لاپتہ افراد کے مسئلہ میں کمی آئی، کوئٹہ فیصل آباد سے زیادہ محفوظ ہے: وزیراعلیٰ بلوچستان

28 ستمبر 2014

کراچی (ثناء نیوز+ این این آئی) وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت سیاسی و معاشی مشکلات کا شکار ہے، سازش کے تحت بلوچ عوام کو تعلیم سے دور رکھا گیا۔ 35 سے 40 فیصد گریجویٹ نوجوان  بے روز گار ہیں۔ اتنی غربت دنیا کے کسی علاقے میں نہیں ہوگی جتنی بلوچستان میں ہے، 30 فیصد لوگ غربت کا شکار ہیں۔ بلوچستان میںکرپشن کو کافی حد تک کنٹرول کر لیا گیا، لاپتہ افرادکا مسئلہ انسانی ہے جس میں کمی آئی ہے اور اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مسلح اور بھتہ خور گروپوں کو کافی حد تک کنٹرول کر لیا ہے یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوئٹہ میںامن وامان کی صورتحال فیصل آباد سے زیادہ بہتر ہے۔ میری تربیت بھی کراچی میں ہوئی ہے لیکن کراچی میں آج لوگ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹر (سی پی این ای) کی جانب سے میٹ دی ایڈیٹر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سی پی این ای کے سیکرٹری ڈاکٹرجبار خٹک، ایونٹ کمیٹی کے چیئرمین عامر محمود اور دیگر بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ایک مخصوص ذہنیت نے ملک میں نفرت کے بیج بوئے جس کی وجہ سے آج پورا ملک اس کا شکار ہے۔ بلوچستان میں اغواء اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ کوئٹہ میں اغواء کاروں کے بیشتر گروپ کام کر رہے تھے جن میں بیشتر کا خاتمہ کر دیا ہے اب کوئٹہ میں کا فی حد تک سٹرکیں محفوظ ہیں۔ اس وقت ہماری امن و امان کی صورتحال فیصل آباد سے زیادہ بہتر ہو گی۔ پہلے لوگ بازاروں میں نہیں گھوم سکتے تھے۔ سیکورٹی فورسز کے ادارے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ لاپتہ افراد کا ہے اس حوالے سے عسکری قیادت اور وفاقی حکومت کو آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم وفاق کے ساتھ ہیں آپ کے تعاون کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا جبکہ اس مسئلے کے حل کے لئے کافی حد تک کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔ گذشتہ سات آٹھ ماہ میںمسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔