کیا ہم ایک ناکام معاشرہ بن چکے ہیں؟

29 جنوری 2016

انگلینڈ کے شہر لنکا شائر میں رہائش پذیر ایک پاکستانی فیملی کے بچے نے سکول میں الفاظ کی املاء لکھتے ہوئے Terracedلفظ کو Terroristلکھ دیا۔بعد میں اس نے فقرہ بنایا ۔ I live in a terrorist home اس ایک لفظ کے ہجوں اور بعد کے فقرے سے ٹیچر کے ذہن میں بچے کے متعلق منفی خیالات پیدا ہوئے کیونکہ نفسیاتی طور پر بچوں کے ذہن سے وہی الفاظ یا خیالات سامنے آتے ہیں جو انکے تحت الشعور میں موجود ہوں۔ چونکہ بچے کا تعلق پاکستانی فیملی سے تھا اور پاکستانی دہشتگردی کے معاملے میں کافی بد نام ہیں اس لئے ٹیچر کو شک گزرا کہ اس بچے کی فیملی کا تعلق یقیناً دہشتگردی سے ہو سکتا ہے۔
انگلینڈ میں یہ تمام تعلیمی ادارں میں ضروری ہے کہ وہ بچوں کی نفسیات او ر سوچ پر گہری نظر رکھیں اور جونہی کسی بچے میں دہشتگردی کی سوچ سامنے آئے اسے فوری طور پر پو لیس میں رپورٹ کیا جائے ۔لہٰذا اس بچے کی رپورٹ بھی پولیس کو بھیج دی گئی۔ پولیس نے فوری طور پر گھر کی تلاشی لی ۔ خصوصی طور پر کمپیوٹر کو چیک کیا لیکن کوئی قابل اعتراض چیز نہ ملی۔ لہٰذا فیملی کو دہشتگردی سے بری الذمہ قرار دے دیا گیا۔یہ تھا تو ایک معمولی سا واقعہ کہ بچے نے ایک لفظ کے ہجے غلط لکھ دئیے۔عین ممکن ہے کہ اسے سننے میں غلطی لگی ہو لیکن ٹیچر کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ مہذب معاشرے دہشتگردی کے معاملے میں کتنے الرٹ ہیں۔ تعلیمی ادارے بچے کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بچے اسی راستے پر چلتے ہیں جو کچھ انہیں پڑھایا جاتا ہے۔ لہٰذا پڑھانے والے اسا تذہ کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ بچے کی تعلیمی شخصیت اور تعمیر کردار کے متعلق ہر ممکن احتیاط برتیں۔
اس واقعہ سے جو دوسرا پہلو سامنے آتا ہے وہ اسا تذہ کا احساس ذمہ داری ہے کہ ارد گرد کے ماحول پر کھلی نظریںرکھی جائیں اور جہاں کہیں ملکی مفاد کے خلاف کوئی منفی حرکت نظر آئے اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔اسی کا نام مہذب اور الرٹ معاشرہ ہے جسے ہم معاشرتی ذمہ داری کا نام بھی دے سکتے ہیں ۔قومی ا قدار صحیح طور پر پرورش نہیں پا سکتیں جب تک معاشرے کا ہر فرد اپنی ذمہ داری نہ نبھائے۔
پاکستان کا اسوقت سب سے بڑا مسئلہ دہشتگردی ہے جسکا ہم 2001سے مقابلہ کررہے ہیں۔60ہزار بے گناہ معصوم پاکستانی اس دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور یہ کسی طرح قابو میں نہیں آرہی۔ ضربِ عضب شروع ہوئے بھی ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کر کے فاٹا کے بہت سے علاقے کلئیر بھی کروا لئے گئے ہیں لیکن دہشت گرد فاٹا سے بھاگ کر افغانستان میں آباد ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں بھی انکے سہولت کار اور ہمدرد موجود ہیں۔ حکومت کا خیال ہے کہ پاکستان میں کارروائیاں کرنیوالے دہشت گرد افغانستان سے آتے ہیں۔
یہ کسی حد تک درست ہو بھی سکتا ہے لیکن انکے سہولت کار اور مددگار تو پاکستان کے اندر موجود ہیں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں بھی دہشتگرد موجود ہیں جسکی ایک مثال بھارت میں واقعہ پٹھان کوٹ ہے جسکے تانے بانے پاکستان سے مل رہے ہیں اور بہاولپور، سیالکوٹ اور لاہور سے کچھ لوگ پکڑے گئے ہیں۔ بلوچستان میں ہو نیوالی کاروائیوں میں بھی بلوچ دہشتگرد تنظیموں کے مقامی لوگ ملوث ہیں جنکی راہنمائی شاید افغانستان سے ہو تی ہو لیکن کاروائیاں کرنیوالے اسی سرزمین کے فرزند ہیں۔ پچھلے سال کے سانحہ صفورا گوٹھ کے دہشتگردوں کا تعلق بھی پاکستان ہی سے تھا۔
ایک حالیہ خبر کے مطابق سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور اور باچا خان یو نیورسٹی کا ماسٹر مائنڈ بھی ایک مقامی شخص ہے۔ اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ دہشتگردی کی جڑیں پاکستان کے اندر موجود ہیں۔ اسی معاشرے میں پرورش پانے والے اور یہاں کے رہنے والے لوگ ہیں تو پھر معاشرہ انکی اصلاح کیوں نہیں کر سکا؟
موجودہ نئے سال سے دہشتگردی کی لہر میں بہت تیزی آئی ہے۔ بلوچستان،جمرود،پشاور اور باچا خان یو نیورسٹی پر حملہ حالیہ کاروائیاں ہیں۔ اس سال کے پہلے بیس دنوں میں لگ بھگ 60آدمی دہشتگردی کا نشانہ بن چکے ہیں جبکہ آرمی چیف کہتے ہیں کہ یہ سال دہشتگردی کے خاتمے کا سال ہے۔ خدا کرے کہ انکی سوچ درست ثابت ہو۔
وزیر اعظم صاحب نے بھی فرمایا ہے کہ دہشتگردی کی کمر توڑ دی ہے۔ دہشتگرد بھاگ رہے ہیں اور بھاگتے ہوئے ’’سافٹ ٹارگٹس‘‘ پر حملے کررہے ہیں ۔
وزیر اعظم صاحب کا بیان پڑھ کر سابقہ حکومت کے وزیر دا خلہ جناب رحمٰن ملک صاحب یاد آجاتے ہیں جو ہر سانحہ کے بعد مو قع پر پہنچ کر فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے دہشتگردی کی کمر توڑ دی ہے لیکن ٹوٹی ہوئی کمر والے دہشتگرد پھر کہیں نہ کہیں کارروائی کر کے پاکستان کو لہو لہان کر دیتے اور یہ کارروائی آج تک جاری ہے۔
دہشتگرد چاہے پاکستان کے اندر ہیں یا باہر وہ پوری طرح مستعد نظر آتے ہیں۔ اگر یکم جنوری 16سے اب تک کے حالات دیکھے جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ دہشتگردی بڑھ رہی ہے کیونکہ ہر دوسرے دن بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں کہیں نہ کہیں چھوٹا بڑا سانحہ رونما ہو جاتا ہے۔ لہٰذا انٹیلیجنس اور سیکورٹی ایجنسیوں کو مزید الرٹ ہونا پڑے گا۔
اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ دہشتگرد افغانستان سے آتے ہیں تو پھر بھی وہ ہمارے مقامی معاشرہ کی مدد کے بغیر کا میاب نہیں ہو سکتے۔ باچاخان یونیورسٹی کا کیس ہی لے لیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ دہشتگرد افغانستان کے صوبہ ننگر ہار سے آئے۔ٹی وی فو ٹو کے مطابق تھے بھی سب نوجوان جنکی عمریں 18 سے25سال تک تھیں۔
مانا کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی لیکن ان لوگوں کا یو نیورسٹی پر حملہ اسوقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ یو نیورسٹی اور علاقے کی پوری طرح ریکی نہ کی گئی ہو اور یہ کم سے کم تین سے چار دنوں کا کام ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وہ لوگ یہاں آئے۔مقامی طور پر اپنے سہولت کاروں کے ہاں ٹھہرے۔ یونیورسٹی کا بار بار چکر لگا کر اہم مقامات کی ویڈیو بنائی۔ یو نیورسٹی کی دیوار کے ساتھ لگے کماد کے کھیت کا خصوصی طور پر جائزہ لیا گیا جس طرف سے یہ لوگ آئے تھے۔پھر دیوار کے اوپر لگی خاردار تار کاٹی اوردیوار پھلانگ کر اندر آئے اور سیدھے ہاسٹل کی طرف گئے۔ شاید انہیںیو نیورسٹی گارڈز کا اندازہ نہیں تھا جنہوں نے سخت مقابلہ کیا۔
بہر حال دہشتگردی وہ ناسور ہے جسے ختم کئے بغیر ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ملک ترقی کرسکتا ہے۔دہشتگردی پر قابو پانے کے لئے معاشرے کو درست کرنا ہوگا کیونکہ زیادہ تر دہشتگرد اسی معاشرے کی پیداوار ہیں۔
کہتے ہیں معاشرہ ایک بہت بڑا استاد ہے اور بچہ وہی کچھ بنے گا جو کچھ معاشرہ اسکو سکھائے گا۔ جیسے گرمیوں کے پھول سردیوں میں نہیں اگائے جا سکتے اور نہ ہی سردیوں کے پھول گرمیوں میں۔ یہی حال معاشرے کا ہے۔ ہم کیکر کے بیج ڈال کر سیبوں کی امید نہیں کر سکتے۔ دہشتگردی معاشرے کی اصلاح کے بغیر کنٹرول ہو ہی نہیں سکتی۔
معاشرے کا ماحول اور معاشرے کے تعلیمی ادارے بچے کی کردارسازی اور تعمیر شخصیت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خصوصاً ہمارے مدارس۔ اگر معاشرے کے یہ دو پہلو درست ہو جائیں تو معاشرے سے دہشتگردی ختم ہو جائیگی۔ معاشرے کی بہتری کے لئے ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہے لیکن افسوس کہ ایسا کہیں نظر نہیں آتا۔ایسے نظر آتا ہے کہ ہم ایک ناکام معاشرہ بن چکے ہیں۔