مسئلہ کشمیر، قائد کا ویژن، مذاکرات یا جنگ…!

29 جنوری 2016

دلچسپ بات یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جس تاشقند معاہدہ کیخلاف مہم چلائی تھی‘ شملہ معاہدہ میں وہی کچھ مان لیا۔ دونوں معاہدوں کے متن میں حیرت انگیز یکسانیت ہے دونوں میں فوجوں کی واپسی اور جنگی قیدیوں کی رہائی تک ہی معاملہ رہا دونوں میں کشمیر کا کوئی ذکر نہیں بلکہ شملہ معاہدہ میں جنگ بندی لائن کو اندرا گاندھی لائن آف کنٹرول میں تبدیل کرانے میں کامیاب ہوگئی اس طرح مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان جنگ بندی لائن عارضی سرحد میں تبدیل ہوگئی۔
1990ء میں مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی نے زور پکڑلیا جس نے عالمی توجہ اس جانب مبذول کرادی اس توجہ کا رُخ تبدیل کرنے کیلئے بھارت نے پھر مذاکرات کا ڈھونگ رچایا اور جولائی 1990ء میں سیکرٹری تنویر احمد خان اور بھارتی سیکرٹری مچکندے دوبے کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا جس میں مسئلہ کشمیر استصوابِ رائے، کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی بجائے کشمیر میں تحریک آزادی ہی ان مذاکرات کا موضوع رہی۔ بھارت کی جانب سے کشمیر میں مداخلت کا الزام لگایا گیا پھر دونوں سیکرٹری میں مذاکرات کا دوسرا دور اگست 1990ء کو نئی دہلی میں ہوا لیکن اس میں کشمیر کی بجائے دونوں ملکوں کی فوجوں کے مابین اعتماد سازی سے آگے بات نہ بڑھ سکی۔ 1990ء میں ہی تنویر احمد خان کی جگہ نئے سیکرٹری شہریارخان اور مچکندے دوبے کے مابین مذاکرات میں کشمیر کی بجائے ایک دوسرے کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کے وعدے وعید کے بعد مذاکرات ختم ہوگئے ۔اپریل 1991ء کو دونوں سیکرٹری خارجہ نئی دہلی میںمذاکرات ہوئے جن کو بھارتی سیکرٹری نے فوجوں میں اعتماد سازی تک محدود کردیا۔ اکتوبر 1991ء میں مری میں ہونیوالے مذاکرات میں بھارت نے ایٹمی تنصیبات پر ہی گفتگو کو الجھا کر مذاکرات کو بے نتیجہ کردیا۔ اگست 1992ء میں نئی دہلی میں ہونیوالے مذاکرات میں بھارتی سیکرٹری نے بات چیت کو کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال اور کوڈ آف کنڈیکٹ سے آگے نہ بڑھنے دیا۔
یہ غور طلب ہے کہ یہ تمام مذاکرات شروع تو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ہوئے مگر دوبرسوں کے دوران ان میں ایک منٹ کیلئے بھی کشمیر کا ذکر تک نہیں آیا۔ بھارتی سیکرٹری کی طرف سے ایک ہی راگ الاپا جاتا رہا ’’پہلے چھوٹے مسئلے حل کرلیں پھر اس تفصیل طلب مسئلہ پر بات چیت ہوگی‘‘۔ دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ پاکستان کے سیکرٹریوں کی جانب سے کبھی یہ سننے میں نہیں آیا کہ کشمیر کے سوا کسی اور مسئلہ پر بات نہیں ہوگی‘‘ پھر جنوری 1994ء میں بھارتی سیکرٹری جے این ڈکشٹ کے اسلام آباد میں پاکستانی سیکرٹری سے مذاکرات ہوئے جو حسبِ روایت ناکام رہے۔ ایک موقع پر صدر جنرل ضیاالحق نے بھارت کا دورہ کیا۔ بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی نے بے نظیر بھٹو کے دور میں اسلام آباد کا دورہ کیا دونوں کی ڈھائی گھنٹے طویل تنہائی میں ملاقات ہوئی مگر مسئلہ کشمیر جہاں تھا وہیں رہا۔ 1999ء میںمقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی نے ایک بار پھر شدت اختیار کرلی بھارتی فوج تمام تر ظلم و ستم کے باوجود اسے کچلنے میں ناکام رہی تو اسے سبوتاژ کرنے کیلئے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے امرتسر سے بس میں بیٹھ کر لاہور آنے کا اعلان کردیا اور وزیراعظم نوازشریف سے مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے معاہدہ لاہور کیا لیکن واپس امرتسر جاتے ہی اس معاہدہ سے پھر جانے کا رویہ اختیار کرلیا۔
جولائی 2001ء تک معاملہ اٹکا رہا پھر صدر جنرل پرویزمشرف آگرہ گئے مگر بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث واجپائی سے یہ مذاکرات بھی ناکام ہوگئے کیونکہ واجپائی کشمیر کی بجائے تجارت پر زور دیتے رہے۔ اسی سال کے آخر میں بھارتی فوجیں پاکستانی سرحد پر پہنچا دی گئیں ۔دونوں ملکوں میں تنائو بڑھ گیا۔ زمینی اور فضائی رابطے منقطع ہوگئے ویزے کی سہولت واپس لے لی گئی۔لیکن 2003ء میں مقبوضہ کشمیر میں صورتحال بے قابو ہونے پر واجپائی نے پاکستان کیلئے ان الفاظ میں خیر سگالی کا اظہار کرکے ’’بھائی سے رشتہ توڑا جاسکتا ہے پڑوسی تبدیل نہیں ہوتا‘‘ مذاکرات کا امکان پیدا کردیا۔
پیپلزپارٹی کے دور میں اور (ن) لیگ کے دور میں بھارت کی جانب سے مذاکرات کا کھیل جاری رہا جو اب تک کھیلا جارہا ہے۔ ان مذاکرات کو ناکام بنانے کیلئے کبھی ممبئی واقعہ، کبھی سمجھوتہ ایکسپریس میں آتشزدگی، کبھی افضل گورو کو پھانسی‘ کبھی بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ اور تازہ ترین پٹھانکوٹ کا واقعہ ماضی اور موجودہ تاریخ کا حصہ ہے ۔قائداعظمؒ کی بصیرت نے بھانپ لیا تھا کہ اگر پاکستان مذاکرات میں الجھ گیا تو کبھی کشمیر حاصل نہیں کرسکے گا۔ بھارت نے خود کو عالمی اور اندرونی دبائو سے بچانے کیلئے مذاکرات کو مسلسل ایک حربہ بنا رکھا ہے۔ ناکام مذاکرات کی طویل تاریخ قائد کی بصیرت کی گواہ ہے اور اسکی روشنی میں پاکستانی قوم کے سامنے اہم ترین سوال ہے کیا مذاکرات کے ذریعہ پاکستان کشمیر کو آزاد کراسکے گا؟؟؟ (ختم شد)