محترم ڈاکٹر مجید نظامی…اہلِ صحافت کے عظیم رہنما

28 ستمبر 2014
محترم ڈاکٹر مجید نظامی…اہلِ صحافت کے عظیم رہنما

روزنامہ نوائے وقت کے ایڈیٹر انچیف محترم ڈاکٹر مجید نظامی اپنی ذات میں ایک انجمن اور ادارہ تھے۔ ان کے روبرو زانوئے تلمذ تہ کرنے والوں کا شمار آج دنیائے صحافت کے شہسواروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بذاتِ خود ایک ورکنگ جرنلسٹ کے طورپر کیا تھا‘ لہٰذا اہل صحافت کے مسائل و معاملات سے بخوبی آگاہ تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اپنی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں سرانجام دینے کے لئے ضروری ہے کہ نوجوان صحافیوں کو شعبۂ صحافت کے مختلف پہلوئوں کے بارے تربیت فراہم کی جائے۔ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر اُنہوں نے 1990ء میں لاہور میں ایک اجلاس کا اہتمام کیا جس میں میر خلیل الرحمان‘ حمید ہارون‘ مجیب الرحمن شامی اور دیگر مالکانِ اخبارات و جرائد اور ایڈیٹر حضرات شریک ہوئے۔ اجلاس میں طے پایا کہ لاہور اور کراچی میں ’’پریس انسٹیٹیوٹ آف پاکستان‘‘ کے نام سے دو اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ ان اداروں کے مقاصد ورکنگ جرنلسٹس کی استعداد کار میں اضافہ کرنا‘ اعلیٰ صحافتی اقدار کو فروغ دینا اور قومی اہمیت کے معاملات میں میڈیا کے کردار کو زیر بحث لانا قرار پائے۔ لاہور میں قائم ادارے کی ذمہ داری محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے اٹھائی۔ اس کے تمام اخراجات تن تنہا برداشت کئے۔اپنی زیر نگرانی اسے پروان چڑھایا جس کی بدولت آج یہ ادارہ صحافیوں کے لئے ایک تربیتی مرکز کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ ورکنگ جرنلسٹس یہاں منعقدہ تربیتی ورکشاپس کے شدت سے منتظر رہتے ہیں کیونکہ ان میں شرکت کے طفیل ان پر فکر و عمل کے نئے دریچے وا ہوتے ہیں۔ کراچی والے ادارے کو چلانے کی ذمہ داری ایک دوسرے اخباری گروپ پر تھی۔ وہ ادارہ عدم دلچسپی کے باعث چند ماہ بعد ہی بند ہوگیا۔ یقینا اگر وہاں بھی محترم ڈاکٹر مجید نظامی جیسی کمٹمنٹ رکھنے والی کوئی شخصیت موجود ہوتی تو وہ ادارہ بھی ابتک قائم ہوتا۔ اُن کا وصف خاص یہ تھا کہ وہ ادارے قائم کرکے ان سے صرفِ نظر نہیں کرلیتے تھے بلکہ ان کی کڑی نگرانی کرتے تھے اور انہیں مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھتے تھے۔ بعدازاں ان کے برادر اکبر محترم حمید نظامی مرحوم کی صحافتی و ملی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کی خاطر اس ادارے کا نام ’’حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان‘‘ رکھ دیا گیا۔ محترم ڈاکٹر مجید نظامی کے قائم کردہ متعدد دیگر اداروں کی مانند یہ ادارہ بھی ان کی ادارہ ساز شخصیت کی یاد دلاتا رہے گا۔ ان کے وصال کے بعد ان کی حیات و خدمات کا تذکرہ ہنوز جاری ہے۔ حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ آف پاکستان نے بھی ان کی یاد میں ایک سیمینار بعنوان ’’عہد حاضر اور مستقبل کے میڈیا پر ڈاکٹر مجید نظامی کی جرأت مند اور نظریاتی صحافت کے اثرات‘‘ کا اہتمام کیا جس کی صدارت چیف جسٹس(ر)میاں محبوب احمد نے کی۔ ادارہ کے ڈائریکٹر ابصار عبدالعلی نے حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ آف پاکستان کی چیئرپرسن محترمہ رمیزہ مجید نظامی کی طرف سے سیمینار کے شرکاء کو خوش آمدید کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ادارے کے پلیٹ فارم سے آج تک ہم نے جو کچھ بھی کیا ہے‘ محترم ڈاکٹر مجید نظامی کی رہنمائی کی بدولت ہی کیا ہے۔ ان کی زیرنگرانی ہم مختلف موضوعات پر 170سیمینار منعقد کرچکے ہیں۔ ان سیمیناروں میں ایسے ایسے موضوعات کو بھی چنا گیا جن کو آج تک کسی دوسرے ادارے نے اہمیت نہ دی تھی۔ ان میں سائبرجرنلزم‘ کارٹون جرنلزم اور کمیونٹی جرنلزم بھی شامل ہیں۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ مئی 2014ء میں محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے بذات خود ان کا تقرر اس ادارے کے ڈائریکٹر کے طور پر کیا تھا۔محترم ڈاکٹر مجید نظامی کی عظمت کردار کا احاطہ چند الفاظ یا نشستوں میں نہیں کیا جاسکتا۔ وہ جو بھی فیصلہ کرتے تھے‘ سوچ سمجھ کر کرتے تھے اور پھر اس پر چٹان کی طرح قائم بھی رہتے تھے۔ اللہ رب العزت نے انہیں نوشتۂ دیوار پڑھ لینے اور پس دیوار جان لینے کا ملکہ عطا فرمایا تھا۔ وہ بے مثال فہم و فراست کے مالک تھے اور آمدہ حالات کا پیشگی اندازہ لگالینے کی صلاحیت سے مالا مال تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبل کے بارے ان کی برسوں قبل کہی باتیں آج سچ ثابت ہورہی ہیں۔ سیمینار سے چیف جسٹس(ر)میاں محبوب احمد‘ بیگم بشریٰ رحمن‘ سہیل وڑائچ‘ جسٹس(ر)فخر النساء کھوکھر‘ سلمان عابد اور ڈاکٹر محمد اعجاز بٹ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اصول پسندی ان کا سب سے بڑا نظریہ تھا۔ اُنہوں نے ساری زندگی کلمۂ حق کو حرز جاں بنائے رکھا۔ قلم کی عصمت اور الفاظ کی حرمت کی بھرپورپاسبانی کی۔ ان میں کھری بات کہنے اور سننے‘ ہر دو کا حوصلہ تھا۔ انہوں نے پہلے دن سے جن نظریات کو اپنایا‘ تادم آخر ان پر قائم رہے۔ وہ اہل صحافت کے لئے نئی اور قابل تقلید روایات چھوڑ کر گئے ہیں۔ اُنہوں نے قوم کو صرف نوائے وقت‘ دی نیشن اور وقت نیوز ہی نہیں دیے بلکہ ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان‘ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ‘ تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ‘ ایوانِ اقبال اور ایوانِ قائداعظم جیسے عظیم الشان ادارے بھی دے گئے ہیں۔اُنہوں نے اِن اداروں کو کامیابی سے چلا کر بھی دکھایا ہے جو کسی کارنامے سے کم نہیں۔ وہ نظریۂ پاکستان‘ آئین اور پارلیمانی جمہوریت کے علمبردار تھے۔ وہ جمہوریت اور آئین کا مقدمہ بڑی استقامت سے لڑتے رہے۔ باالفاظ دیگر وہ پاکستانیت کا ایک اعلیٰ و ارفع معیار تھے جن کے فکر و عمل کی بنیاد پر ہم پاکستان اور نظریۂ پاکستان سے اپنی محبت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ اُنہوں نے پاکستان اور اِس کے بنیادی مفادات کو سامنے رکھ کر صحافت کی اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر سچ کہنے کو قومی مفاد کی صورت عطا کردی۔ میاں محمد نواز شریف سے ذاتی مراسم کے باوجود اُنہوں نے پاک بھارت تعلقات کے بارے میں اپنا نکتۂ نظر کبھی نہ چھپایا۔ وہ مسئلہ کشمیر کو پاک بھارت تعلقات میں ایک کور ایشو سمجھتے تھے اور اُسے حل کئے بغیر بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات استوار کرنے کے سخت خلاف تھے۔ اُن کا کسی مصلحت اور دبائو کو خاطر میں لائے بغیر دبنگ انداز میں حکمرانوں کے روبرو کلمۂ حق کہنا نوجوان صحافیوں کے لئے مشعل راہ ہے۔سیمینار کے اختتام پر محترم ڈاکٹر مجید نظامی کیلئے دعائے مغفرت کی گئی۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...