بیلجیئم کی عدالت نے اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیدیا‘ غزہ میں نسل کشی پر صہیونی ریاست کو سزا دی جانی چاہئے: فلسطینی صدر

28 ستمبر 2014

نیو یارک+برسلز (بی بی سی، نمائندہ خصوصی ، این این آئی)بلجیئم کی عدالت نے فلسطینیوں کیخلاف اسرائیلی فوج کے جنگی جرائم کی تحقیقات سے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران صہیونی ریاست کو جنگی جرائم کی مرتکب قرار دیدیا، کسی یورپی عدالت کی جانب سے صہیونی ریاست کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دینے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔چیف جسٹس بییر گالون نے کہا کہ فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم کے مقدمہ کے ضمن میں جو دلائل اور شواہد سامنے آئے ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل نہتے فلسطینیوں کے وحشیانہ قتل عام، انسانیت کیخلاف جرائم، شہری املاک کو بمباری سے تباہ کرنے، سکولوں اور ہسپتالوں جیسے پبلک مقامات کو دھماکوں سے اڑانے جیسے غیرقانونی اور غیرانسانی اقدامات کی مرتکب ہوئی ہے۔  فلسطینی صدر محمود عباس نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگایا ہے انہوں نے کہا غزہ میں جنگی جرائم کے لیے اسرائیل کو سزا دی جانی چاہیے اور وہ اس معاملے کو جرائم کی عالمی عدالت میں لے جائیں گے۔ ان کی تقریر کی اسرائیل اور امریکہ نے سخت مذمت کی ہے اور اسے اشتعال انگیزی کے مترادف قرار دیا ہے۔