وزیراعظم نواز شریف اور مہینوال؟

28 ستمبر 2014

 میر تقی میر نے کہا تھا…
کام تھے عشق میں بہت پر میر
ہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے
وزیراعظم نواز شریف کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ نیو یارک میں اور بھی بہت سے کام تھے لیکن انہوں نے شتابی سے تقریر کی اور یہ جا وہ جا۔ وزیراعظم نے اپنا دورہ نیو یارک مختصر کیا اور
وے تیریاں نت وطناں نوں لوڑاں
کی پکار پر واپس چلے آئے۔ جناب وزیراعظم کی امریکی صدر اوبامہ سے ملاقات نہیں ہو سکی اور نہ ہی بھارتی وزیراعظم شری نریندر مودی سے۔ مودی جی نے تو دونوں وزارت ہائے خارجہ کی سطح پر بھی پاک بھارت مذاکرات کو اہمیت نہیں دی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی تقریر میں اس کا گلہ بھی کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سیکرٹریز کی سطح پر مذاکرات کا ایک اور دور ہو بھی جاتا تو کیا اپنا یہ دعویٰ ترک کر دیتا کہ ’’کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے‘‘ بہرحال ہمارے وزیراعظم نے یہ کہہ کر عالمی برادری کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کی کہ ’’مسئلہ کشمیر کو حل کرانا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔‘‘ سیانے کہتے ہیں کہ جو کوئی سو رہا ہو اسے تو جگایا جا سکتا ہے۔ لیکن جاگنے کو کون جگائے؟
اقوام متحدہ کی سلامتی کی کونسل نے کشمیری عوام کو اپنے حق خود ارادیت کے ذریعے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کا موقع دینے کا فیصلہ یا اعلان کیا تھا۔ بس اتنا ہی کافی سمجھا گیا۔ بھارت نے اس فیصلے کو تسلیم کیا لیکن اس نے اس پر عمل نہیں ہونے دیا۔ اس لحاظ سے بھارت سلامتی کونسل کا مجرم ہے۔ اب سلامتی کونسل کا رکن بنا کر مجرم کو انصاف کی کرسی بٹھانے کے لئے ’’شبھ گھڑی‘‘ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ شاید اسی لئے وزیراعظم پاکستان نے سلامتی کونسل میں مزید مستقل ارکان شامل کرنے کی مخالفت کی لیکن جب بڑے فیصلہ کر لیں گے تو ’’کون سنتا ہے فغان درویش؟‘‘
مختلف تجزیہ کاروں / نگاروں کی رائے ہے کہ ’’جناب نواز شریف نے اپنی تقریر میں کشمیر کا تذکرہ کر کے وزیراعظم نریندر مودی کو چھیڑا ہے۔‘‘ مرزا غالب کے اس شعر میں ’’خوباں‘‘ کے بجائے ’’مودی‘‘ جڑ دیا جائے تو یوں ہو گا…
چھیڑ مودی سے چلی جائے اسد
کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
لیکن ہمارے تو کسی بھی وزیراعظم کی بھارت کے کسی بھی مودی (وزیراعظم) سے عداوت کبھی نہیں رہی۔ خاص طور پر جب سے ’’امن کی آشا دیوی‘‘ نے اپنے ثقافتی فن و ثقافت کو عریاں کیا ہے۔ امن کی آشا دیوی تو چاہتی ہے کہ پاکستان کا ہر وزیراعظم اس کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہو جائے۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنی تقریر مکمل کی لیکن دوسرے دن جب مودی جی کی باری آئی تو وزیراعظم پاکستان، جنرل اسمبلی میں موجود نہیں تھے۔ عام طور پر مشاعروں میں ایسا ہوتا ہے جب کوئی شاعر اپنی غزل تو سنا دے اور اپنے رقیب شاعر کی غزل سنے بغیر مشاعرہ گاہ سے چلا جاتا ہے۔ مودی جی سوچتے تو ہوں گے کہ کیا یہ وہی نواز شریف ہیں کہ جنہوں نے مجھے 6ستمبر (یوم دفاع پاکستان) کو آموں کا تحفہ بھجوا کر ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کی تلخیوں کو بھلانے کا تاثر دیا تھا؟
جن لوگوں نے دنیا کے مختلف نیوز چینلوں پر مئی میں شری نریندر مودی کے بھارتی وزیراعظم کی حیثیت سے حلف وفاداری کی تقریب میں وزیراعظم نواز شریف کی شرکت اور ان کے وفد کے ارکان کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں سے ’’گھٹ گھٹ جپھیاں‘‘ ڈالتے دیکھا تھا اور جب دونوں وزرائے اعظم کی طرف سے ایک دوسرے کی والدہ صاحبہ (ماتا جی) کو شال اور ساڑھی کا تحفہ دینے کے مناظر دیکھے ہوں گے وہ کیا سوچتے ہوں گے؟ وہ Performance تھی؟ یا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم پاکستان کی تقریر؟ لندن سے شائع ہونے ولے دو اردو روزناموں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم کی تقریر کو لیڈ سٹوری کے طور پر شائع کیا (مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیتے ہوئے)برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں اور کشمیری ،مسئلہ کے بارے میں بہت جذباتی ہیں (ان دونوں اخبارات میں پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا یہ بیان بھی شہ سرخیوں سے شائع ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجوں کی کسی بھی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا‘‘ جناب آصف زرداری کے پانچ سالہ دور میں مسئلہ کشمیر کے حل پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ وزیر اعظم نواز شریف کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ ’’عوام نے بھارت سے دوستی اور تجارت کرنے کیلئے مسلم لیگ ن کو ووٹ دیئے ہیں‘‘ حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ پاکستان کے عوام تو چاہتے ہیں کہ بھارت کے قبضے سے مقبوضہ کشمیر کو چھڑایا جائے۔
25 مئی 2014ء کو ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مجاہد تحریک پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا تھا کہ ’’ ہمیں اپنی صفوں میں موجود ان بھارتی شردھالیوں پر کڑی نظر رکھنا ہو گی جو مسئلہ کشمیر پس پشت ڈال کر ہمارے ازلی دشمن بھارت سے دوستی اور تجارت کا راگ الاپ رہے ہیں‘‘ ’’شردھالو‘‘ کا مطلب ہے عقیدت مند‘ مرید‘ مطیع اور فرمابردار، وزیر اعظم نواز شریف ، مودی جی کی تقریب حلف برداری کے لئے دلی گئے تو اپنے بیٹے حسین نواز کو بھی بھارت کے ایک ’’Business Tycoon‘‘ کا شردھالو بنانے کے لئے ساتھ لے گئے جناب مجید نظامی کے ’’ شہباز پاکستان‘‘ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل کی دعوت پر گئے تو سردار بادل کو گوالمنڈی لاہورکے ‘‘ بھٹورے‘‘ کھلانے کا وعدہ کر آئے۔
میاں شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’امرتسر سے ہجرت کے بعد میرے والد میاں محمد شریف صاحب نے  5ہزار روپے سے بھٹی لگائی تھی  پھراللہ تعالیٰ نے ہمارے خاندان پر اپنی برکتیں نازل کر دیں!!! … اس میں کوئی شک نہیں کہ شریف خاندان کو اللہ تعالیٰ نے بہت نوازا ہے۔ اب اس خاندان کے افراد کو وہی کچھ کرنا چاہئے، جو خلیفہ اسلام سوم حضرت عثمانؓ نے کیا تھا۔ آپؓ نے اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ غریب مسلمانوں بلکہ کفار کی فلاح کے لئے بھی وقف کر دیا تھا۔ عمران خان توخیر منتخب لیڈر ہیں اور ان کی پاکستان تحریک انصاف 11مئی 2013ء کے عام انتخابات میں ووٹوں کے لحاظ سے دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری تھی لیکن دور حاضر کے علامہ طاہر القادری کی طرف سے جب شریف خاندان پر کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں تو ان کے صاف شفاف جوابات کا بندوبست کیوں نہیں کیا جاتا؟۔
’’تجارت کو رکھو ہمیشہ عزیز!
تجارت سے بڑھ کر نہیں کوئی چیز!‘‘
سے سیاست اور حکمرانی نہیں چل سکتی ، گجرات کی سوہنی کمارن کا عاشق بلخ / بخارا شہزادہ عزت بیگ نے سوہنی کی قربت کے لئے تجارت شروع کی تھی۔ وہ ہر روز سوہنی کے والد کی دکان سے مہنگے داموں مٹی کے برتن خرید لاتا اسی بہانے سوہنی کا دیدار بھی کر لیتا تھا۔ پھر ان برتنوں کو سستے داموں بیچ کر پھر مہنگے برتن خرید نے سوہنی کے والد کی دکان پر پہنچ جاتا۔ اس طرح شہزادہ عزت بیگ نے ’’ مہینوال‘‘ بن کر عاشقوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوا لیا۔ وزیر اعظم نواز شریف پاکستان کے ازلی دشمن بھارت سے تجارت پر لعنت بھیجیں۔ سچے عاشقوں کی طرح دشمن کے قبضے سے مقبوضہ جموں کشمیر کو چھڑانے کے لئے جدوجہد کریں، ان کے منہ سے یہ گلہ اچھا نہیں لگتا کہ ’’ دیکھو جی ! مودی سرکار خارجہ سیکریٹریز کی سطح پر بھی مذاکرات کے لئے آمادہ نہیں؟‘‘۔