ڈھٹائی کی بھی ایک حد ہوتی ہے

طاہر القادری کینیڈا کے بھی شہری ہیں، ان کے پیرو کار وہاں بھی ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں، امریکہ والے پیروکار ان بھی جمع کر لئے جائیں تو یہ تعداد لاکھوں تک پہنچ جائے گی، فرض کیجئے کہ کینیڈا میں ان کے ایک درجن پیروکار پولیس کے ساتھ کسی مڈبھیڑ میں جاں بحق ہو جاتے ہیں تو کیا طاہر القادری ان کے قتل عام کا انتقام لینے کے لئے لانگ مارچ کر سکتے ہیں، جواب ہے نہیں، کینیڈا کا قانون انہیں اس امر کی ا جازت نہیں دے گا،وہاں کی حکومت ان سے کہے گی کہ مرنے والوںکے لواحقین پولیس سے رجوع کریں اور عدالتوں میں جائیں، کسی غیر متعلقہ شخص کو خواہ وہ کتنا ہی بڑا لیڈر کیوںنہ ہو،جتھے بندی کی وہاں اجازت نہیں دی جائے گی۔
قادری صاحب جتھے بندی کا شوق صرف پاکستان ہی میںپورا کر سکتے ہیں، کیونکہ یہاں حکومتی رٹ نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی۔قانون کے مطابق یہاں بھی طاہرالقادری کو ماڈل ٹائون میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے شور کرنے کا کوئی حق نہیں ، جو لوگ پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں، ان کے لواحقین اور پس ماندگان مدعی ہونے چاہئیں۔
قادری صاحب کو دوسرا شوق انقلاب برپا کرنے کا ہے، اس کے لئے بھی انہوںنے پاکستان کو ہی طبع آزمائی کے لئے چنا ہے۔ حالانکہ کینیڈا کے شہری کی حیثیت سے انہیں انقلاب برپا کرنے کا شوق وہانں پورا کرنا چاہئے جہاں سارا نظام غیر اسلامی بنیادوں پر استوار ہے،  وہاں انہیں اس سے کون منع کرتا ہے، کوئی تو قانون ہو گا جو انہیں کینیڈا میں انقلاب کی شورش برپا کرنے سے روکتا ہوگا۔ پاکستان ایک فری فار آل اسٹیٹ ہے، ساری دنیا کے دہشت گردوںنے بھی پاکستان کو ٹھکانہ بنا رکھا ہے اور اب انقلابیوںنے بھی پاکستان ہی کا رخ کر لیا ہے۔ایک سوال ہے کہ کیا کینیڈا کا سفارت خانہ اسلام آبا د میں موجود نہیں، کیوں نہیں۔ وہ بھی دیکھ رہا ہو گا کہ ا س کا ایک شہری یہاں کیا لچھن دکھا رہا ہے، کیا اسنے ان کی حرکات سے آنکھیں بندکر رکھی ہوں گی، کیا اسے یہ خوف لاحق نہیں کہ یہ شخص پاکستان میں انقلاب برپا کرنے میں کامیاب ہو گیا تو اپنا یہ ا نقلاب ایکسپورٹ کرنے کی بھی کوشش کر سکتا ہے، کیا کینیڈا اس آسانی سے قادری کے انقلاب کا شکار بننا پسند کرے گا۔مگر کنیڈا کے سفارت خانے کو قادری کی ان حرکات پر کوئی تشویش لاحق نہیں تو کیا اس سے یہ ظاہر نہیںہوتا کہ اسی ملک نے اسے پاکستان میں فتنہ و فساد بھڑکانے کے لئے لانچ کیا  ہے۔ یہ بات تو سب کے علم میں ہے کہ قادری صاحب وارا ٓن ٹیرر میں کینیڈا کے حلیف ہیں ، انہوں نے دوسو صفحات پر مشتمل ایک ضخیم فتوی جاری کیا تھا کہ ا سلام میں دہشت گردی کی اجازت نہیں۔اس فتوے کا انگریزی میں ترجمہ ہوا اور شاید دنیا کی کتنی اور زبانوںمیں بھی اس کاترجمہ ہوا ہو گا۔دہشت گردی واقعی اسلام کی رو سے جائز نہیں لیکن جس اندا زمیں قادری کے فتوے کو کینیڈا، امریکہ اور یورپ میں پذیرائی اور پبلسٹی ملی، اس سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ فتوی انہی طاقتوں کی خوشنودی کے لئے جاری کیا گیا۔
 قادری صاحب اب وہی کچھ کر رہے ہیںجو اسلامی انتہا پسندوںنے پاکستان میں کیا اور باقی اسلامی ملکوں میں کر رہے ہیں، وہ اپنی حکومت چاہتے ہیں، اسے خلافت کہہ لیں ، امارت کہہ لیں، آمریت کہہ لیں،وہ ہماری حکومتوں کو نہیں مانتے، ہمارے آئین کو نہیںمانتے، ہماری پارلیمنٹ کو نہیںمانتے اور ہماری عدلیہ کو نہیں مانتے۔ دو دن سے پاکستان کی اعلی تریں عدالت حکم دے رہی ہے کہ شاہراہ دستور کو خالی کر دیا جائے مگر قادری اور ان کے پیر وکار وہاں جمے بیٹھے ہیں۔زمیں جنبد ، نہ جنبد گل محمد۔ فیس بک پر پاکستان کے معزز جج صاحبان کا مضحکہ اڑایا جا رہا ہے کہ ا نہیں عدالتوںکی دیوار پر ایک شلوار نظر آ گئی ، ماڈل ٹائون کی بارہ چودہ لاشیں نظر نہیںآئیں،  ایسے جملے کسنے والے شاید سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان تھانہ فیصل ٹائون کے منشی ہوئے۔
پاکستان کی ساری سیاسی، مذہبی ، پارلیمانی جماعتوں کی لیڈر شپ روزانہ قادری صاحب سے مذاکرات کرتی ہے، فیڈریشن کے دو نمائندے گورنر پنجاب اور گورنر سندھ بھی ان کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، گورنر پنجاب تو پرانی ڈیوٹی پر ہیں، لاہور ایئرپورٹ پر جب ڈاکٹر قادری نے ا مارات ایئر لائینز کے جہاز پر قبضہ جما رکھا تھا،اس وقت سے ان کے یرغمالی ہیں۔ مجھے گورنر پنجاب کی اس بدقسمتی پر ترس آتا ہے۔
 مگر ہر ایک کی کوشش یہ ہے کہ قادری کے شکنجے میں چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، خواتین ہیں، ، وہ گھروں کو جائیں، موسم کی سختیوں سے بچیں۔ ایک شخص کی ا نا کی بھینٹ نہ چڑھیں۔یہ کوشش صرف انسانیت کے ناطے سے ہے ورنہ قادری صاحب کی کون منتیں کرتا۔ پچھلے سال پیپلز پارٹی نے بھی منت سماجت کر کے عورتوں اور بچوں کو قادری کے دھرنے سے نجات دلائی، اب بھی مسئلہ بچوں اور خواتین کا ہے ۔
ہر روز نئے مطالبے، ہر روز نئی دھمکیاں، ہر روز نئی ڈیڈ لائنیں، ایسا سنسنی خیز کھیل تو کبھی ہائی جیکروںنے نہیں کھیلا۔ یرغمال بنانے والے بھی بالا ٓخر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ سب بلف ہے، کھیل ہوتا تو حکومت کھیل لیتی۔بدھ کی آدھی رات تک اسحق ڈار مذاکرات کرتے رہے، اس کے بعد سب سو گئے مگر میںجانتا ہوں کہ اسحق ڈار اس کے بعد حسب عادت تہجد کے لئے کھڑے ہو گئے، میں ان کی عادات کو ان کے دوست سعید احمد ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بنک کی وساطت سے جانتا ہوں ورنہ میری اسحق ڈار سے تیس برس سے کوئی علیک سلیک نہیں ہوئی۔
قادری صاحب نے نہ ماننا تھا ، نہ مانے، وہ تہیہ کر کے آئے ہیں کہ کسی کی نہیں سنیں گے، انہوںنے مذاکرات کا کھیل حکومت کے اعصاب شل کرنے کے لئے کھیلا۔
پوری دنیا میں سار اکام دن کی روشنی میںہوتا ہے، قادری صاحب بھی سارے کام دن کی روشنی میں ہی کرتے ہیں مگر ان کا یہ دن ان کے نئے وطن کینیڈا کے وقت کے مطابق طلوع ہوتا ہے۔پاکستان کے لوگوںکا یہ وقت سونے اور آرام کا ہوتا ہے۔مگر لوگ ٹی وی اسکرینوں پر نظریں جمائے الوؤں کی طرح جاگنے پر مجبور ہیں۔
ابھی تک کسی کے ہاتھ میںکچھ نہیں آیا۔ قادری ا ور عمران کا اصل مطالبہ یہی تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف مستعفی ہوں ، باقی مطالبے صرف دکھاوے کے لئے ہیں۔گنتی پوری کرنے کے لئے ہیں۔الجھائو ڈالنے کے لئے ہیں۔مگر استعفے کی وجہ کیا ہے، جواز کیا ہے، کیا چند ہزار کا انبوہ آدم۔ ہر شخص کو ڈر لگ رہا ہے کہ کل کو چند افراد اکٹھے ہو کر اس کے گھر پر قبضہ کر سکتے ہیں، اس کی گاڑی چھین سکتے ہیں، اسکی جائیدا دہتھیا سکتے ہیں،اس کے بیوی بچے اٹھا کر لے جائیں، یہ جنگل کا قانون ہے ، جس کی لاٹھی اس کی بھینس، یہ قبل از اسلام کے دور کا نظام ہے ،یہ دور جاہلیت کی واپسی ہے۔
ایسے حالات میں آخری فورس پاک فوج ہے جس نے ہمیشہ مداخلت کی مگر اس وقت وہ اس موڈمیںنہیں ہے، ایک میڈیا ہائوس نے اس کیخلاف لڑائی چھیڑ کر اسے ا س قابل نہیں رہنے دیا۔ویسے بھی یہ فورس اس وقت د ہشت گردوں سے فیصلہ کن جنگ کر رہی ہے، اور قادری اور عمران اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مگر لانگ مارچ اور دھرنے کی ڈھٹائی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ڈھٹائی کی ہر حد پار ہو گئی، اب دیکھئے قدرت کی لاٹھی کب حرکت میںا ٓتی ہے۔

اسد اللہ غالب....انداز جہاں

ای پیپر دی نیشن