جنرل رضوان اخترخوفناک حد تک راست گو انسان ہیں:بی بی سی

28 ستمبر 2014

لندن(اے این این) آئی ایس آئی کے نئے چیف جنرل رضوان اختر خوفناک حد تک راست گو اور دو ٹوک بات کرنے والے انسان ہیں، وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سیاست سویلین حکومت کے پاس ہی رہنی چاہیے اور فوج کا کردار بیرونی دشمنوں سے مقابلے تک محدود ہونا چاہیے۔رضوان اختر فوجی افسروں کی ایسی نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو شدت پسندی کو ملک کی قومی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے’’ بی بی سی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی فوج نے ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لئے لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کا انتخاب کیا جنہیں پروفیشنل سپاہی کے طور پر جانا جاتا ہے تاہم یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے کہ کیا جنرل رضوان اختر ملک کی اندورونی سکیورٹی کو بحال کر سکیں گے؟ آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے تعیناتی نے لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کو فوج میں دوسرا جبکہ بعض افراد کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بعد ملک کا دوسرا طاقتور انسان بنا دیا ہے۔اس تعیناتی نے جنرل رضوان اختر کو ایک ایسی صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک طرف علاقے کی سلامتی میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں تو دوسری جانب ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔