگر یہ جملے استعمال ہوتے ہیں تو وہ کوئی بڑی بات نہیں‘ خدا جانے یہ بے حمیتی ہے یا بے حسی کہ پاکستانی ٹیم کے ایک کھلاڑی کو پے در پے ہٹ کیا جا رہا تھا۔ کبھی آوازیں کس کے کبھی ڈالر دکھا کے اور ان سے بڑھ کر کمنٹیٹر کی طرف سے طنزیہ جملے۔ یہ تو سراسر توہین اور ناقابل معافی بات ہے مگر ہماری ٹیم کے آفیشل ڈھٹائی سے چلو معاملہ رفع دفع ہو گیا کا باجا بجا رہے ہیں۔ کسی نے سخت لہجے میں احتجاج تک نہیں کیا۔ اس سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ صرف عامر ہی غلط ہے باقی سب پارسا ہیں۔ اسی لیے اسکی حمایت میں کوئی نہ بولا۔ ٹیم آفیشلز ہی اگر بیرون ملک اپنے کھلاڑیوں کی عزت نہیں کروائیں گے ، ان کا تحفظ نہیں کرینگے تو پھر انکے ساتھ جانے کا مقصد کیا سیر سپاٹا کرنا ہوتا ہے۔ کھیل تو کھلاڑی کھیلتے ہیں۔ یہ کیا کرنے جاتے ہیں؟ معذرت کے باوجود ٹیم انتظامیہ اس معاملے پر سخت رویہ اختیار کرے اور عالمی تنظیموں کی طرف سے دوبارہ ایسا نہ ہونے کی یقین دہانی حاصل کرے۔ ہر جگہ مٹی پائو والی پالیسی زیب نہیں دیتی۔
عمران خان نے بلاک سڑک پر خراب ٹرک کو دھکا لگا کر ٹریفک بحال کرائی
چلیں کوئی سیاسی رہنما تو ہٹو بچو کی بھاگ ڈور سے نکل کر عام انداز میں عوام کے ساتھ ملا۔ اب اگر یہ ٹرک راستے میں خراب نہ ہوتا تو کسی کو کیسے پتہ چلتا کہ ابھی ایسے سیاستدان باقی ہیں جو عوام کے ساتھ مل کر عوامی کام بھی کر سکتے ہیں۔ بنی گالہ میں عمران خان سڑک پر سفر کر رہے تھے کہ راستے میں ایک خراب ٹرک کی وجہ سے سڑک بلاک تھی تو عمران خان نے گاڑی سے اتر کر اسے دھکا لگایا اور ٹریفک بحال کرائی۔ شاید انہیں جلدی تھی یا وہ ٹریفک جام ہونے سے بیزار تھے۔ وجہ جو بھی ہو اس سے انکی عزت عوام کے دلوں میں بڑھ گئی ہے کیونکہ ہمارے ہاں تو ذرا سی مقبولیت ملے تو سیاستدان خود کو نجانے کس سیارے کی مخلوق سمجھتے ہیں اور اگر الیکشن جیت کر اسمبلی ممبر بن جائے ۔ انکے دماغ آسمان پر جا پہنچتے ہیں اور محافظوں کے جلو میں انہیں پھر عوام سے ملنا نصیب نہیں ہوتا۔ اب اگر ہمارے باقی سیاستدان بھی عمران خان کی طرح سڑکوں پر ٹریفک بحال کرائیں۔ گلیوں کی مرمت کرائیں کھمبوں پر بلب لگائیں۔ حقیقت میں عوام کی خدمت کرتے نظر آنے لگیں تو پھر انہیں باڈی گارڈز رکھنے کی ضرورت ہی نہ رہے۔ عوام خود ان کے محافظ بن جائیں گے۔ یہ وی آئی پی پروٹوکول کلچر ہی تو اصل میں حاکم اور محکموم کا فرق پیدا کرتا ہے ورنہ حاکم بھی تو عوام ہی سے نکل کر بنتے ہیں۔ بادشاہی دور تو رہا نہیں کہ کوئی ماں کے پیٹ سے ہی بادشاہ سلامت بن کر تشریف لاتا ہو۔
٭…٭…٭…٭
پی آئی اے میں ہڑتال، نجی ایئر لائن کمپنیوں نے کرائے ڈبل کر دیئے
عجب قوم سے ہماری یہ پریشانی میں بھی ڈبل منافع کے ذرائع ڈھونڈ لیتی ہے۔ادھر پی آئی اے میں تالا بندی ہوئی ہڑتال کا شور اٹھا ادھر نجی ایئر لائن کمپنیوں نے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بنا کسی جواز کے کرایوں میں اضافہ کر دیا۔ اسے بے حسی کی انتہا کہا جائے یا موقع مناسبت سے کام کرنے کی مہارت ، عجب لوگ ہیں آئو دیکھتے ہیں نہ تائو جہاں موقع ملے اپنی اصلیت یا خصلت ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کون کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پی آئی اے کی ہڑتال پر باقی ایئر لائن عوام کی سہولت کیلئے پروازوں کی تعداد میں اضافہ کرتی مگر انہوں نے عوام کی کھال اتارنے کا بندوبست کر لیا۔ رعایت یا سہولت دینا تو دور کی بات ہے۔ یہ تو شاید ہم نے سیکھا ہی نہیں۔ آفرین ہے حکومت پر بھی کہ اس نے بھی اس لوٹ مار پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ لگتا ہے ہمارے ملک کا سارا نظام اسی لوٹ مار کلچر سے چلتا ہے جبھی تو کوئی کسی دوسرے کو روکتا نہیں ٹوکتا نہیں۔ ہماری ہمدردیاں عوام کیساتھ ہیں جو بے چارے ہر طرف سے لٹنے کے باوجود کوئی حرف شکایت زبان پر نہیں لاتے۔ اور…
اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے
محبور ہیں اف اللہ چپ رہ بھی نہیں سکتے
کی تصویر بنے خاموشی سے اپنے لٹنے کا مزہ لیتے ہیں…
٭…٭…٭…٭